لانگ مارچ، مذاکرات اور گورنر راج؛ KPمیں کیا ہونے والا ہے؟

پاکستان کی سیاست ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں لانگ مارچ، مذاکرات اور خیبر پختونخوا میں ممکنہ آئینی اقدامات ایک دوسرے سے جڑ گئے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ احتجاج اور مذاکرات بیک وقت نہیں چل سکتے اور تحریک انصاف کو بات چیت کا راستہ کھولنے کے لیے پہلے مارچ ختم کرنا ہوگا، جبکہ تحریک انصاف چاہتی ہے کہ مذاکرات اور سیاسی دباؤ ساتھ ساتھ جاری رہیں اور کسی پیش رفت کی صورت میں مارچ ختم کرنے کا فیصلہ کیا جائے۔ یہی بنیادی اختلاف اس وقت سیاسی ڈیڈلاک کی سب سے بڑی وجہ بن چکا ہے۔ دوسری طرف مارچ کی رفتار، شرکا کی تعداد، اس کے بدلتے ہوئے راستے اور خیبر پختونخوا کی انتظامی صورتحال نے اس سوال کو بھی اہم بنا دیا ہے کہ یہ احتجاج آگے چل کر کس سمت اختیار کرے گا۔

وزیراعظم کی جانب سے ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی پیشکش اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا یہ مؤقف کہ مذاکرات اور مارچ ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، حکومت کی موجودہ پوزیشن کو واضح کرتا ہے۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے لیے مارچ ختم کرنے سے پہلے کوئی قابل ذکر سیاسی پیش رفت حاصل کرنا اہم دکھائی دیتا ہے۔ یوں دونوں فریق اپنی اپنی شرط پر قائم ہیں اور مسئلہ یہ ہے کہ پہلا قدم کون اٹھائے۔ یہی صورتحال اس وقت مذاکرات کی بحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

یہ صورت حال ایک ایسے واقعے کی یاد دلاتی ہے جس میں ایک بزرگ مزار کے باہر بیٹھا اندر موجود بزرگ سے اپنے کام کے بارے میں اختلاف کرتا رہا۔ ایک کہتا تھا پہلے کام کرو پھر میں گھر جاؤں گا، دوسرا کہتا تھا پہلے گھر جاؤ پھر کام ہوگا۔ دونوں اپنی اپنی شرط پر قائم رہے اور وقت گزرتا رہا۔ موجودہ سیاسی صورت حال میں بھی بنیادی سوال یہی بنتا جا رہا ہے کہ پہلے مذاکرات ہوں یا پہلے مارچ ختم ہو۔ اگر دونوں فریق اپنی شرط کو مذاکرات کی ابتدائی شرط بنا دیں تو سیاسی عمل آگے بڑھنے کے بجائے اسی دائرے میں گھومتا رہ سکتا ہے۔

لانگ مارچ کی اب تک کی پیش رفت بھی اس تنازعے کو ایک مختلف زاویہ دیتی ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق مارچ میں بڑی تعداد میں کارکن موجود ہیں، تاہم اس کی تعداد کے بارے میں مختلف دعوے سامنے آئے ہیں اور لاکھوں افراد کی شرکت کا آزادانہ طور پر واضح ثبوت موجود نہیں۔ بعض بین الاقوامی رپورٹس نے بھی شرکا کی تعداد ہزاروں میں بیان کی ہے۔ اس لیے سیاسی اثرات کا اندازہ صرف دعووں کے بجائے زمینی موجودگی، مسلسل شرکت اور مارچ کی آئندہ سمت سے لگانا زیادہ مناسب ہوگا۔

