لانگ مارچ کے باوجودPTIسے بیک ڈور رابطے کون کر رہا ہے؟

پاکستان تحریک انصاف کا اسلام آباد کی جانب مارچ جاری ہے، باضابطہ مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہوچکا ہے، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بیانات میں سختی بھی نمایاں ہے، لیکن اس تمام کشیدگی کے باوجود سیاسی رابطوں کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی اور تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کے درمیان پسِ پردہ رابطوں کا برقرار رہنا اس بات کی علامت ہے کہ فریقین کے درمیان اختلافات اپنی جگہ موجود ہونے کے باوجود حالات کو مزید بگاڑ سے بچانے اور کسی ممکنہ سیاسی راستے کی تلاش جاری ہے۔

اسلام آباد کی جانب تحریک انصاف کے مارچ اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی نے ملک کی سیاسی صورتحال کو ایک مرتبہ پھر غیر یقینی سے دوچار کردیا ہے۔ چند روز تک حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے ذریعے احتجاج کو روکنے اور سیاسی معاملات کو بات چیت سے حل کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی، عمران خان سے ملاقات اور دیگر سیاسی و قانونی معاملات پر اختلافات دور نہ ہوسکے۔ نتیجتاً مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہوگیا اور تحریک انصاف نے مارچ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم باضابطہ مذاکرات کے خاتمے کا مطلب یہ نہیں کہ سیاسی رابطے بھی ختم ہوگئے ہیں۔ بیرسٹر گوہر اور محسن نقوی کے درمیان مسلسل رابطہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں فریق کم از کم ایک ایسا راستہ کھلا رکھنا چاہتے ہیں جس کے ذریعے کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جاسکے۔ سیاسی بحرانوں میں ایسے غیر رسمی رابطے اکثر باضابطہ مذاکرات کے لیے ابتدائی بنیاد فراہم کرتے ہیں، کیونکہ جب سرکاری سطح پر بات چیت رک جائے تو پسِ پردہ رابطے فریقین کے مؤقف کو سمجھنے اور ممکنہ سمجھوتے کے راستے تلاش کرنے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔

حالیہ مذاکرات میں متعدد سیاسی اور قانونی معاملات پر پیش رفت کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ تحریک انصاف کی جانب سے عمران خان سے اہل خانہ اور وکلا کی ملاقات، ان کے قانونی معاملات اور جیل سے متعلق سہولیات سمیت مختلف مطالبات پیش کیے گئے، جبکہ حکومت کی بنیادی ترجیح مارچ ختم کرنا اور اسلام آباد میں طویل احتجاج یا دھرنے کی صورتحال پیدا ہونے سے روکنا رہی۔ اسی دوران خیبرپختونخوا میں انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی ایک اہم اختلاف کے طور پر سامنے آئی، جس نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بھی تحریک انصاف پر زور دیا ہے کہ وہ مارچ ختم کرکے دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ سیاسی مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے نکالا جاسکتا ہے، لیکن احتجاج کے جاری رہنے کی صورت میں ریاستی ذمہ داریوں اور عوامی زندگی کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق اقدامات کیے جائیں گے۔ دوسری جانب بیرسٹر گوہر کا مؤقف ہے کہ تحریک انصاف مذاکرات سے انکار نہیں کررہی، تاہم مذاکرات غیر مشروط ہونے چاہئیں اور محض پیشکشوں کے بجائے عملی اقدامات بھی سامنے آنے چاہئیں۔

یہی اختلاف موجودہ سیاسی بحران کی بنیادی پیچیدگی ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ احتجاج پہلے ختم ہو تاکہ ماحول سازگار ہوسکے، جبکہ تحریک انصاف احتجاج کو اپنے سیاسی دباؤ کا بنیادی ذریعہ سمجھتے ہوئے مطالبات پورے ہونے تک اسے جاری رکھنا چاہتی ہے۔ دونوں فریقوں کے مؤقف میں موجود یہ بنیادی فرق ہی مذاکرات کی بحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن رہا ہے۔

دوسری جانب حکومت کے لیے اسلام آباد میں طویل احتجاج کا معاملہ محض سیاسی نہیں بلکہ انتظامی اور معاشی مسئلہ بھی ہے۔ دارالحکومت میں بڑے پیمانے پر احتجاج، سڑکوں کی بندش اور کاروباری سرگرمیوں میں خلل نہ صرف شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے بلکہ ملکی معیشت اور سیاسی استحکام پر بھی اثر انداز ہوسکتا ہے۔ اسی لیے حکومت مارچ کو اسلام آباد تک پہنچنے سے روکنے کے لیے انتظامی اقدامات پر زور دے رہی ہے۔

