اسٹیبلشمنٹ کی لاڈلی پی ٹی آئی زیر عتاب کیسے آئی؟

تحریک انصاف کے حامی موجودہ حالات، گرفتاریوں، احتجاجی پابندیوں، سیاسی دباؤ اور ریاستی اقدامات کو دیکھ کر یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آخر ان کے ساتھ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے، لیکن اس سوال کا جواب صرف موجودہ واقعات میں تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے گزشتہ چند برسوں کی سیاسی حکمت عملی، احتجاجی سیاست، ریاستی اداروں سے تعلقات اور سیاسی مخالفین کے ساتھ رویے کو بھی سامنے رکھنا ہوگا۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ تحریک انصاف کے تمام مؤقف غلط نہیں اور اس کے کارکنوں اور رہنماؤں کے تمام اعتراضات کو بے بنیاد قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسی طرح پاکستان کی دوسری بڑی سیاسی جماعتوں کی تاریخ بھی اختلافات اور تنازعات سے پاک نہیں رہی۔ اصل سوال کسی ایک جماعت کے درست یا غلط ہونے سے زیادہ اس سیاسی طرز عمل کا ہے جس نے ملک میں مسلسل محاذ آرائی، عدم اعتماد اور تصادم کو گہرا کیا۔ ایک سیاسی جماعت جب سیاسی بصیرت، مذاکرات اور مفاہمت کے بجائے مسلسل احتجاج اور تصادم کو اپنی بنیادی حکمت عملی بنا لے تو اس کے لیے سیاسی راستے محدود ہوتے چلے جاتے ہیں۔

تحریک انصاف کے لیے ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کی حکومت ختم ہوئی۔ یہ واقعہ یقیناً ایک بڑا سیاسی دھچکا تھا، لیکن پارلیمانی نظام میں حکومت کا عدم اعتماد کے ذریعے تبدیل ہونا آئینی عمل کا حصہ ہے۔ اس موقع پر تحریک انصاف اگر اپنی سیاسی حکمت عملی کو پارلیمان، سیاسی جماعتوں اور مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھاتی تو ممکن تھا کہ سیاسی کشیدگی کی شدت مختلف ہوتی۔ تاہم اس کے بعد جو سیاسی ردعمل سامنے آیا، اس میں احتجاج، سخت بیانیے اور ریاستی اداروں کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی نمایاں ہوتی گئی۔

یہاں ایک بنیادی مسئلہ سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کے تعلق کا بھی ہے۔ سیاسی جماعتوں کا کام یہ ہونا چاہیے کہ وہ ریاستی اداروں کے سیاسی کردار کی مخالفت اصولی بنیادوں پر کریں اور اس کے لیے پارلیمانی و آئینی راستہ اختیار کریں۔ لیکن اگر کسی ادارے کی سیاسی مداخلت اس وقت قابل قبول ہو جب وہ کسی جماعت کے حق میں ہو اور اسی کردار کی مخالفت اس وقت شروع ہو جب وہ جماعت کے خلاف ہو جائے تو اصولی مؤقف کمزور پڑ جاتا ہے۔ تحریک انصاف پر بھی یہی اعتراض کیا جاتا رہا کہ اس نے ماضی میں بعض طاقتور حلقوں کے سیاسی کردار سے فائدہ اٹھایا اور بعد میں انہی حلقوں سے اختلاف پیدا ہونے پر شدید مزاحمت اختیار کی۔

عمران خان کی گرفتاری کے معاملے نے بھی سیاسی کشیدگی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کیا۔ گرفتاری کے خلاف سیاسی اور قانونی جدوجہد ایک جمہوری حق ہو سکتی ہے، لیکن کسی بھی احتجاج کی حدود آئین، قانون اور عوامی املاک کے تحفظ سے متعین ہوتی ہیں۔ 9 مئی کے واقعات نے اسی لیے ملکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے اور ریاستی اداروں کے ساتھ تحریک انصاف کے تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ اس کے بعد احتجاجی سیاست، گرفتاریوں، مقدمات اور سیاسی پابندیوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جس نے جماعت اور ریاست کے درمیان فاصلے مزید بڑھا دیے۔

مسئلہ صرف احتجاج کا بھی نہیں تھا۔ سیاسی جماعت کے لیے حکومت کی مخالفت اور ریاستی اداروں کے ساتھ تصادم کے درمیان فرق برقرار رکھنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ حکومت تبدیل کی جا سکتی ہے، پارلیمان میں اکثریت حاصل کی جا سکتی ہے، انتخابی میدان میں مقابلہ کیا جا سکتا ہے، لیکن ریاستی نظام کو مسلسل تصادم کی طرف لے جانا کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے طویل مدت میں نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ تحریک انصاف پر تنقید کرنے والے حلقوں کے مطابق جماعت کی سیاسی حکمت عملی میں یہی فرق کئی مواقع پر دھندلا گیا۔

