پی ٹی آئی لانگ مارچ: مذاکرات ناکام، محسن نقوی اور بیرسٹر گوہر کے پس پردہ رابطے برقرار

 

 

 

 

 

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کے درمیان ایک اور ملاقات ہوئی ہے، جس میں اسلام آباد مارچ کے باعث پیدا ہونے والی کشیدگی کم کرنے اور سیاسی رابطے کا راستہ برقرار رکھنے پر بات چیت کی گئی۔

ذرائع کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ملاقات باضابطہ مذاکرات کی ناکامی اور خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں پی ٹی آئی کے اسلام آباد مارچ کے روانہ ہونے کے بعد ہوئی۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حکومت اور پی ٹی آئی کی جانب سے ایک دوسرے کےخلاف سخت بیانات سامنے آرہے ہیں۔ دونوں فریقوں نے گزشتہ چند روز کے دوران مارچ روکنے کےلیے مذاکرات کیے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ مذاکرات کے دوران متعدد سیاسی اور قانونی معاملات پر نمایاں پیشرفت بھی ہوئی تھی،تاہم خیبرپختونخوا میں انسداد دہشت گردی کے اقدامات سے متعلق اختلافات کے باعث مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے۔

رابطوں سے باخبر ذرائع کےمطابق باضابطہ مذاکرات کی ناکامی کو حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی رابطوں کے مکمل خاتمے سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔

بیرسٹر گوہر اور محسن نقوی کے درمیان مسلسل رابطہ اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں فریق کشیدگی کم کرنے اور حالات کو مزید بگڑنے سے روکنے کےلیے رابطے کا کوئی نہ کوئی چینل کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔

حکومت کی بنیادی تشویش یہ ہےکہ اسلام آباد ایک مرتبہ پھر سڑکوں کی بندش اور دھرنے کی صورت میں طویل سیاسی محاذ آرائی کا مرکز نہ بنے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی نے سیاسی محاذ آرائی کو عمران خان سے متعلق مطالبات کے ساتھ منسلک رکھا ہے، جن میں اہل خانہ اور وکلا کو رسائی سمیت قانونی اور جیل سے متعلق معاملات میں ریلیف شامل ہے۔

آفریدی کنٹینر پر، خیبرپختونخوا کے عوامی مسائل حل کون کرے گا؟

ذرائع کےمطابق گزشتہ مذاکرات میں ان مطالبات سے متعلق بعض معاملات کے حل کےلیے ایک طریقہ کار بھی زیرغور آیا تھا۔

بیرسٹر گوہر اور محسن نقوی کے تازہ رابطے سے ظاہر ہوتا ہےکہ باضابطہ مذاکراتی عمل ختم ہونے اور مارچ شروع ہونے کے باوجود حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی رابطے کا راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔

 

Back to top button