نانا پاٹیکر کا انتقال، اداکاری کی دنیا کا ایک عہد تمام ہوگیا

اپنی منفرد آواز، بے مثال مکالمہ ادائیگی، حقیقت سے قریب کرداروں اور گہری اداکاری کے ذریعے کئی نسلوں کے ناظرین کے دلوں میں جگہ بنانے والے ورسٹائل اداکار نانا پاٹیکر 75 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان کی وفات نے بھارتی فلمی صنعت کے ساتھ ان کے کروڑوں مداحوں کو بھی سوگوار کردیا ہے۔ تاہم ان کی رحلت کے بعد بھی ’ہمارے بعد محفل میں افسانے بیان ہوں گے، بہاریں ہم کو ڈھونڈیں گی، ہم نہ جانے کہاں ہوں گے‘ جیسے یادگار مکالموں سے لے کر پردۂ سیمیں پر ان کے سنجیدہ، مزاحیہ، جذباتی اور طاقتور کردار آج بھی شائقین کے ذہنوں میں زندہ ہیں۔
انڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق نانا پاٹیکر نے گوا میں آخری سانس لی، جہاں وہ اپنی زندگی کے آخری ایام گزار رہے تھے۔ ان کے بیٹے ملہار پاٹیکر نے بھی ان کی وفات کی تصدیق کردی۔ ان کی اچانک موت کی خبر نے فلمی دنیا میں گہرے دکھ کی لہر دوڑا دی، خصوصاً اس لیے کہ ان کی صحت کے حوالے سے اس سے قبل کوئی ایسی تشویش ناک اطلاع سامنے نہیں آئی تھی۔
سینئر صحافی راج دیپ سردیسائی نے بھی نانا پاٹیکر کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں نہ صرف ایک شاندار اداکار بلکہ ایک اچھا دوست قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ وفات سے صرف ایک روز قبل ان کی نانا پاٹیکر سے بات ہوئی تھی اور ان کے آخری الفاظ تھے، ’اپنا خیال رکھنا راجا۔‘ یہ الفاظ نانا پاٹیکر کی شخصیت کے اس انسانی پہلو کی عکاسی کرتے ہیں جو ان کے فلمی کرداروں سے الگ ان کے قریبی لوگوں کے لیے ہمیشہ نمایاں رہا۔
نانا پاٹیکر نے اپنے طویل فلمی سفر میں ایسے کردار ادا کیے جو صرف کہانی کا حصہ نہیں بنے بلکہ بھارتی سینما کی شناخت کا حصہ بن گئے۔ ان کی اداکاری میں مکالمے کے ساتھ چہرے کے تاثرات، آواز کا اتار چڑھاؤ اور کردار کی داخلی کیفیت کو نمایاں کرنے کی غیر معمولی صلاحیت موجود تھی۔ یہی وجہ تھی کہ وہ روایتی ہیرو کے بجائے مختلف اور پیچیدہ کرداروں میں بھی اپنی الگ شناخت بنانے میں کامیاب رہے۔
نانا پاٹیکر نے 1978 میں ریلیز ہونے والی فلم ’گمن‘ سے فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ ابتدائی دور میں انہوں نے تھیٹر اور سنجیدہ سینما کے ذریعے اپنی شناخت بنائی اور بعدازاں ہندی اور مراٹھی فلموں میں مختلف النوع کردار ادا کیے۔ ’پرندا‘، ’پراہار: دی فائنل اٹیک‘، ’کرانتی ویر‘، ’اگنی ساکشی‘، ’خاموشی: دی میوزیکل‘، ’اب تک چھپن‘ اور ’ویلکم‘ جیسی فلموں نے انہیں ایک ایسے اداکار کے طور پر منوایا جو ایک ہی طرز کے کرداروں تک محدود نہیں تھا۔
2000 کی دہائی میں نانا پاٹیکر کی اداکاری کو خاص طور پر وسیع پیمانے پر سراہا گیا۔ ’شکتی: دی پاور‘، ’اب تک چھپن‘، ’اپہرن‘ اور ’ٹیکسی نمبر 9211‘ جیسی فلموں میں ان کے کرداروں نے ان کی فنی صلاحیتوں کے مختلف پہلو نمایاں کیے۔ وہ کبھی سخت گیر پولیس افسر کے روپ میں دکھائی دیے، کبھی طاقتور سیاسی یا سماجی کردار میں اور کبھی ایسے کردار میں جس میں جذبات، غصے اور مزاح کا غیر معمولی امتزاج نظر آیا۔
