PTIکا لانگ مارچ،مرکزی قیادت منظر نامے سے غائب کیوں؟

پاکستان تحریک انصاف کا موجودہ لانگ مارچ بظاہر عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے ساتھ خیبر پختونخوا سے اسلام آباد کی طرف بڑھ رہا ہے، لیکن اس مارچ نے ایک بڑا سیاسی سوال بھی کھڑا کر دیا ہے کہ اگر یہ پوری جماعت کی فیصلہ کن تحریک ہے تو پھر اس کی مرکزی قیادت کی بڑی تعداد کنٹینر سے دور کیوں ہے؟ 4 اکتوبر کو شروع ہونے والا یہ مارچ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے گزرتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے، مگر اس دوران اس کی عملی قیادت بنیادی طور پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے گرد ہی نظر آئی۔ یوں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیا یہ واقعی پوری جماعت کا لانگ مارچ ہے یا ایک ایسے صوبائی احتجاج کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کا سیاسی بوجھ تقریباً ایک ہی قیادت اٹھا رہی ہے؟

اسی لیے ناقدین اسے طنزیہ طور پر ’’جلیبی مارچ‘‘ قرار دے رہے ہیں، کیونکہ مارچ کی سمت، رفتار اور اگلے مرحلے کے بارے میں مسلسل تبدیلیاں سامنے آتی رہی ہیں اور فی الحال یہ خیبر پختونخوا کے اندر ہی گھومتا دکھائی دیتا ہے۔ سہیل آفریدی اس وقت اس احتجاج کا سب سے نمایاں چہرہ ہیں، لیکن مرکزی قیادت کے کئی اہم ارکان کنٹینر پر نظر نہیں آ رہے۔ اس صورت حال نے پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی اور اندرونی صف بندی کے بارے میں کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔

پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت میں شامل کئی رہنما مذاکراتی عمل، قانونی معاملات یا دیگر سیاسی مصروفیات کے باعث مارچ سے فاصلے پر ہیں۔ چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور دیگر رہنما حکومت کے ساتھ مذاکرات میں شریک رہے، جبکہ مذاکرات میں عمران خان سے ملاقات، سیاسی مطالبات اور دیگر اہم معاملات پر اتفاق نہ ہو سکا۔ یوں ایک طرف مذاکرات کی میز پر سیاسی رابطے جاری رہے اور دوسری جانب خیبر پختونخوا میں احتجاجی مارچ آگے بڑھتا رہا۔ اس دوہری حکمت عملی نے پارٹی کے اندر ترجیحات کے حوالے سے بحث کو مزید نمایاں کر دیا۔

سب سے اہم سوال خیبر پختونخوا کی اپنی سیاسی قیادت کی عدم موجودگی کا ہے۔ صوبے میں پی ٹی آئی کے منتخب ارکان اسمبلی، وزرا، مشیران، معاونین خصوصی اور پارلیمانی سیکریٹریز کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، لیکن سہیل آفریدی کے ساتھ کنٹینر پر صرف محدود تعداد میں ارکان دکھائی دے رہے ہیں۔ اگر پارٹی کے تمام منتخب نمائندے اپنے اپنے حلقوں سے کارکنوں کو متحرک کرتے تو احتجاج کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی تھی۔ لیکن عملی طور پر ایسا بڑے پیمانے پر نظر نہیں آیا۔

پی ٹی آئی کے اندرونی حلقوں سے منسوب تجزیوں میں اس کی مختلف وجوہات بیان کی جا رہی ہیں۔ بعض رہنماؤں کو گرفتاری اور مقدمات کا سامنا ہے، کچھ قانونی طور پر مشکلات میں ہیں، جبکہ بعض سیاسی رہنما مذاکراتی عمل کو زیادہ اہم سمجھ رہے ہیں۔ اس لیے ہر غیر حاضر رہنما کے بارے میں یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہوگا کہ وہ دانستہ طور پر مارچ سے دور ہے۔ تاہم مجموعی تصویر یہ ضرور ظاہر کرتی ہے کہ پی ٹی آئی کی مرکزی اور صوبائی قیادت مارچ کے معاملے پر ایک ہی سطح کی عملی سرگرمی کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔

یہی وہ مقام ہے جہاں سہیل آفریدی کا سیاسی کردار غیر معمولی طور پر اہم ہو جاتا ہے۔ وہ ایک ایسے وقت میں احتجاج کی قیادت کر رہے ہیں جب وفاق اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی کشیدگی شدید ہے اور مذاکرات بھی کسی واضح نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔ نتیجتاً مارچ کی کامیابی یا ناکامی کے سیاسی اثرات سب سے پہلے انہی کی قیادت سے جوڑے جائیں گے۔ اس صورت حال میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا پارٹی کی مرکزی قیادت نے سہیل آفریدی کو مکمل سیاسی حمایت فراہم کی ہے یا احتجاج کا عملی بوجھ بڑی حد تک صوبائی قیادت کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

دوسری طرف پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں بھی اس مارچ کے حوالے سے وہ سرگرمی دکھائی نہیں دے رہی جو ایک ملک گیر سیاسی جماعت کی تحریک میں متوقع سمجھی جاتی ہے۔ چند مقامات پر احتجاج کی کوششیں ضرور ہوئیں، لیکن ملک بھر میں ایسی منظم اور مسلسل تحریک سامنے نہیں آئی جو خیبر پختونخوا کے احتجاج کے ساتھ مربوط دکھائی دے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ تحریک کے بارے میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا یہ قومی سطح پر پھیلنے والی تحریک بنے گی یا بنیادی طور پر خیبر پختونخوا تک محدود رہے گی۔

پی ٹی آئی کے سابق صدر عارف علوی کا کردار بھی اس حوالے سے قابل ذکر ہے۔ ماضی کے احتجاجی مرحلوں میں ان کی سیاسی سرگرمی نمایاں رہی، لیکن موجودہ مارچ میں ان کی عملی موجودگی نظر نہیں آئی۔ اسی طرح سندھ میں پی ٹی آئی کے بعض نمایاں رہنما بھی مارچ کے ساتھ اس سطح پر متحرک نہیں دکھائی دے رہے جس کی توقع ایک ملک گیر احتجاج سے کی جا سکتی ہے۔

پی ٹی آئی کے اتحادی اپوزیشن رہنماؤں کا کردار بھی اس سیاسی منظرنامے کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کی جماعتوں کی پارلیمانی تعداد محدود ہونے کے باوجود انہیں اپوزیشن سیاست میں اہم ذمہ داریاں دی گئیں۔ توقع یہ تھی کہ وہ عمران خان کی رہائی کے سیاسی مطالبے میں اہم کردار ادا کریں گے، لیکن موجودہ مرحلے میں دونوں رہنماؤں کی حکمت عملی اور پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے ساتھ ان کی عملی وابستگی مختلف دکھائی دیتی ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی موجودہ سیاسی حکمت عملی آخر ہے کیا؟ کیا مرکزی قیادت جان بوجھ کر فرنٹ لائن سے دور رہ کر مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنا چاہتی ہے؟ کیا قانونی مشکلات نے قیادت کو محدود کر رکھا ہے؟ یا پھر پارٹی کے اندر مختلف گروہ موجودہ بحران کو اپنے اپنے سیاسی مفادات کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں؟ ان سوالات کے حتمی جوابات فی الحال قیاس آرائی سے آگے نہیں بڑھتے، لیکن مارچ نے پارٹی کے اندر موجود سیاسی فاصلے ضرور نمایاں کر دیے ہیں۔

موجودہ صورتحال میں ’’کنٹینر اکیلا، پس پردہ میلہ‘‘ ایک سیاسی تاثر ضرور بن چکا ہے، لیکن اس تاثر کو حقیقت میں بدلنے یا غلط ثابت کرنے کا فیصلہ آنے والے دنوں کی سیاسی پیش رفت کرے گی۔ اگر مارچ خیبر پختونخوا سے نکل کر ملک کے دیگر حصوں میں وسیع احتجاجی تحریک پیدا کرتا ہے تو مرکزی قیادت کی عملی شرکت کا سوال مزید اہم ہوگا۔ اور اگر یہ تحریک صوبائی حدود تک محدود رہتی ہے تو پی ٹی آئی کے اندر تنظیمی قوت، قیادت کی یکجہتی اور سیاسی حکمت عملی پر بحث مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔

یوں موجودہ لانگ مارچ صرف عمران خان کی رہائی کا مطالبہ یا حکومت مخالف احتجاج نہیں رہا بلکہ یہ پی ٹی آئی کی قیادت، تنظیمی ڈھانچے، صوبائی حکومت، مذاکراتی حکمت عملی اور مرکزی سیاسی صف بندی کا بھی امتحان بن چکا ہے۔ سہیل آفریدی اس وقت کنٹینر پر سب سے نمایاں چہرہ ضرور ہیں، مگر اصل سیاسی سوال اب بھی یہی ہے کہ اس کنٹینر کے پیچھے پوری جماعت کتنی قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔

Back to top button