آفریدی کنٹینر پر، خیبرپختونخوا کے عوامی مسائل حل کون کرے گا؟

خیبرپختونخوا ایک ایسے وقت میں سنگین انتظامی، معاشی، تعلیمی اور امن و امان کے مسائل سے دوچار ہے جب صوبائی حکومت کی توجہ کا بڑا حصہ سیاسی احتجاج اور لانگ مارچ پر مرکوز دکھائی دیتا ہے۔ 4 اکتوبر کو لکی مروت سے شروع ہونے والا پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ کرک، کوہاٹ اور پشاور سے ہوتا ہوا قبائلی ضلع خیبر تک پہنچ چکا ہے، لیکن اس سیاسی سرگرمی کے ساتھ ایک بنیادی سوال بھی شدت اختیار کر گیا ہے: صوبے کی حکومت میں موجود ذمہ داران جب سڑکوں پر سیاسی تحریک کی قیادت کر رہے ہیں تو خیبرپختونخوا کے روزمرہ اور دیرینہ مسائل کون حل کرے گا؟
احتجاج کرنا پاکستان تحریک انصاف کا آئینی اور قانونی حق ہے، اور کسی بھی سیاسی جماعت کو اپنے سیاسی مطالبات کے لیے پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے۔ لیکن خیبرپختونخوا میں صورتحال اس لیے مختلف ہے کہ یہی جماعت صوبے میں حکومت بھی کر رہی ہے۔ حکومت میں آنے کے بعد سیاسی جماعت صرف احتجاج کرنے والی قوت نہیں رہتی بلکہ اس پر عوام کو امن، تعلیم، صحت، روزگار، صنعت، بہتر انتظامیہ اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی آئینی و انتظامی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں صوبائی حکومت کی سیاسی ترجیحات اور عوامی مسائل کے درمیان توازن کا سوال پیدا ہوتا ہے۔
خیبرپختونخوا کا سب سے بڑا اور فوری مسئلہ امن و امان ہے۔ صوبہ گزشتہ کئی برس سے دہشتگردی کی لہر کا سامنا کر رہا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر شہریوں، سکیورٹی اہلکاروں اور پولیس کو درپیش خطرات نے معمول کی زندگی، کاروبار اور سرمایہ کاری کو متاثر کیا ہے۔ ایسے میں صوبائی حکومت سے یہ سوال بجا طور پر پوچھا جا سکتا ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے، پولیس کی استعداد بڑھانے، متاثرہ علاقوں میں ریاستی رٹ مضبوط کرنے اور دیرپا امن کے قیام کے لیے اس کی اپنی سطح پر کیا واضح اور قابل پیمائش حکمت عملی ہے؟ اگر سیاسی مطالبات کے لیے لانگ مارچ کیا جا سکتا ہے تو امن کے لیے بھی اسی درجے کی سیاسی اور انتظامی ترجیح کیوں نظر نہیں آتی؟
اس کے بعد گڈ گورننس کا سوال آتا ہے۔ حکومت کی اصل کارکردگی کا اندازہ صرف سیاسی بیانات یا احتجاجی سرگرمیوں سے نہیں بلکہ سرکاری اداروں کی کارکردگی، انتظامی فیصلوں، شفافیت، عوامی خدمات اور وسائل کے مؤثر استعمال سے ہوتا ہے۔ صوبے کے شہری یہ جاننا چاہتے ہیں کہ حکومت کے دفاتر، ہسپتال، اسکول، بلدیاتی ادارے اور دیگر سرکاری محکمے کس حد تک مؤثر انداز میں کام کر رہے ہیں اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کیا بہتری آئی ہے۔
معیشت اور روزگار کی صورتحال بھی تشویش ناک ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 20 برس کے دوران خیبرپختونخوا میں امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث 530 سے زیادہ چھوٹے بڑے صنعتی یونٹس بند ہو چکے ہیں، جبکہ صوبے میں بڑے پیمانے کی صنعت کا فقدان برقرار ہے۔ سرحد چیمبر آف کامرس کے مطابق اس صورتحال کے نتیجے میں 20000 سے زیادہ افراد روزگار سے محروم ہوئے۔ یہ اعداد محض کاروباری نقصان کی نشاندہی نہیں کرتے بلکہ اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ صوبے کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا کس قدر بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
سوال یہ ہے کہ صنعتوں کی بحالی، نئی سرمایہ کاری لانے، صنعتی زونز کو فعال بنانے اور نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا کرنے کے لیے صوبائی حکومت کی طویل مدتی حکمت عملی کیا ہے؟ اگر صوبے میں سیاسی سرگرمیوں کے لیے حکومتی مشینری اور وقت متحرک ہو سکتا ہے تو معاشی بحالی کے لیے بھی اسی نوعیت کی سنجیدہ اور مسلسل کوشش نظر آنی چاہیے۔
تعلیم کا شعبہ بھی کسی فوری توجہ کا محتاج ہے۔ خیبرپختونخوا کی 34 سرکاری جامعات میں سے آدھے سے زیادہ مالی اور انتظامی بحران کا شکار ہونے کی اطلاعات ہیں۔ جامعات کا مالی بحران صرف بجٹ کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ صوبے کے نوجوانوں کے مستقبل، تحقیق، اعلیٰ تعلیم اور انسانی وسائل کی ترقی سے براہ راست جڑا ہوا معاملہ ہے۔ اگر جامعات اپنے مالی اخراجات پورے کرنے میں مشکلات کا شکار ہوں، اساتذہ اور ملازمین کو مسائل کا سامنا ہو اور تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوں تو اس کا اثر آنے والی پوری نسل پر پڑتا ہے۔
