لانگ مارچ میں موجود مسلح قبائلیوں کا ایجنڈا کیا ہے؟

 

 

 

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں اسلام آباد کی جانب بڑھتے لانگ مارچ میں قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے مسلح افراد کی موجودگی نے ایجنسیوں کے ان خدشات کو کنفرم کر دیا ہے کہ احتجاجی مظاہرین خون خرابے کی نیت سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

 

انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی کے قافلے میں موجود کم از کم 250 مسلح افراد موجود ہیں، جن میں سے درجنوں ماضی میں شدت پسند گروہوں سے وابستہ رہے ہیں اور دہشت گردی کی کاروائیوں میں بھی حصہ ڈالتے رہے ہیں۔ یہ اطلاعات اس خدشے کو تقویت دے رہی ہیں کہ احتجاج کی آڑ میں وفاقی دارالحکومت میں لا اینڈ آرڈر کی صورت حال خراب کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

 

انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے احتجاجی قافلے میں موجود زیادہ تر مسلح افراد کا تعلق آفریدی قبیلے سے ہے۔ سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں بھی لانگ مارچ کے بعض شرکا کو چھوٹے ہتھیاروں اور بڑی رائفلز سمیت مختلف ہتھیاروں سے لیس دیکھا گیا ہے۔

 

انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق لانگ مارچ کے مسلح شرکاء کی ویڈیوز اور تصاویر حاصل کر کے ان کا ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے تاکہ ان کی شناخت کی جا سکے ۔ انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ ہتھیار کے ساتھ نظر آنے والے افراد میں سے ایک کی شناخت تحریک طالبان سے تعلق رکھنے والے گل بہادر گروپ کے اہلکار شہیداللہ عرف غازی کے طور پر ہوئی ہے، جو کہ مکین کا رہائشی ہے۔ ذرائع کے مطابق شہیداللہ عرف غازی متعدد دہشت گرد حملوں میں حصہ لے چکا ہے، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب ہے۔

 

لانگ مارچ میں مسلح افراد کی  موجودگی نے سکیورٹی صورتحال کو اس لیے بھی حساس بنا دیا ہے کہ سیاسی احتجاج میں اسلحے کی موجودگی نہ صرف امن و امان کے لیے خطرہ بن سکتی ہے بلکہ کسی ناخوشگوار واقعے کا موجب بھی بن سکتی ہے۔ یاد رہے کہ 26 نومبر 2024 کو بھی اسلام آباد دھرنے کے موقع پر وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی فورسز اور احتجاجیوں کے مابین جھڑپوں کے نتیجے میں کئی لوگ مارے گئے تھے جن میں سے پانچ پولیس اہلکار تھے۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ مرنے والے پولیس اہلکاروں میں سے تین کو گولیاں ماری گئی تھیں۔

 

یاد رہے کہ حکومت اور اپوزیشن نمائندوں کے مابین مذاکرات ناکام ہونے کے بعد سہیل آفریدی کی زیر قیادت لانگ مارچ اسلام اباد کی جانب گامزن ہے اور مظاہرین 8 نومبر کو وفاقی دارالحکومت میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں، دوسری طرف وفاقی حکومت امن و امان برقرار رکھنے اور اسلام آباد کو کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے محفوظ رکھنے کے لیے سکیورٹی اقدامات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اگر مظاہرین نے اسلام اباد میں داخل ہو کر شر پھیلانے کی کوشش کی تو ان کے خلاف آہنی ہتھکنڈے استعمال کیے جائیں گے۔ اس صورتحال میں خیبر پختون خوا کی سیاسی صورتحال بھی مزید حساس ہوگئی ہے۔

لانگ مارچ پرتشدد ہوتے ہی KP حکومت لپیٹ دی جائے گی

وفاقی سطح پر صوبے میں ممکنہ آئینی اقدامات، جن میں گورنر راج یا ہنگامی صورتحال کے مختلف راستے شامل ہیں، پر غور کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ تاہم ایسے کسی بھی اقدام کے لیے آئینی، قانونی اور سیاسی تقاضوں کا جائزہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور کسی بھی فیصلے کے دور رس اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

 

یوں سہیل آفریدی کی قیادت میں جاری لانگ مارچ اب صرف سیاسی احتجاج کا معاملہ نہیں رہا بلکہ اس کے ساتھ سکیورٹی، قانونی اور وفاقی و صوبائی تعلقات کے اہم سوالات بھی جڑ گئے ہیں۔ اگر مارچ میں مسلح افراد اور مشتبہ دہشت گرد عناصر کی موجودگی سے متعلق اطلاعات تحقیقات میں درست ثابت ہوتی ہیں تو اسلام آباد میں امن و امان برقرار رکھنا وفاقی حکومت کے لیے بڑا چیلنج بن سکتا ہے، جبکہ پی ٹی آئی کے لیے بھی اپنے احتجاج کو پرامن سیاسی دائرے میں رکھنے کا امتحان ہوگا۔

Back to top button