جنگ کے خاتمے کےلیے ایران کو یورینیم افزودگی کم کرنا ہوگی: جے ڈی وینس

امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ جنگ ختم کرنے کےلیے ایران کو یورینیم افزودگی میں واضح اور قابلِ ذکر کمی کرنا ہوگی،امریکا محض مستقبل میں جوہری پروگرام محدود کرنے کی یقین دہانیوں پر اکتفا نہیں کرے گا۔
خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کا کہنا تھاکہ امریکا ایران سے عملی اقدامات چاہتا ہے۔اگر تہران کا جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں تو اسے 60 فیصد افزودہ ایندھن کی ضرورت کی وضاحت کرنا ہوگی اور انتہائی افزودہ مواد کی تیاری روکنے کےلیے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔
جے ڈی وینس نے کہاکہ امریکا ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ مذاکرات کررہا ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ ایرانی نظام میں حتمی فیصلے کس سطح پر کیے جاتے ہیں۔
امریکی نائب صدر نے کہاکہ امریکا معاہدے کےلیے تیار ہے لیکن ایران کو جوہری پروگرام سے متعلق ٹھوس جواب دینا ہوگا،آبنائے ہرمز میں ایرانی فورسز کبھی کبھار تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں تاہم وہ بڑے پیمانے پر توانائی کی برآمدات روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکیں۔
جے ڈی وینس نے کہاکہ جنگ پر امریکا کے ہرماہ 3 ارب ڈالر خرچ ہورہے ہیں جب کہ بڑھتی توانائی قیمتیں ٹرمپ انتظامیہ اور ریپبلکن پارٹی کےلیے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل سیاسی دباؤ کا باعث بن رہی ہیں۔