اس سے بھی زیادہ تشویش ناک مسئلہ اسکولوں سے باہر بچوں کی تعداد ہے۔ مختلف سرکاری رپورٹس کے مطابق خیبرپختونخوا میں 49 لاکھ سے زیادہ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ یہ تعداد صوبے کے تعلیمی نظام کے سامنے موجود ایک بہت بڑے چیلنج کی نشاندہی کرتی ہے۔ ان بچوں کو اسکولوں میں واپس لانا، نئے اسکول قائم کرنا، موجودہ اسکولوں میں سہولیات فراہم کرنا اور اساتذہ کی دستیابی یقینی بنانا کسی بھی حکومت کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔
صوبے کے مالی حقوق بھی ایک اہم مسئلہ ہیں۔ وفاق کے ذمے پن بجلی کی مد میں خیبرپختونخوا کے 80 ارب روپے سے زیادہ کے بقایاجات کا معاملہ طویل عرصے سے زیر بحث ہے۔ یہ رقم صوبائی حکومت کے لیے مالی وسائل کا ایک اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان واجبات کی وصولی کے لیے سیاسی بیانات اور خط و کتابت کے علاوہ کیا ایسی نتیجہ خیز حکمت عملی اختیار کی گئی ہے جس سے صوبے کو عملی طور پر اس کا حق مل سکے؟ صوبائی حکومت اگر اپنے مالی حقوق کے لیے مؤثر سیاسی اور آئینی جدوجہد کرتی ہے تو اسے عوام کے سامنے اس کی پیش رفت بھی واضح کرنی چاہیے۔
قبائلی اضلاع کا معاملہ بھی اپنی جگہ انتہائی اہم ہے۔ 2018 میں انضمام کے وقت قبائلی اضلاع کی ترقی کے لیے سالانہ 100 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈ کی تجویز سامنے آئی تھی۔ لیکن کئی سال گزرنے کے باوجود ان علاقوں میں بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت، روزگار اور دیگر سہولیات کے حوالے سے بڑے مسائل برقرار ہیں۔ ان علاقوں کے عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان کے لیے وعدہ کیے گئے وسائل کہاں ہیں، کتنے فنڈز موصول ہوئے، کہاں خرچ ہوئے اور مستقبل میں ان کے حقوق کے حصول کے لیے صوبائی حکومت کا منصوبہ کیا ہے۔
یہ تمام مسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ دہشتگردی صنعت کو متاثر کرتی ہے، صنعت کی بندش روزگار کم کرتی ہے، روزگار کی کمی نوجوانوں کو متاثر کرتی ہے، تعلیمی پسماندگی انسانی وسائل کو محدود کرتی ہے اور کمزور معیشت حکومت کے لیے ترقیاتی منصوبوں کو مشکل بنا دیتی ہے۔ اس لیے خیبرپختونخوا کے مسائل کو صرف ایک سیاسی یا انتظامی مسئلے کے طور پر نہیں بلکہ ایک جامع صوبائی بحران کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔
یہاں بنیادی سوال احتجاج کے حق سے زیادہ حکومتی ترجیحات کا ہے۔ سیاسی جماعت کا احتجاج کرنا جمہوری حق ہے، لیکن حکومت میں موجود جماعت کے لیے یہ بھی لازم ہے کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داریوں سے غافل نہ ہو۔ عوام نے حکومت کو صرف سیاسی سرگرمیوں کے لیے نہیں بلکہ اپنے مسائل حل کرنے، امن قائم کرنے، تعلیم بہتر بنانے، روزگار پیدا کرنے اور معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے منتخب کیا ہے۔
اگر وزیراعلیٰ اور صوبائی کابینہ سیاسی تحریک میں مصروف ہیں تو سرکاری امور کی نگرانی، انتظامی فیصلوں اور عوامی مسائل کے حل کا مؤثر نظام بھی واضح ہونا چاہیے۔ کیونکہ عوام کے لیے یہ سوال اہم ہے کہ سیاسی احتجاج ختم ہونے کے بعد بھی ان کے اسکول، ہسپتال، صنعت، روزگار، سڑکیں، بجلی، امن اور مالی حقوق کے مسائل کون حل کرے گا؟
خیبرپختونخوا کو اس وقت نعروں سے زیادہ پالیسی، احتجاج سے زیادہ انتظام، سیاسی محاذ آرائی سے زیادہ حکمرانی اور وعدوں سے زیادہ عملی نتائج کی ضرورت ہے۔ لانگ مارچ اپنی جگہ ایک سیاسی سرگرمی ہے، لیکن حکومت کی اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب صوبے کے عام شہری کو محسوس ہو کہ اس کی حکومت اس کی زندگی آسان بنانے، روزگار پیدا کرنے، امن قائم کرنے اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے بھی اتنی ہی سنجیدہ ہے جتنی سیاسی احتجاج کے لیے دکھائی دیتی ہے۔
آخرکار سوال یہی ہے کہ اگر صوبائی حکومت کی بڑی توانائی لانگ مارچ میں صرف ہو رہی ہے تو خیبرپختونخوا کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے وقت، توجہ اور حکومتی مشینری کب پوری طرح متحرک ہوگی؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب سیاسی بیانات سے نہیں بلکہ عملی کارکردگی سے دینا ہوگا۔
