لانگ مارچ پرتشدد ہوتے ہی KP حکومت لپیٹ دی جائے گی

وفاقی حکومت نے اصولی طور پر فیصلہ کرلیا ہے کہ اگر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں اسلام آباد کی جانب بڑھنے والے لانگ مارچ کے شرکا نے ماضی کی طرح قانون ہاتھ میں لینے یا پرتشدد رویہ اختیار کرنے کی کوشش کی تو خیبر پختون خواہ کی صوبائی حکومت فوری طور پر لپیٹ دی جائے گی۔
باخبر حکومتی حلقوں کے مطابق سہیل آفریدی کی حکومت کے خاتمے کے لیے آئینی راستہ طے کرلیا گیا ہے اور یہ ’ترپ کا پتہ‘ وقت آتے ہی استعمال کر لیا جائے گا۔
حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے، وزیراعلیٰ آفریدی کی قیادت میں لانگ مارچ شروع ہونے اور وفاق و خیبر پختون خوا حکومت کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے بعد وفاق میں آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ کے آپشن پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے۔ گورنر راج کے بجائے ایمرجنسی کو ترجیح دینے کی ایک وجہ صوبے کے انتظامی معاملات میں گورنر کے ممکنہ مرکزی کردار سے متعلق تحفظات بھی بتائے جاتے ہیں۔ تاہم ایمرجنسی کا نفاذ محض سیاسی فیصلہ نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے آئین میں مقررہ شرائط اور طریقۂ کار پر عملدرآمد ضروری ہوگا۔
یاد رہے کہ خیبرپختونخوا میں غیر معمولی آئینی ایکشن مذاکرات سے پہلے ہی زیر غور تھا، لیکن پیپلز پارٹی کی خواہش پر سیاسی عمل کو ایک اور موقع دیا گیا۔ فریقین کے درمیان بات چیت کے دوران ایک مرحلے پر اتفاق رائے کے امکانات پیدا ہوئے، تاہم حتمی معاہدہ نہ ہوسکا۔ موجودہ صورتحال میں لانگ مارچ کی رفتار اور اس کے دوران امن و امان کا معاملہ فیصلہ کن حیثیت اختیار کرگیا ہے۔ پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کو لکی مروت سے مارچ کا آغاز کرتے ہوئے مختلف اضلاع سے قافلوں کی صورت میں آگے بڑھنے کا اعلان کیا تھا۔ اگر احتجاج پرامن رہتا ہے اور سیاسی رابطوں کی بحالی کی کوئی صورت نکلتی ہے تو وفاقی حکومت فوری اقدام سے گریز کرسکتی ہے، لیکن ریاستی املاک پر حملوں، سکیورٹی اداروں سے تصادم یا بڑے پیمانے پر قانون شکنی کی صورت میں خیبرپختونخوا حکومت کے خلاف کارروائی کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق آئینی طور پر گورنر راج اور ایمرجنسی دو مختلف راستے ہیں۔ آرٹیکل 232 کے تحت مخصوص سنگین حالات میں صدر مملکت ایمرجنسی نافذ کرسکتے ہیں، تاہم داخلی بدامنی کی بنیاد پر اس اقدام کے لیے آئینی شرائط پوری کرنا ہوں گی اور متعلقہ پارلیمانی تقاضے بھی اہم ہوں گے۔ ایمرجنسی کی صورت میں صوبائی اسمبلی فوری طور پر تحلیل نہیں ہوتی، البتہ وفاقی اختیارات اور قانون سازی کے دائرے میں نمایاں تبدیلیاں آسکتی ہیں۔ یہی پہلو اسے گورنر راج سے مختلف انتظامی راستہ بناتا ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سیاسی اور قانونی صورتحال بھی بحران کی ایک اہم کڑی ہے۔ ان کے خلاف درج مقدمات اور الیکشن کمیشن بارے ایک معاملے کا حوالہ دیا جارہا ہے، جن میں کسی فیصلے کا ان کے سیاسی مستقبل پر اثر پڑسکتا ہے۔ تاہم عدالت یا متعلقہ آئینی ادارے کے حتمی فیصلے کے بغیر ان کی نااہلی کو حتمی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اسی طرح بیرونی عناصر کے اثر و رسوخ اور افغانستان یا تحریک طالبان پاکستان سے روابط کے حوالے سے بھی الزامات سامنے آتے رہے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
قانونی حلقوں کے مطابق ایمرجنسی نافذ ہونے کی صورت میں خیبرپختونخوا کے انتظامی معاملات چلانے کے طریقہ کار کا سوال اہم ہو گا۔ اس وقت سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک کا نام ممکنہ انتظامی ذمہ داری کے لیے زیر بحث ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ وفاق کے لیے اصل چیلنج ایسا انتظامی بندوبست قائم کرنا ہوگا جو ایک طرف آئینی تقاضوں سے ہم آہنگ ہو اور دوسری طرف صوبے میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی اور امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھ سکے۔
ادھر تحریک انصاف کے لیے بھی لانگ مارچ ایک بڑے سیاسی امتحان میں تبدیل ہوگیا ہے۔ لانگ مارچ کو کس حد تک آگے بڑھانا ہے اور اس دوران پارٹی کارکنان کا طرزعمل کیسا رہتا ہے، یہ عوامل بحران کی سمت متعین کریں گے۔ پرامن احتجاج اور مذاکرات کی بحالی وفاقی حکومت کے لیے بھی دباؤ کم کرسکتی ہے، جبکہ تصادم یا قانون شکنی کی صورت میں صوبائی حکومت کے خلاف آئینی کارروائی کا جواز پیدا کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔
سہیل آفریدی لانگ مارچ میں اکیلے کیوں پڑنے لگے؟
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق خیبرپختونخوا کا بحران اب محض وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان سیاسی اختلاف نہیں رہا بلکہ امن و امان، دہشت گردی، صوبائی خودمختاری، وفاقی اختیار اور آئینی حدود کے بنیادی سوالات سے جڑ چکا ہے۔ آنے والے دنوں میں لانگ مارچ کی رفتار، احتجاج کا طرزعمل، مذاکرات کی بحالی اور صوبے کی مجموعی صورتحال فیصلہ کرے گی کہ معاملہ سیاسی حل کی طرف جاتا ہے یا وفاق آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی سمیت کسی غیر معمولی اقدام کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ وفاقی حکومت نے بظاہر تمام آپشنز تیار رکھے ہیں، تاہم فوری فیصلہ لانگ مارچ کے دوران پیدا ہونے والی صورتحال ہی سے مشروط دکھائی دیتا ہے۔
