ایمرجنسی لگی تو پی ٹی آئی کی حرکتوں کی وجہ سے لگے گی: وفاقی وزیر

 

 

 

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ اگر خیبرپختونخوا میں اگر ایمرجنسی لگتی ہے تو وہ پی ٹی آئی حکومت کی حرکتوں کی وجہ سے لگے گی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا دہشت گردی کے خلاف پالیسی میں تعاون نہ کرنے کا مؤقف بھی تشویشناک ہے۔

وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے پی ٹی آئی کو دھمکی نہیں دی بلکہ مسائل کا حل بتایا ہے۔

طارق فضل چوہدری نے کہاکہ مذاکرات کے دوران حکومت نے ایک بار بھی لانگ مارچ ملتوی کرنے کا مطالبہ نہیں کیا،بات چیت کا آغاز خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے مسئلے سے کیاگیا تھا۔

گورنر راج کی صرف دھمکیاں ہیں، حکومت میں ایسا کرنے کی ہمت نہیں: جنید اکبر

انہوں نے کہاکہ حکومت نے مذاکرات میں مؤقف اختیار کیاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبائی حکومت کا تعاون نہیں مل رہا۔پی ٹی آئی وفد نے جواب دیاکہ ان کے پاس مینڈیٹ نہیں،وہ صوبائی حکومت سے بات کریں گے،تاہم اب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کہہ رہے ہیں کہ دہشت گردی کےخلاف پالیسی میں تعاون نہیں کریں گے۔

وفاقی وزیر کاکہنا تھاکہ خیبرپختونخوا دہشت گردی سے بری طرح متاثر ہے اور وہاں دہشت گردوں کے ہاتھوں لوگ مررہے ہیں، ایسے میں صوبائی حکومت کا دہشت گردی کے خلاف تعاون نہ کرنے کا مؤقف تشویش ناک ہے۔

انہوں نے کہاکہ اگر خیبرپختونخوا میں سیاسی جماعتوں نے کوئی قرارداد منظور کی ہے تو وہ قابل احترام ہے،تاہم پی ٹی آئی قیادت کو کبھی دہشت گردی کی مذمت کرتےنہیں سنا۔

طارق فضل چوہدری نے مزید کہاکہ اگر ایمرجنسی لگتی ہےتو وہ پی ٹی آئی حکومت کی حرکتوں کی وجہ سے لگے گی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مذاکرات میں کیوں نہیں آئے؟مذاکرات میں پہلا نکتہ ہی یہ تھاکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا یا مینا خان کو مذاکرات میں موجود ہونا چاہیے۔

 

Back to top button