پی ٹی آئی احتجاجی مارچ،یوتھیے انقلابی بیمار کیوں پڑنے لگے؟

پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ چوتھے روز میں داخل ہو چکا ہے، لیکن بڑے عوامی اجتماع اور ملک گیر سیاسی طاقت کے دعووں کے برعکس زمینی صورتحال پارٹی قیادت کے لیے نئے سوالات کھڑے کر رہی ہے۔ کارکنوں کی محدود شرکت، سخت موسمی حالات، مبینہ ناقص انتظامات اور قیادت و کارکنوں کے درمیان بڑھتے فاصلے کی شکایات کے ساتھ اب سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز اور تصاویر کی گردش بھی بحث کا موضوع بن گئی ہے جن کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان میں بعض پرانے احتجاجی مناظر، دیگر ممالک کے مظاہروں اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کو موجودہ لانگ مارچ سے منسلک کیا گیا۔ اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ محض سوشل میڈیا کی ایک معمولی غلطی نہیں بلکہ سیاسی اجتماع کی اصل عوامی قوت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا سنجیدہ سوال بن سکتا ہے۔

لانگ مارچ کے دوران کارکنوں کی مشکلات بھی نمایاں ہونے لگی ہیں۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق بعض کارکنوں نے سخت موسم، مسلسل سفر، تھکن اور مناسب سہولیات نہ ملنے کی شکایات کی ہیں۔ بعض کارکنوں کا کہنا ہے کہ انہیں رات کھلے آسمان تلے قیام کرنا پڑتا ہے جبکہ سینئر قیادت کے لیے نسبتاً بہتر رہائش کا انتظام ہوتا ہے۔ کھانے، ناشتے اور صاف پانی کی سہولت کے حوالے سے بھی شکایات سامنے آئی ہیں۔ مچھروں کے باعث بعض کارکنوں کے بیمار ہونے اور گھروں کو واپس جانے کے دعوے بھی کیے جا رہے ہیں، تاہم ان بیماریوں کی تعداد اور طبی نوعیت کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

کوہاٹ میں بھی مارچ کی عوامی شرکت کے حوالے سے متضاد دعوے سامنے آئے۔ مقامی ذرائع سے منسوب اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی وہاں تقریباً 1500 سے 3000 افراد ہی جمع کر سکی، جبکہ سوشل میڈیا پر جاری بعض تصاویر میں اس سے کہیں بڑا ہجوم دکھائی دیا۔ دعویٰ کیا گیا کہ ان میں تقریباً 1500 افراد کنٹینر کے ساتھ تھے جبکہ باقی افراد کی موجودگی محدود تھی۔ دوسری طرف پارٹی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری مواد میں بڑے اجتماعات کا تاثر پیدا کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کی گئیں۔

یہیں سے سوشل میڈیا کے کردار پر سوال اٹھتا ہے۔ موجودہ دور میں کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے اپنے اجتماعات کی تصاویر اور ویڈیوز جاری کرنا معمول کی بات ہے، لیکن جب کسی ویڈیو کا تعلق موجودہ احتجاج کے بجائے کسی پرانے مظاہرے یا دوسرے ملک کے واقعے سے ہو تو اس کی غلط نسبت عوامی رائے کو متاثر کر سکتی ہے۔ فراہم کردہ متن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض ویڈیوز دراصل جماعت اسلامی کے احتجاج اور بنگلہ دیش کے مظاہروں کی پرانی فوٹیج تھیں، جبکہ کچھ مواد مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیا گیا تھا۔ ایسے دعووں کی حتمی تصدیق کے لیے ہر ویڈیو کا اصل ماخذ، تاریخ، مقام اور ڈیجیٹل ریکارڈ الگ الگ جانچنا ضروری ہے۔

تاہم اگر سیاسی اجتماعات کی تعداد بڑھا کر دکھانے کے لیے پرانی یا مصنوعی ویڈیوز استعمال کی جا رہی ہوں تو اس کا نقصان صرف مخالفین کو نہیں بلکہ خود سیاسی جماعت کو بھی ہو سکتا ہے۔ کسی بھی تحریک کی اصل طاقت اس کے حقیقی کارکنوں، عوامی حمایت اور زمینی موجودگی سے ظاہر ہوتی ہے، نہ کہ سوشل میڈیا پر مصنوعی طور پر بنائے گئے بڑے ہجوم سے۔ سوشل میڈیا پر وقتی طور پر بڑا تاثر پیدا کیا جا سکتا ہے، لیکن سیاسی تحریک کی پائیداری کا فیصلہ بالآخر زمینی حقیقت ہی کرتی ہے۔