دوسری طرف یہ سوال بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ ریاستی ردعمل کی شدت نے بھی سیاسی تقسیم کو کم کرنے کے بجائے کئی مواقع پر مزید بڑھایا۔ سیاسی جماعتوں کے خلاف کارروائی، گرفتاریوں، مقدمات اور احتجاج پر پابندیوں کے معاملے میں شفافیت، قانونی طریقہ کار اور یکساں معیار کا ہونا ضروری ہے۔ جمہوری نظام میں سیاسی اختلاف کو صرف انتظامی طاقت کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ سیاسی جماعتوں کو بھی قانون کے دائرے میں رہنا ہوتا ہے اور ریاست کو بھی قانون کے یکساں اطلاق اور سیاسی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔

تحریک انصاف کی موجودہ صورتحال میں سوشل میڈیا اور غیر روایتی سیاسی ذرائع کا کردار بھی غیر معمولی رہا ہے۔ یوٹیوبرز، سوشل میڈیا کارکنوں اور انتہائی جذباتی سیاسی بیانیے نے جماعت کی عوامی حمایت کو متحرک رکھنے میں کردار ادا کیا، لیکن سیاسی جماعت کا فیصلہ سازی کا نظام صرف سوشل میڈیا کے دباؤ پر نہیں چل سکتا۔ احتجاج کی شدت، جذباتی تقاریر اور مسلسل تصادم وقتی طور پر سیاسی کارکنوں کو متحرک تو کر سکتے ہیں، لیکن طویل المدت سیاسی حکمت عملی کے لیے مذاکرات، تنظیم، پارلیمانی سیاست اور مختلف طبقات سے رابطہ ناگزیر ہوتے ہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں تحریک انصاف کو اپنے سیاسی سفر کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اگر ایک بڑی سیاسی جماعت مسلسل احتجاج کرتی رہے، لیکن ہر احتجاج کے بعد اس کے سیاسی مطالبات عملی طور پر آگے نہ بڑھ سکیں، تو اسے اپنی حکمت عملی پر سوال اٹھانا پڑتا ہے۔ سیاسی کارکن کا کردار صرف احتجاج کرنا نہیں بلکہ ووٹر سے رابطہ، پارلیمانی جدوجہد، قانون سازی، مذاکرات اور سیاسی اتحاد سازی بھی ہے۔ احتجاج سیاست کا ایک ذریعہ ہو سکتا ہے، خود مکمل سیاست نہیں۔

موجودہ حالات میں تحریک انصاف کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ اپنے سیاسی وجود کو احتجاجی مزاحمت سے آگے لے جا کر ایک منظم سیاسی حکمت عملی میں تبدیل کرے۔ پارٹی کے اندر فیصلہ سازی، مذاکرات کی پالیسی، سیاسی مخالفین سے تعلقات، پارلیمانی کردار اور ریاستی اداروں کے ساتھ آئینی حدود میں رہتے ہوئے تعلقات جیسے معاملات پر واضح اور مستقل پالیسی کی ضرورت ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ تحریک انصاف اپنے تمام مؤقف سے دستبردار ہو جائے یا اپنے کارکنوں کے خلاف ہونے والی مبینہ زیادتیوں پر خاموش ہو جائے۔ سیاسی جماعت کو اپنے کارکنوں، رہنماؤں اور ووٹرز کے حقوق کے لیے آئینی اور قانونی جدوجہد کا مکمل حق حاصل ہے۔ لیکن اس جدوجہد کی کامیابی کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ وہ اسے کس سیاسی حکمت عملی کے ذریعے آگے بڑھاتی ہے۔

تحریک انصاف پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت ہے اور اس کی سیاسی موجودگی کو نظرانداز کرنا ملکی سیاست کے لیے ممکن نہیں۔ اسی طرح اس کے مخالفین بھی جمہوری عمل کا حصہ ہیں اور ان کے وجود کو سیاسی حقیقت کے طور پر تسلیم کرنا ہوگا۔ پاکستان کے سیاسی بحران کا حل کسی ایک جماعت کی مکمل فتح یا دوسری جماعت کی مکمل شکست میں نہیں بلکہ ایسے سیاسی نظام میں ہے جہاں اختلاف کے باوجود مذاکرات، پارلیمان اور آئین کے راستے کھلے رہیں۔

آخرکار تحریک انصاف کے سامنے سوال یہی ہے کہ کیا وہ احتجاج اور تصادم کی سیاست سے آگے بڑھ کر سیاسی مفاہمت، تنظیم اور حکمت عملی کی طرف واپس آ سکتی ہے؟ اور ریاست کے سامنے سوال یہ ہے کہ کیا وہ سیاسی اختلاف کو آئینی اور قانونی دائرے میں رکھنے کے لیے یکساں اصولوں کا اطلاق یقینی بنا سکتی ہے؟ دونوں سوالات کے جواب پاکستان کے جمہوری مستقبل کے لیے اہم ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی اصل طاقت صرف سڑکوں پر موجود ہجوم نہیں بلکہ سیاسی بصیرت، عوامی اعتماد، تنظیم، پارلیمانی قوت اور مذاکرات کی صلاحیت ہوتی ہے۔ تحریک انصاف کے لیے موجودہ بحران شاید اسی سیاسی بصیرت کے امتحان کا مرحلہ ہے۔

Back to top button