سعودی عرب میں پاکستانی فوجی دستے بڑھانے کا فیصلہ

 

 

 

 

مکہ دفاعی معاہدہ فعال ہوتے ہی پاکستان نے سعودی عرب میں تعینات اپنے فوجی دستوں کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ 5 اکتوبر کو سعودی شہر ریاض میں ہونے والے ایک ہنگامی اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے فوری فوجی تعیناتی پر اتفاق کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ کسی ایک ملک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔

 

ایسے میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ 7 اگست 2026 کو طے پانے والا مکہ دفاعی معاہدہ پہلی بار عملی طور پر فعال ہونے جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستانی فوج کا ایک دستہ رواں برس اپریل سے سعودی عرب میں تعینات ہے۔ تب سعودی وزارت دفاع نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان سے ایک فوجی دستہ شاہ عبدالعزیز فضائی اڈے پر پہنچ گیا ہے۔ سعودی وزارت دفاع نے بتایا تھا کہ پاکستانی دستے میں پاک فضائیہ کے لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں جن کی تعیناتی کا مقصد دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان مشترکہ عسکری ہم آہنگی مضبوط بنانا، جنگی تیاری کا معیار بلند کرنا اور علاقائی و عالمی سطح پر امن و استحکام کے فروغ میں تعاون کرنا تھا۔

 

اب مکہ دفاعی معاہدے کو فعال کرنے کے فیصلے کے بعد سعودی عرب میں پاکستانی فوجی دستوں اور لڑاکا طیاروں کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ سعودی عرب کو درپیش بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات قرار دی جا رہی ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اگرچہ یمن یا حوثیوں کا نام نہیں لیا گیا تاہم مکہ اور مدینہ پر ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو فعال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان نے اجلاس کے بعد سوشل میڈیا پر کہا کہ مکہ دفاعی اتحاد کی سٹریٹجک اور دفاعی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ موقف کی توثیق کی ہے۔ اسکے علاوہ ان حملوں کے خلاف اجتماعی جواب دینے کا بھی اعادہ کیا گیا یے۔

 

اعلامیے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ افواج کی تعیناتی تینوں ممالک کے قومی قوانین کے تحت ہوگی، جس سے اس دفاعی انتظام کے عملی دائرہ کار اور آئینی و قانونی طریقہ کار سے متعلق اہم سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ مکہ دفاعی معاہدے کو فعال کرنے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کی سعودی حمایت یافتہ افواج نے ان علاقوں پر دوبارہ قبضے کے لیے بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن شروع کر رکھا ہے جن پر حوثیوں نے گزشتہ 12 سالہ جنگ کے دوران قبضہ کیا۔ تاہم پاکستان مسلسل واضح کرتا آیا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کا مقصد کسی ملک کے خلاف جارحیت نہیں بلکہ سعودی عرب اور حرمین شریفین سمیت رکن ممالک کے دفاع کے لیے مشترکہ ڈھال فراہم کرنا ہے۔

 

پاکستانی وزارت اطلاعات نے واضح کیا ہے کہ پاکستان حرمین شریفین اور سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے اپنا عزم پہلے ہی انتہائی واضح کر چکا ہے اور اس معاملے پر کسی قسم کی سودے بازی کی گنجائش نہیں۔ گزشتہ ماہ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھی کہا تھا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ دفاعی معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے، اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہوتا ہے تو تینوں ممالک مل کر فیصلہ کریں گے، تاہم معاہدے کی آپریشنل تفصیلات ظاہر نہیں کی جا سکتیں۔

دوسری جانب گزشتہ ہفتے خبر رساں ادارے روئٹرز نے پاکستانی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے سعودی عرب میں 30 ہزار فوجی تعینات کیے ہیں۔

 

تاہم پاکستانی وزارت اطلاعات نے کہا ہے کہ اجتماعی دفاعی صلاحیت کو عملی جامہ پہنانے سے متعلق تفصیلات آپریشنل رازداری کا تقاضہ کرتی ہیں اور انہیں میڈیا میں قیاس آرائیوں کا موضوع نہیں بنانا چاہیے۔ اس تناظر میں سعودی عرب میں پاکستانی دستوں کی حقیقی تعداد اور اضافے کی تفصیلات سرکاری طور پر ظاہر نہیں کی گئی ہیں۔

ترقی پانے والے جرنیلوں کو کون سے اہم عہدے ملنے والے ہیں؟

مکہ دفاعی معاہدے کے فعال ہونے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ پاکستان مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے جبکہ ترکیہ نیٹو کا رکن ملک ہے اور دونوں ممالک سعودی عرب کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ دفاعی فریم ورک کا حصہ بن رہے ہیں۔ اپریل 2015 میں پاکستانی پارلیمنٹ نے یمن کے حوثیوں کے خلاف سعودی قیادت میں قائم اتحاد میں فوجی شمولیت کی تجویز مسترد کرتے ہوئے پاکستان کو یمن تنازع میں غیر جانب دار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم موجودہ مکہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب اور حرمین شریفین کے دفاع کو مشترکہ ذمہ داری قرار دیتا ہے اور اس کا عملی فعال ہونا خطے میں بدلتے ہوئے سکیورٹی منظرنامے میں پاکستان کے کردار کو نئی اہمیت دے رہا ہے۔

Back to top button