اچکزئی،حکومت اور PTIکےمابین مذاکرات میں رکاوٹ کیسے بنے؟

حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کا عمل اس وقت بے نتیجہ ختم ہوا جب دونوں جانب سے ایک دوسرے پر ڈیڈلاک کی ذمہ داری عائد کی جانے لگی۔ مذاکرات کی ناکامی کی کئی وجوہات بیان کی جا رہی ہیں، تاہم اس پورے عمل میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا کردار بھی خاص توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹی پر ان کا خاصا اثر تھا اور وہ متعدد اہم معاملات کو بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات اور ان تک رسائی سے جوڑتے رہے۔
مذاکرات کے آغاز ہی سے اپوزیشن کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آتا رہا کہ عمران خان سے ملاقات کے بغیر کسی اہم معاملے پر حتمی فیصلہ کرنا مشکل ہوگا۔ محمود اچکزئی اور اپوزیشن کے بعض دیگر رہنماؤں کی جانب سے بھی عمران خان سے ملاقات کو مذاکراتی عمل کی پیش رفت سے جوڑا جاتا رہا۔ اس صورتحال میں مذاکرات کا دائرہ محض حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی معاملات تک محدود نہیں رہا بلکہ عمران خان سے ملاقات، ان کی رہائی، لانگ مارچ کو مؤخر کرنے اور انسداد دہشت گردی سے متعلق معاملات بھی باہمی اعتماد کے بنیادی سوالات بن گئے۔
محمود اچکزئی خود مذاکرات کی بعض اہم نشستوں میں شریک نہیں ہوئے، تاہم ذرائع کے مطابق وہ اپوزیشن مذاکراتی ٹیم کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے۔ 2 اکتوبر کو مذاکرات کے باضابطہ آغاز کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت سے انہیں آگاہ کیا۔ بعد ازاں ان کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ آئندہ لائحہ عمل طے کرنے سے قبل عمران خان سے ملاقات ضروری ہے۔ یوں مذاکراتی ٹیم کے لیے فیصلہ سازی کا عمل بھی براہ راست بانی پی ٹی آئی تک رسائی کے مسئلے سے جڑتا چلا گیا۔
محمود اچکزئی اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات کا معاملہ بھی مذاکرات کے آغاز سے قبل ہی ایک علامتی تنازع بن گیا۔ اچکزئی نے وزیراعظم سے وزیراعظم ہاؤس یا ان کے چیمبر میں ملاقات سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وہ وزیراعظم سے کسی بھی گلی یا درخت کے نیچے ملاقات کرسکتے ہیں، لیکن سرکاری دفتر میں ملاقات نہیں کریں گے۔ اس مؤقف نے ظاہر کیا کہ ان کے نزدیک مذاکرات صرف ملاقات یا بات چیت کا نام نہیں بلکہ فریقین کی سیاسی حیثیت، مقام اور برابری کے سوالات بھی اس عمل کا حصہ تھے۔
تاہم مذاکرات کی ناکامی کو صرف محمود اچکزئی کے کردار سے منسوب کرنا بھی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ اصل تنازع کئی سطحوں پر موجود تھا۔ ایک طرف حکومت چاہتی تھی کہ تحریک انصاف احتجاجی سرگرمیوں، خصوصاً لانگ مارچ کے حوالے سے واضح یقین دہانی دے اور دہشت گردی کے خلاف ریاستی پالیسی میں وفاق اور صوبے کے درمیان مؤثر تعاون یقینی بنایا جائے۔ دوسری جانب تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات، سیاسی مقدمات، رہائی اور اپنے سیاسی مطالبات پر واضح پیش رفت چاہتی تھی۔ جب فریقین کی ترجیحات ایک دوسرے سے جڑتی گئیں تو مذاکرات میں لچک کی گنجائش محدود ہوتی چلی گئی۔
محمود اچکزئی کا موجودہ کردار ان کے ماضی کے سیاسی مؤقف کے تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ ہمیشہ مذاکرات کے مخالف نہیں رہے، لیکن ان کا زور یہ رہا ہے کہ سیاسی مذاکرات آئین کی بالادستی، پارلیمان کے اختیار اور سیاسی جماعتوں کے درمیان برابری کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔ 3 ستمبر 2024 کو قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے تمام اداروں، حتیٰ کہ اسٹیبلشمنٹ سے بھی بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کی تھی، تاہم ان کے مطابق مقصد کسی ادارے سے رہنمائی حاصل کرنا نہیں بلکہ ملک کو بحران سے نکالنے اور آئین کی بالادستی کے لیے بات کرنا تھا۔