مارچ کا راستہ بھی مسلسل تبدیل ہوتا رہا ہے۔ ابتدا میں خیبر پختونخوا سے اٹک اور پھر اسلام آباد کی طرف بڑھنے کا تاثر تھا، لیکن 8 اکتوبر کے لیے پشاور کا رخ اختیار کیا گیا اور اس کے بعد کے مرحلے کے بارے میں بھی واضح تفصیلات بعد میں سامنے آنے کی بات کی گئی۔ اس صورتحال نے مارچ کے فوری سیاسی مقصد اور حتمی حکمت عملی کے بارے میں سوالات پیدا کیے ہیں۔ اگر کسی احتجاج کا بنیادی ہدف اسلام آباد تک پہنچنا ہے تو اس کی سیاسی معنویت کا بڑا حصہ اسی بات سے وابستہ ہوگا کہ وہ عملی طور پر وہاں تک پہنچنے کی کوشش کس انداز میں کرتا ہے اور ریاستی ردعمل کیا ہوتا ہے۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا کی انتظامی صورت حال اس پورے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ ایک طرف صوبائی حکومت کا سربراہ خود احتجاجی مارچ کی قیادت کر رہا ہے، دوسری طرف صوبے میں بعض مقامات پر امن و امان کے پیش نظر دفعہ 144 اور دیگر انتظامی اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس تضاد نے صوبائی حکومت کی انتظامی گرفت اور سیاسی فیصلوں کے درمیان فرق کو نمایاں کیا ہے۔ تاہم یہ کہنا کہ محض ان واقعات کی بنیاد پر صوبائی حکومت آئینی طور پر ختم ہو چکی ہے، ایک سیاسی تعبیر ہوگی؛ حکومت کا قانونی وجود اس وقت تک برقرار رہتا ہے جب تک آئینی اور قانونی طریقہ کار کے مطابق کوئی تبدیلی نہ کی جائے۔

اسی تناظر میں گورنر خیبر پختونخوا کا امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں کردار اہم ہو گیا ہے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر صدر اور وزیراعظم صوبے میں گورنر راج یا ہنگامی اقدام کو ضروری سمجھیں تو آئینی کردار ادا کیا جا سکتا ہے، جبکہ انہوں نے گورنر راج کو آخری راستہ بھی قرار دیا ہے۔

یہاں آئینی پہلو کو سیاسی دعووں سے الگ رکھنا ضروری ہے۔ گورنر کی جانب سے امن و امان پر بریفنگ لینا یا متعلقہ حکام سے معلومات حاصل کرنا اپنی جگہ ایک آئینی و انتظامی معاملہ ہے، لیکن اس کا مطلب خود بخود گورنر راج کا نفاذ نہیں ہوتا۔ گورنر راج یا ہنگامی اقدام کے لیے آئین میں مقررہ طریقہ کار اور متعلقہ اداروں کے فیصلے ضروری ہیں۔ اس لیے موجودہ صورتحال میں گورنر کے اجلاسوں کو آئندہ سیاسی اقدامات کے ممکنہ اشارے کے طور پر تو دیکھا جا سکتا ہے، لیکن اسے حتمی فیصلہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

مذاکرات کی ناکامی کا بنیادی مسئلہ بھی محض لانگ مارچ نہیں۔ گزشتہ مذاکرات میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردی سے نمٹنے کی حکمت عملی، وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون، عمران خان سے ملاقات اور ان کے اہل خانہ و وکلا تک رسائی جیسے معاملات زیر بحث رہے اور دونوں فریق کسی مشترکہ فارمولے تک نہیں پہنچ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ تنازع صرف ایک احتجاجی مارچ کا نہیں بلکہ وفاق اور صوبے کے درمیان اختیار، سلامتی کی پالیسی اور سیاسی مطالبات کے باہمی تعلق کا بھی مسئلہ بن چکا ہے۔

حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ اسلام آباد کو طویل احتجاج، ممکنہ راستوں کی بندش اور انتظامی دباؤ سے محفوظ رکھا جائے، جبکہ تحریک انصاف کے لیے چیلنج یہ ہے کہ مارچ کو اس سطح کی سیاسی شرکت اور رفتار فراہم کی جائے جو حکومت پر مذاکرات کے لیے دباؤ بڑھا سکے۔ اگر مارچ کی رفتار کم رہتی ہے اور شرکا کی تعداد توقع کے مطابق نہیں بڑھتی تو اس کا سیاسی دباؤ ایک نوعیت کا ہوگا، جبکہ اگر راستے میں بڑی تعداد شامل ہوتی ہے اور مارچ اٹک یا اسلام آباد کی طرف بڑھتا ہے تو صورت حال مزید حساس ہو سکتی ہے۔

اصل مسئلہ یہی ہے کہ سیاسی دباؤ اور مذاکرات میں سے کسی ایک کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے دونوں کے درمیان قابل عمل راستہ کیسے نکالا جائے۔ حکومت اگر صرف مارچ ختم ہونے کو مذاکرات کی شرط بناتی ہے اور تحریک انصاف صرف مذاکرات شروع ہونے کو مارچ ختم کرنے کی شرط قرار دیتی ہے تو ڈیڈلاک برقرار رہنے کا امکان موجود ہے۔ اس کے برعکس اگر دونوں جانب سے کوئی عبوری فارمولا سامنے آتا ہے، جس میں احتجاج کی شدت کم کرنے کے ساتھ محدود یا مرحلہ وار مذاکرات کی گنجائش پیدا ہو، تو کشیدگی کم کرنے کا راستہ نکل سکتا ہے۔

خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ہنگامی اقدام کا سوال اس لیے بھی حساس ہے کہ اس کے اثرات صرف صوبائی حکومت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ وفاق اور صوبے کے تعلقات، سیاسی کشیدگی اور آئینی بحث پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ اس لیے کسی بھی ایسے اقدام کی بنیاد سیاسی اختلاف کے بجائے واضح آئینی جواز، امن و امان کی حقیقی صورت حال اور قانونی تقاضوں پر ہونا زیادہ اہم ہوگا۔

موجودہ صورتحال کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ابھی سیاسی راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ مذاکرات ناکام ہونے کے باوجود سیاسی رابطوں کی گنجائش موجود ہے اور حکومت بھی مذاکرات کی پیشکش دہرا رہی ہے۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے اندر سے بھی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی آوازیں سامنے آ رہی ہیں۔ اس لیے آنے والے دنوں میں اصل امتحان دونوں فریقوں کے لیے یہی ہوگا کہ وہ اپنی ابتدائی شرائط میں کتنی گنجائش پیدا کرتے ہیں۔

لانگ مارچ کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ صرف اس بات سے نہیں ہوگا کہ کتنے لوگ سڑکوں پر نکلے، بلکہ اس سے ہوگا کہ یہ احتجاج اپنے سیاسی مقصد کو کس حد تک حاصل کرتا ہے، حکومت پر کس نوعیت کا دباؤ پیدا کرتا ہے اور بالآخر مذاکرات کی میز پر کیا تبدیلی لاتا ہے۔ اسی طرح حکومت کی کامیابی صرف احتجاج کو روکنے میں نہیں بلکہ اس بحران کو ایسے سیاسی راستے پر لانے میں ہوگی جہاں امن و امان، آئینی حدود اور سیاسی مذاکرات تینوں ساتھ چل سکیں۔

اس وقت پاکستان کو ایک ایسے سیاسی تعطل کا سامنا ہے جس میں ہر فریق پہلے دوسرے سے قدم پیچھے ہٹانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو مارچ، مذاکرات اور گورنر راج کی بحث ایک دوسرے کو مزید پیچیدہ کر سکتی ہے۔ لیکن اگر سیاسی قیادت کسی درمیانی راستے پر پہنچتی ہے تو موجودہ کشیدگی کو دوبارہ مذاکرات میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ آنے والے دن اس بات کا تعین کریں گے کہ یہ مارچ محض ایک احتجاجی سرگرمی بن کر رہ جاتا ہے یا پاکستان کے موجودہ سیاسی بحران میں کسی نئی سیاسی پیش رفت کا سبب بنتا ہے۔

Back to top button