تحریک انصاف کے لیے بھی موجودہ مارچ ایک اہم سیاسی مرحلہ ہے۔ پارٹی اسے عمران خان اور دیگر سیاسی مطالبات کے لیے دباؤ بڑھانے کا ذریعہ قرار دے رہی ہے۔ تاہم مارچ کی سیاسی کامیابی کا انحصار صرف کارکنوں کی تعداد یا احتجاج کے دورانیے پر نہیں بلکہ اس بات پر بھی ہوگا کہ آیا یہ دباؤ کسی قابلِ عمل سیاسی نتیجے میں تبدیل ہوسکتا ہے یا نہیں۔

خیبرپختونخوا کی صورتحال اس پورے معاملے کو مزید حساس بنا رہی ہے۔ صوبہ پہلے ہی دہشت گردی کے سنگین مسئلے کا سامنا کررہا ہے اور وفاق و صوبے کے درمیان سکیورٹی پالیسی پر اختلافات سیاسی تنازع کو مزید پیچیدہ کررہے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف قومی سطح پر مربوط حکمت عملی ضروری ہے، جبکہ تحریک انصاف صوبائی معاملات میں اپنے سیاسی اور انتظامی مؤقف پر قائم ہے۔ یہی معاملہ گزشتہ مذاکرات میں بھی اہم اختلاف کا سبب بنا۔

اس صورتحال میں محسن نقوی اور بیرسٹر گوہر کے درمیان رابطے خاص اہمیت اختیار کرجاتے ہیں۔ اگرچہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ پسِ پردہ رابطے کسی باقاعدہ معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہوجائیں گے، تاہم سیاسی رابطے کا برقرار رہنا کم از کم یہ ظاہر کرتا ہے کہ دونوں فریق مکمل تصادم کی طرف جانے کے بجائے کسی نہ کسی مرحلے پر سیاسی راستہ تلاش کرنے کی گنجائش برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال میں سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ احتجاج، حکومت کی رٹ، اپوزیشن کے سیاسی حقوق اور عوامی زندگی کے درمیان ایسا توازن پیدا کیا جائے جس سے بحران مزید نہ بڑھے۔ سیاسی اختلاف جمہوری نظام کا حصہ ہے، لیکن جب اختلاف مستقل محاذ آرائی میں تبدیل ہوجائے تو اس کے اثرات سیاست سے نکل کر معیشت، انتظامیہ اور معاشرتی زندگی تک پہنچتے ہیں۔

موجودہ حالات میں بیک چینل رابطے اس لیے بھی اہم ہیں کہ باضابطہ مذاکرات کی میز دوبارہ سجانے کے لیے کسی نہ کسی ابتدائی رابطے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر محسن نقوی اور بیرسٹر گوہر کے درمیان رابطہ برقرار رہتا ہے تو یہ مستقبل میں مذاکرات کی بحالی کے لیے ایک ممکنہ راستہ فراہم کرسکتا ہے۔ تاہم کسی بھی پیش رفت کے لیے دونوں فریقوں کو اپنے بنیادی مؤقف کے ساتھ ساتھ سیاسی لچک کا مظاہرہ بھی کرنا ہوگا۔

بالآخر موجودہ بحران کا حل سڑکوں اور طاقت کے مظاہرے سے زیادہ سیاسی مکالمے میں پوشیدہ ہے۔ تحریک انصاف اپنے احتجاج اور مطالبات کے ذریعے سیاسی دباؤ برقرار رکھ سکتی ہے، جبکہ حکومت ریاستی ذمہ داریوں اور انتظامی اقدامات کے ذریعے اپنی پوزیشن واضح کرسکتی ہے، لیکن پائیدار حل اسی وقت ممکن ہوگا جب دونوں فریق کسی ایسے سمجھوتے تک پہنچیں جو سیاسی اختلاف کو ختم نہ سہی، مگر اسے آئینی اور جمہوری دائرے میں رکھ سکے۔ باضابطہ مذاکرات ختم ہونے کے باوجود بیک چینل رابطوں کا برقرار رہنا اس بات کا اشارہ ضرور ہے کہ سیاسی راستہ ابھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔

Back to top button