میر رضا کا قتل یا خودکشی، حقائق سامنے کب آئیں گے؟

میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے 15 اجلاسوں میں 49 گواہان کے بیانات ریکارڈ کرنے کے بعد اپنی کارروائی مکمل کرلی ہے، تاہم کیس سے جڑے کئی اہم سوالات اب بھی جواب طلب ہیں۔ کمیشن کی کارروائی کے دوران گمشدگی، جیو فینسنگ، سی سی ٹی وی فوٹیج، موبائل فون، ایپل واچ، کرائم سین، مشکوک گاڑی، کرپٹو اکاؤنٹس اور جسم سے ملنے والے اینستھیزیا سمیت مختلف پہلوؤں پر تفصیلی سوالات اٹھائے گئے، جبکہ بعض معاملات میں مزید تحقیقات کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ اب اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ کمیشن کی حتمی رپورٹ میں ان سوالات اور مشاہدات کو کس طرح شامل کیا جاتا ہے اور حکومت سندھ اس رپورٹ کی بنیاد پر کیا اقدامات کرتی ہے۔

جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم کمیشن نے آخری مرحلے میں سی پی ایل سی کے نمائندے کاشف افتخار اور تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج لاشاری کے بیانات ریکارڈ کیے۔ گواہوں سے میر رضا کی گمشدگی، موبائل فون کے ڈیٹا، جیو فینسنگ، سی سی ٹی وی کیمروں، کرائم سین اور پولیس تفتیش کے مختلف پہلوؤں پر سوالات کیے گئے۔ سی پی ایل سی نمائندے کے مطابق میر رضا کا معاملہ ابتدا میں مسنگ پرسن کے طور پر سامنے آیا، جس کے بعد سی ڈی آر، جیو فینسنگ اور دیگر دستیاب ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا، تاہم کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آسکا۔

کمیشن کو بتایا گیا کہ 28 اور 29 جولائی سے جیو فینسنگ کا عمل شروع کیا گیا۔ میر رضا کے فون سے رات 4 بج کر 22 منٹ تک ایس ایم ایس موصول ہونے، 4 بج کر 7 منٹ پر آن لائن ٹیکسی ڈرائیور سے رابطے اور 4 بج کر 25 منٹ تک انٹرنیٹ فعال رہنے کی تفصیلات بھی سامنے آئیں۔ تقریباً 48 گھنٹوں کے ڈیٹا کا جائزہ لیتے ہوئے ہزاروں نمبرز کو فلٹر کیا گیا، تاہم سی پی ایل سی کے مطابق کوئی ایسا غیر معمولی نمبر سامنے نہیں آیا جس سے تفتیش کو حتمی سمت مل سکتی۔

سی سی ٹی وی کے حوالے سے بھی اہم معلومات سامنے آئیں۔ گلستان جوہر کے بلاک 1 سے 4 تک نیبرہڈ کیئر کے تحت 46 کیمرے نصب ہونے کے باوجود وقوعہ کا مقام مکمل طور پر کیمروں کی کوریج میں نہیں تھا۔ میر رضا صرف 3 کیمروں میں نظر آیا جبکہ نجی کیمروں کی بیشتر فوٹیجز یا تو دستیاب نہیں تھیں یا ان کا معیار تحقیقات کے لیے کافی نہیں تھا۔ پولیس کی جانب سے آئی پی ایڈریسز کے حصول کے لیے متعلقہ اداروں اور ایپل کو خطوط بھیجے جانے کا بھی بتایا گیا۔

تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج لاشاری نے بتایا کہ انہوں نے 13 اگست کو تفتیش سنبھالی اور قتل سمیت مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کیں۔ کمیشن نے کرائم سین پر درجنوں پولیس اہلکاروں کی موجودگی، کرائم سین یونٹ کی آمد سے متعلق سرکاری یادداشتوں میں تضاد اور گیسٹ ہاؤس کا ڈی وی آر ایس ایچ او کی گاڑی کی ڈگی میں موجود رہنے جیسے معاملات پر بھی سوالات اٹھائے۔ کمیشن کے ریمارکس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تفتیش کے بعض مراحل میں طریقہ کار سے متعلق ایسے سوالات پیدا ہوئے جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