18 جنوری 2025 کو ان کا مؤقف اس کے برعکس زیادہ سخت نظر آیا، جب انہوں نے حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کی مخالفت کرتے ہوئے تحریک انصاف کو بات چیت ختم کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ ایسی حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنا جس کے مینڈیٹ پر وہ سوال اٹھاتے ہیں، اسے سیاسی جواز فراہم کرنے کے مترادف ہوگا۔ تاہم 2026 میں مذاکرات کا نیا مرحلہ شروع ہوا تو انہوں نے بات چیت کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں کیا، بلکہ آئینی اور سیاسی بنیادوں پر مذاکرات کی حمایت کی۔
یہی وجہ ہے کہ حالیہ مذاکرات میں محمود اچکزئی کا کردار محض مذاکرات کی مخالفت یا حمایت تک محدود نظر نہیں آتا۔ ان کی ترجیح یہ دکھائی دیتی ہے کہ کسی بھی سیاسی سمجھوتے سے قبل عمران خان کی رضامندی اور براہ راست رابطہ ضروری ہے۔ دوسری طرف حکومت اس بات پر زور دیتی رہی کہ مذاکراتی کمیٹی کو حاصل اختیار کے اندر رہ کر فیصلے کیے جائیں اور احتجاجی دباؤ کو مذاکرات کے ساتھ جوڑا نہ جائے۔ اس اختلاف نے مذاکراتی عمل کو مسلسل غیر یقینی کا شکار رکھا۔
دہشت گردی کا معاملہ بھی مذاکرات کی ناکامی میں ایک اہم عنصر کے طور پر سامنے آیا۔ خیبر پختونخوا میں مسلسل بڑھتے ہوئے سکیورٹی مسائل کے باعث وفاقی حکومت صوبائی حکومت سے انسداد دہشت گردی کے معاملے پر واضح تعاون چاہتی ہے، جبکہ تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ صوبے میں سکیورٹی پالیسی مقامی حالات اور سیاسی مشاورت کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائی جانی چاہیے۔ یہی اختلاف اس وقت مزید اہم ہوگیا جب حکومت نے لانگ مارچ مؤخر کرنے اور دہشت گردی کے خلاف تعاون کو مذاکراتی پیش رفت سے جوڑنے کی کوشش کی۔
یوں دیکھا جائے تو مذاکرات کی ناکامی کسی ایک شخصیت یا ایک مطالبے کا نتیجہ نہیں تھی۔ عمران خان سے ملاقات، سیاسی مقدمات، لانگ مارچ، صوبائی خودمختاری، انسداد دہشت گردی اور فریقین کے درمیان اعتماد کی شدید کمی نے مل کر ایسا ماحول پیدا کیا جس میں کسی حتمی سمجھوتے تک پہنچنا مشکل ہوگیا۔ محمود اچکزئی کا کردار اس پورے عمل میں اس لیے نمایاں ہوا کہ وہ اپوزیشن کی فیصلہ سازی پر اثرانداز ہونے کے ساتھ ساتھ عمران خان تک رسائی اور ان کی منظوری کو بنیادی اہمیت دیتے رہے، لیکن مذاکرات کی مکمل ناکامی کی ذمہ داری صرف انہی پر ڈال دینا سیاسی طور پر ایک یک طرفہ تعبیر ہوگی۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا مذاکرات کی ناکامی کے بعد سیاسی قوتیں دوبارہ بات چیت کی میز پر واپس آسکتی ہیں؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو کامیابی کے لیے ضروری ہوگا کہ فریقین پہلے سے زیادہ واضح اختیار کے ساتھ مذاکرات کریں، ذاتی اور جماعتی مطالبات کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے معاملات کو بھی الگ سطح پر دیکھا جائے اور ایسے نکات تلاش کیے جائیں جن پر کم از کم اتفاق رائے پیدا ہوسکے۔ بصورت دیگر مذاکرات کا ہر نیا دور محض ایک دوسرے کے مؤقف سننے تک محدود رہ سکتا ہے۔
پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال میں سب سے بڑا نقصان اس وقت ہوتا ہے جب مذاکرات کا راستہ بند ہونے کے بعد سڑکیں سیاسی کشمکش کا میدان بن جائیں۔ حکومت اور تحریک انصاف دونوں کے لیے یہ لمحہ محض ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانے کا نہیں بلکہ یہ طے کرنے کا ہے کہ سیاسی اختلاف کو کس حد تک لے جانا ہے اور قومی سلامتی، معیشت اور عام شہری کی زندگی کو سیاسی کشمکش سے کیسے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ محمود اچکزئی سمیت اپوزیشن کی قیادت کے لیے بھی اصل امتحان یہی ہے کہ وہ سیاسی دباؤ اور مذاکرات کے درمیان ایسا توازن پیدا کریں جس سے اختلاف برقرار رہتے ہوئے بھی بات چیت کا دروازہ مکمل طور پر بند نہ ہو۔