دوسری جانب کارکنوں کی جانب سے انتظامات کے حوالے سے سامنے آنے والی شکایات نے قیادت اور کارکنوں کے درمیان موجود فاصلے کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔ اگر کارکن واقعی کھلے آسمان تلے قیام، خوراک، پانی اور طبی سہولیات کی کمی کی شکایت کر رہے ہیں تو پارٹی قیادت کے لیے یہ ایک انتظامی چیلنج ہے۔ لانگ مارچ صرف سیاسی تقریروں اور نعروں سے کامیاب نہیں ہوتے؛ ان کے لیے ہزاروں کارکنوں کے قیام، خوراک، پانی، صحت، سفری سہولت اور سکیورٹی کا مؤثر انتظام بھی ضروری ہوتا ہے۔

اس سارے منظرنامے میں سب سے اہم پیش رفت یہ ہے کہ تحریک انصاف کو اپنے ہی سیاسی گڑھ خیبر پختونخوا میں احتجاجی ردعمل کا سامنا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ نوشہرہ میں تاجر برادری کی جانب سے لانگ مارچ اور احتجاج کے خلاف مظاہرہ کیا گیا۔ فراہم کردہ متن کے مطابق انجمن تاجران نوشہرہ کے صدر خالد خان آفریدی کی قیادت میں مظاہرین نے جی ٹی روڈ شوبرا چوک میں احتجاج کیا اور ٹائر جلائے۔

تاجر برادری کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ مسلسل سیاسی احتجاج، سڑکوں کی بندش اور کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ سے مقامی معیشت متاثر ہوتی ہے۔ تاجروں کے مطابق خیبر پختونخوا پہلے ہی سکیورٹی اور معاشی مشکلات سے دوچار ہے، ایسے میں بار بار کے احتجاج اور سڑکوں کی بندش کاروبار کے لیے مزید مشکلات پیدا کرتی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر تحریک انصاف کو عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاج کرنا ہے تو اسے وفاقی دارالحکومت یا متعلقہ سیاسی و قانونی فورمز پر احتجاج کرنا چاہیے، مقامی شہروں کے کاروبار کو مسلسل متاثر نہیں کرنا چاہیے۔

یہ اعتراض صرف نوشہرہ تک محدود رہتا ہے یا خیبر پختونخوا کے دوسرے شہروں تک پھیلتا ہے، یہ آنے والے دنوں میں واضح ہوگا۔ تاہم اپنے ہی مضبوط سیاسی مرکز میں تاجروں یا شہری طبقات کی جانب سے احتجاج کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے نظرانداز کرنے والا معاملہ نہیں ہوتا۔ سیاسی جماعتیں حکومت سے اختلاف اور احتجاج کا حق رکھتی ہیں، لیکن اسی کے ساتھ عام شہریوں، تاجروں، مسافروں اور کاروباری طبقے کی مشکلات کو بھی مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔

پی ٹی آئی کے لیے موجودہ لانگ مارچ کا اصل امتحان اب صرف یہ نہیں کہ کنٹینر کہاں پہنچتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کتنے کارکن آخر تک اس کے ساتھ رہتے ہیں، کتنے نئے لوگ اس تحریک کا حصہ بنتے ہیں اور کیا یہ احتجاج خیبر پختونخوا سے نکل کر ملک کے دوسرے حصوں میں بھی قابل ذکر عوامی حمایت حاصل کر پاتا ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر جاری ہونے والے مواد کی صحت اور شفافیت بھی تحریک کے بیانیے کے لیے اہم ہوگی۔

اگر کارکنوں کی شرکت محدود رہتی ہے، انتظامی مشکلات برقرار رہتی ہیں اور مقامی سطح پر احتجاج کے خلاف ردعمل بڑھتا ہے تو پارٹی قیادت کے لیے اس تحریک کو سیاسی طور پر مؤثر بنانا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر پی ٹی آئی بڑے اجتماعات منظم کرنے، کارکنوں کے مسائل حل کرنے اور احتجاج کو خیبر پختونخوا سے باہر پھیلانے میں کامیاب ہوتی ہے تو موجودہ تاثر تبدیل بھی ہو سکتا ہے۔

یوں سہیل آفریدی کی قیادت میں جاری لانگ مارچ اب صرف حکومت کے خلاف احتجاج نہیں رہا بلکہ خود تحریک انصاف کی تنظیمی صلاحیت، کارکنوں کے ساتھ قیادت کے تعلق، سوشل میڈیا بیانیے اور خیبر پختونخوا میں اس کی عوامی بنیاد کا بھی امتحان بن چکا ہے۔ اصل فیصلہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر نہیں بلکہ زمینی حقیقت کرے گی: کتنے لوگ سڑک پر موجود ہیں، کتنے لوگ آخر تک ساتھ کھڑے رہتے ہیں اور عوام اس احتجاج کی سیاسی قیمت اور ضرورت کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔

Back to top button