2007 میں ریلیز ہونے والی کامیڈی فلم ’ویلکم‘ نے نانا پاٹیکر کے فلمی کیریئر کا ایک مختلف پہلو سامنے لایا۔ ادے شیٹی کے کردار میں ان کی برجستہ اداکاری، مخصوص لہجہ اور مکالموں کی ادائیگی نے ناظرین کو بے حد محظوظ کیا۔ یہ کردار اتنا مقبول ہوا کہ بعد میں ’ویلکم بیک‘ میں بھی انہوں نے اسی کردار کو دوبارہ نبھایا۔
نانا پاٹیکر صرف اداکار ہی نہیں تھے بلکہ ہدایت کاری اور تھیٹر سے بھی گہرا تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے ’پراہار: دی فائنل اٹیک‘ کی ہدایت کاری بھی کی اور اس کے ذریعے فلم سازی میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ انہوں نے پلے بیک گائیکی میں بھی اپنی آواز کا تجربہ کیا اور ’یشونت‘، ’وجود‘ اور ’آنچ‘ سمیت مختلف فلموں کے لیے گیت گائے۔
سنجیدہ اداکاری سے کامیڈی تک نانا پاٹیکر نے اپنے فن کی وسعت کا ثبوت دیا۔ ’راج نیتی‘ میں ان کا کردار بھی خاص طور پر قابلِ ذکر رہا اور اس فلم کے لیے انہیں بہترین معاون اداکار کے فلمی ایوارڈ کی نامزدگی ملی۔ ان کی اداکاری میں ایک ایسی شدت موجود تھی جو معمولی سے مکالمے کو بھی یادگار بنا دیتی تھی۔
زندگی کے آخری برسوں میں بھی نانا پاٹیکر نے فلمی دنیا سے خود کو مکمل طور پر الگ نہیں کیا۔ وہ ’ونواس‘، ’ہاؤس فل 5‘ اور ’او رومیو‘ جیسی فلموں میں نظر آئے۔ ’او رومیو‘ میں انہوں نے ایک اہم کردار ادا کیا، جبکہ 2026 میں سیاسی ڈراما سیریز ’سنکلپ‘ کے ذریعے انہوں نے او ٹی ٹی کی دنیا میں بھی قدم رکھا اور مرکزی کرداروں میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔
سنیما اور فنونِ لطیفہ کے لیے ان کی خدمات کا اعتراف حکومتِ ہند نے بھی کیا اور انہیں 2013 میں پدم شری سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز ان کے کئی دہائیوں پر محیط فنی سفر اور بھارتی فلمی دنیا میں ان کی خدمات کا اعتراف تھا۔
نانا پاٹیکر کا فلمی سفر تقریباً 5 دہائیوں پر محیط رہا، جس میں انہوں نے تھیٹر، اداکاری، ہدایت کاری اور گائیکی سمیت مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ ان کی سب سے بڑی خصوصیت یہی تھی کہ انہوں نے خود کو کسی ایک مخصوص کردار یا فلمی انداز تک محدود نہیں کیا۔ ان کے کرداروں میں کبھی شدت تھی، کبھی حساسیت، کبھی طنز اور کبھی ایسا مزاح جو دیکھنے والے کو بے اختیار ہنسنے پر مجبور کردیتا تھا۔
نانا پاٹیکر کے انتقال کے ساتھ بھارتی سینما نے صرف ایک اداکار نہیں بلکہ ایک منفرد فنکار کھو دیا ہے۔ ایسے فنکار جو اپنی موجودگی سے کردار کو شناخت دے دیتے ہیں، ہر دور میں کم پیدا ہوتے ہیں۔ نانا پاٹیکر بھی انہی اداکاروں میں شامل تھے جنہوں نے اپنے فن سے یہ ثابت کیا کہ ایک مضبوط اداکار کے لیے صرف مرکزی کردار ضروری نہیں، بلکہ کردار کی گہرائی اور اسے نبھانے کا انداز اسے ہمیشہ کے لیے یادگار بنا سکتا ہے۔ ان کی آواز، مکالمے اور بے مثال کردار بھارتی سینما کی تاریخ میں طویل عرصے تک زندہ رہیں گے۔