کمیشن نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ اگر مقررہ طریقہ کار پر عمل نہ ہوا ہو تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے تھی۔ کمیشن کے مطابق ابتدائی طور پر صرف نچلے درجے کے بعض افسران کو معطل کیا گیا، جبکہ ذمہ داری کے تعین میں اعلیٰ سطح کے کردار کو بھی دیکھا جانا چاہیے تھا۔ تاہم ان ریمارکس کی حتمی قانونی اور انتظامی حیثیت کمیشن کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوگی۔

کیس کے ایک اور اہم پہلو کے طور پر میر رضا کے کرپٹو اکاؤنٹس کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ کمیشن نے تقریباً 9 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز اور ممکنہ طور پر 3 کروڑ روپے کے نقصان سے متعلق سوالات کیے اور اصل مالی نقصان کی تصدیق کے لیے منافع و نقصان کا مکمل حسابی ریکارڈ حاصل کرنے کی ہدایت کی۔ اسی طرح ایپل واچ کی فرانزک رپورٹ، موبائل فون سے ڈیٹا ریکور نہ ہونے، مشکوک گاڑی اور جسم سے ملنے والے اینستھیزیا سے متعلق شواہد پر بھی مزید وضاحت طلب کی گئی۔

اینستھیزیا کے معاملے نے تحقیقات میں ایک الگ سوال پیدا کیا ہے، جس پر کمیشن نے مزید تحقیق کی ہدایت کی ہے۔ ڈاکٹر اسامہ کے بیان اور دستیاب شواہد کو بھی اسی تناظر میں دیکھا گیا۔ اسی طرح نجی گفتگو کے ذرائع ابلاغ تک پہنچنے کے معاملے کی تحقیقات کا حکم بھی دیا گیا، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حساس تفتیشی معلومات یا نجی گفتگو کس طریقے سے باہر پہنچی اور اس کے ذمہ دار کون تھے۔

کمیشن نے کارروائی مکمل کرتے ہوئے یہ اہم ریمارکس بھی دیے کہ اگر کمیشن کی کارروائی نہ ہوتی تو خاندان کو بہت سی معلومات فراہم نہ کی جاتیں اور خاندان کے متعدد خدشات درست ثابت ہوئے۔ تاہم ان ریمارکس کو بھی حتمی نتیجہ قرار دینے کے بجائے کمیشن کی مکمل رپورٹ کے تناظر میں دیکھنا ہوگا، کیونکہ اصل اہمیت ان شواہد، فائنڈنگز اور سفارشات کی ہوگی جو رپورٹ میں شامل کی جائیں گی۔

اب معاملے کا اگلا مرحلہ کمیشن کی رپورٹ ہے۔ رپورٹ وزیر اعلیٰ سندھ کی صوابدید پر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے مطالبہ کیا ہے کہ رپورٹ خاندان کو بھی فراہم کی جائے، بصورت دیگر ان کے بقول پوری کارروائی کا مقصد متاثر ہوسکتا ہے۔ میر رضا کی بہن علیشباہ نے بھی کہا کہ کمیشن کی کارروائی سے خاندان کے خدشات اور سوالات واضح ہوئے اور امید ہے کہ تمام اہم فائنڈنگز حتمی رپورٹ کا حصہ بنیں گی۔

میر رضا کیس میں اب سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ کمیشن نے کتنے اجلاس کیے یا کتنے گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے، بلکہ یہ ہے کہ اس طویل کارروائی کے نتیجے میں سامنے آنے والے سوالات کے واضح جوابات کس حد تک فراہم کیے جاتے ہیں۔ جیو فینسنگ سے لے کر سی سی ٹی وی، کرائم سین، فرانزک شواہد، اینستھیزیا، کرپٹو لین دین اور حساس معلومات کے افشا تک متعدد پہلوؤں پر سوالات اٹھ چکے ہیں۔ اس لیے حتمی رپورٹ کی شفافیت، اس میں شامل فائنڈنگز اور ان پر حکومت سندھ کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کیس کی آئندہ سمت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

Back to top button