ڈائیلاگ بغیر کسی شرط کے ہونے چاہئیں، بیرسٹر گوہرکاوزیراعظم کوجواب

چیئرمین پی ٹی آئی  بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے مذاکرات کی مشروط پیشکش کی ہے، مذاکرات ضرور ہونے چاہئیں مگر کسی شرط کے بغیر ہونے چاہئیں۔

بیرسٹرگوہرکامیڈیا سے بات کرتے ہوئےکہنا تھا کہ ذاکرات پر بیٹھنا آسان نہیں تھا، ہم بڑی مشکل سے بیٹھے تھے، اٹھنا نہیں چاہیے تھا، جس نے بھی کہا چلیں ختم کریں، ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا، ہم اپنی طرف سے بیٹھے رہے،  مذاکرات ختم ہونے کے بعد باہر آکر بیانات  بڑا غلط عمل تھا اس سے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے، ملک، قوم اور جمہوریت کے لیے مذاکرات کا کامیاب ہونا بڑا ضروری ہے۔

انہوں ںے کہا کہ اس وقت صوبے  کے حالات بڑے سنگین ہیں ملک اس وقت غیر آئینی، غیر قانونی اور عوام کی مرضی کے بغیر صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا،  ہر حال میں مذاکرات کے ذریعے بہتری کی طرف جانا چاہیے۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہرکاکہنا تھا کہ گورنر راج، ایمرجنسی نہیں ہونی چاہیے، چیزیں اچھے طریقے سے حل  ہونی چاہئیں، ہمارے مطالبات بہت سادہ  تھے، بانی سے ملاقات، بشریٰ بی بی سے ملاقات، بانی پی ٹی آئی کے بلڈ پریشر اور ان کے ڈاکٹر کی ملاقات میں چلتے چلتے ذکر ہوا تھا یہ کہنا مناسب نہیں کہ باہر جا کر بتانے سے منع کیا گیا تھا۔

انہوں ںے کہا کہ ڈاکٹر اگست میں آیا تھا اور اس نے معائنہ کیا تھا، میں نے پارٹی کے خاص لوگوں اور فیملی کو بھی بتایا تھا۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وزیراعظم نے مذاکرات کی مشروط پیشکش کی ہے ہم نے پہلے ہی فیصلہ کیا تھا کہ حکومت کی طرف سے پیشکش آئے گی تو ہم غیر مشروط  ہو کر بیٹھیں گے، سیاسی معاملات میں بغیر کسی شرط کے لوگ بیٹھتے ہیں، بات چیت کرتے ہیں اور حل نکلنے تک بات چیت جاری رکھنی چاہیے، مذاکرات ہونے چاہئیں اور بغیر کسی شرط  کے ہونے چاہئیں۔

 

 

Back to top button