افغان طالبان قیادت کے وارنٹ گرفتاری: پاکستان کی جیت

انٹرنیشنل کریمنل کورٹ نے تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد نیٹ ورک کی پشت پناہی کرنے والے افغان طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں، آئی سی سی کے فیصلے نے دراصل پاکستان کے اس مؤقف کی تائید کی ہے کہ افغانستان میں برسرِ اقتدار طالبان حکومت نہ صرف خواتین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزیاں کر رہی ہے بلکہ پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے تحریک طالبان کے جنگجوؤں کو بھی پناہ اور معاونت فراہم کرتی ہے۔

انٹرنیشنل کریمنل کورٹ نے افغان طالبان کے چار مرکزی رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے نہ صرف ان پر انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے، بلکہ پاکستان کے اس موقف کو بھی تقویت فراہم کی ہے کہ افغانستان مسلسل ٹی ٹی پی کی سرپرستی کر رہا ہے۔ بین الاقوامی جرائم کی عدالت نے طالبان کے امیر ہیبت اللہ اخوندزادہ، طالبان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی، سابق وزیر تعلیم حبیب اللہ آغا اور موجودہ وزیر تعلیم ندا محمد ندیم کی گرفتاری کے لیے وارنٹ جاری کیے ہیں۔

بین الاقوامی عدالت نے قرار دیا ہے کہ ایسے معقول شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان رہنماؤں نے انسانیت کے خلاف جرائم کے احکامات دینے، ان کی ترغیب دینے یا حوصلہ افزائی کرنے میں مجرمانہ کردار ادا کیا۔ آئی سی سی نے ان اقدامات کو روم اساس نامے کے تحت انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا ہے۔ یاد ریے کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان ٹی ٹی پی کے معاملے پر پہلے ہی شدید اختلافات موجود ہیں۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے جنگجو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں استعمال کر رہے ہیں اور افغان طالبان ان کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے کے بجائے انہیں سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ پاکستانی حکام کئی بار کہہ چکے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد پاکستان نے قندھار میں طالبان کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، تاہم افغان طالبان نے اس نوعیت کی کارروائیوں کی مخالفت اور اپنے علاقوں پر حملوں کی مذمت کی ہے۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق ٹی ٹی پی کے جنگجو افغان طالبان کی قیادت کو اپنا نظریاتی اور مذہبی حوالہ سمجھتے ہیں اور ملا ہبت اللہ اخوندزادہ کو اپنا امیر تسلیم کرتے ہیں۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ یہی تعلق اس بات کی اہم وجہ ہے کہ ٹی ٹی پی کے خلاف افغانستان میں فیصلہ کن کارروائی نہیں کی جا رہی۔ دوسری جانب افغان طالبان پاکستان کے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیتے۔ اس تناظر میں آئی سی سی کا طالبان کی اعلیٰ قیادت کے خلاف اقدام دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے جاری کشیدگی کے پس منظر میں مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

آئی سی سی کے مطابق طالبان کی پالیسیوں کے نتیجے میں خواتین اور لڑکیوں کو ان کی جنس کی بنیاد پر منظم ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا۔ عدالت نے کہا کہ طالبان کے احکامات اور فتووں کے ذریعے خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم، نجی اور خاندانی زندگی، نقل و حرکت، اظہارِ رائے، فکر، ضمیر اور مذہب کی آزادی جیسے بنیادی حقوق سے بڑی حد تک محروم کیا گیا۔ عالمی عدالت کے مطابق ان پالیسیوں سے ایسے افراد کو بھی نشانہ بنایا گیا جن کی صنفی شناخت یا اظہار طالبان کی پالیسیوں سے مطابقت نہیں رکھتا تھا یا جنہیں خواتین اور لڑکیوں کا حامی تصور کیا جاتا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ صنفی بنیاد پر ظلم و ستم کا دائرہ صرف براہ راست جسمانی تشدد تک محدود نہیں بلکہ منظم اور ادارہ جاتی سطح پر پہنچایا جانے والا نقصان بھی اس میں شامل ہو سکتا ہے۔ ججوں کے مطابق امتیازی سماجی اقدار اور اصولوں کا سرکاری سطح پر نفاذ بھی اس نوعیت کے جرائم کا حصہ بن سکتا ہے۔ آئی سی سی کے مطابق جن جرائم کی بنیاد پر وارنٹ جاری کیے گئے، ان کا سلسلہ 15 اگست 2021 کو طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد شروع ہوا اور کم از کم 20 جنوری 2025 تک جاری رہا۔

ملا ہبت اللہ اخوندزادہ کے وارنٹ گرفتاری آئی سی سی کے فیصلے کا اہم ترین حصہ قرار دیے جا رہے ہیں کیونکہ وہ طالبان کے موجودہ امیر اور افغانستان کی سیاسی و مذہبی پالیسیوں کے حتمی فیصلہ ساز سمجھے جاتے ہیں۔ وہ 2016 میں طالبان کے سربراہ بنے اور 2021 میں امریکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان کی اعلیٰ ترین مذہبی و سیاسی قیادت سنبھالے ہوئے ہیں۔ وہ طویل عرصے سے منظر عام سے دور رہے ہیں اور ان کی عوامی موجودگی انتہائی محدود ہے، تاہم طالبان حکومت کے اہم احکامات اور پالیسیوں کو ان کی قیادت سے منسلک کیا جاتا ہے۔

ادھر افغان طالبان نے آئی سی سی کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کو تسلیم نہیں کرتے۔ طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغانستان ایسی کسی عدالت کو تسلیم نہیں کرتا اور نہ ہی اس کے فیصلوں کو کوئی اہمیت دیتا ہے۔ ان کے مطابق طالبان رہنماؤں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا جس کی بنیاد پر کسی عدالت کی جانب سے ان کی گرفتاری یا سزا کا حکم دیا جائے۔ طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ وہ بین الاقوامی اداروں کے بجائے اسلامی شریعت اور اپنی عدالتوں کے فیصلوں کو تسلیم کرتی ہے۔

Back to top button