پی ٹی آئی کا لانگ مارچ صرف خیبرپختونخوا تک محدود کیوں؟

تحریک انصاف نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان تو ملک گیر سطح پر کیا، لیکن عملی طور پر اس کی سرگرمیاں زیادہ تر خیبر پختونخوا تک محدود دکھائی دے رہی ہیں۔ سب سے زیادہ آبادی رکھنے والے صوبے پنجاب سمیت سندھ اور بلوچستان سے بڑے قافلوں کا نہ نکلنا محض انتظامی رکاوٹ کا معاملہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے سیاسی حکمت عملی، قیادت کی گرفت، کارکنوں کی آمادگی، حکومتی اقدامات اور گزشتہ احتجاجی تجربات سمیت کئی عوامل کارفرما نظر آتے ہیں۔ یہی صورتحال تحریک انصاف کی موجودہ احتجاجی سیاست کے لیے ایک اہم سوال بن گئی ہے کہ کیا پارٹی اب بھی ماضی کی طرح ملک گیر سطح پر اپنی سڑکوں کی طاقت متحرک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟

تحریک انصاف نے پہلے 27 ستمبر اور پھر 4 اکتوبر کو اسلام آباد لانگ مارچ کی کال دی۔ اس مقصد کے لیے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے لاہور کا دورہ کرکے کارکنوں کو متحرک کرنے کی کوشش بھی کی، تاہم پنجاب سے متوقع بڑے پیمانے پر کارکن سڑکوں پر نہیں نکل سکے۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا میں، جہاں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت موجود ہے، لانگ مارچ کی سرگرمیاں نسبتاً زیادہ نمایاں رہیں۔

پنجاب میں تحریک انصاف کے لیے سب سے بڑی عملی رکاوٹ حکومتی کارروائیاں ہیں۔ 27 ستمبر سے قبل ہی پارٹی کے متعدد رہنماؤں اور عمران خان کی بہنوں کو تین ایم پی او کے تحت نظر بند کیا جاچکا تھا، جبکہ صوبے میں 15 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ ہے۔ تحریک انصاف کی پنجاب لانگ مارچ کمیٹی کے کنوینر ملک ظہیر عباس کھوکھر کے مطابق مختلف شہروں میں گرفتاریوں اور کریک ڈاؤن کے باعث کارکنوں کے لیے متحرک ہونا مشکل ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ قیادت کی جانب سے پنجاب سے کارکنوں کو باقاعدہ روانگی کی ہدایت بھی نہیں دی گئی اور کال ملتے ہی کارکن اسلام آباد یا خیبر پختونخوا پہنچ سکتے ہیں۔

یہ نکتہ اس معاملے کی ایک اہم جہت سامنے لاتا ہے۔ یعنی پنجاب سے قافلوں کی عدم روانگی کو صرف کارکنوں کی عدم دلچسپی قرار دینا مکمل تصویر نہیں ہوگی۔ ایک طرف حکومتی پابندیاں اور گرفتاریاں موجود ہیں تو دوسری جانب خود تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کی جانب سے پنجاب سے بڑے پیمانے پر قافلے روانہ کرنے کی واضح اور مسلسل حکمت عملی بھی پوری طرح سامنے نہیں آئی۔

تجزیہ کار محمل سرفراز کے مطابق پنجاب میں تحریک انصاف کی احتجاجی سرگرمیوں کو ماضی میں کئی مرتبہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور بار بار احتجاجی سیاست کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات نے پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے لیے سیاسی و انتظامی خطرات بڑھا دیے ہیں۔ ان کے مطابق تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے بھی تحریک انصاف کو یہ مشورہ دیا گیا کہ ملک کے دیگر صوبوں سے کارکنوں کو بلا کر ایسا تصادم پیدا نہ کیا جائے جس سے مذاکرات کا ماحول مزید خراب ہو۔

دوسری طرف تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق تحریک انصاف کی احتجاجی سیاست کی طاقت میں گزشتہ چند برسوں کے دوران تبدیلی آئی ہے۔ ان کے خیال میں 9 مئی کے واقعات کے بعد ریاستی ردعمل، پارٹی رہنماؤں کی گرفتاریوں اور احتجاجی سیاست کے مسلسل سلسلے نے پنجاب میں تحریک انصاف کی تنظیمی اور سیاسی سرگرمیوں کو متاثر کیا۔ ان کے مطابق ماضی میں تحریک انصاف پنجاب میں احتجاجی سیاست کے ذریعے حکومتوں پر دباؤ ڈالنے میں کامیاب رہی، لیکن موجودہ حالات میں پارٹی کی سڑکوں پر موجودگی پہلے جیسی نہیں رہی۔

پنجاب میں تحریک انصاف کے لیے ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ پارٹی کے متعدد اہم رہنما یا تو جیل میں ہیں، سیاسی سرگرمیوں سے دور ہیں یا پھر ان کی توجہ احتجاج کے بجائے دیگر سیاسی محاذوں پر ہے۔ اس کے نتیجے میں پنجاب میں وہ تنظیمی قیادت اور مقامی سطح کی تحریک نظر نہیں آتی جو بڑے پیمانے پر کارکنوں کو متحرک کرسکے۔ تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کے حوالے سے بھی یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ وہ موجودہ سیاسی حکمت عملی میں اپنے کردار اور اختیار کو کس حد تک مؤثر سمجھتے ہیں۔

یہ صورتحال سندھ اور بلوچستان میں بھی کسی حد تک دکھائی دیتی ہے، جہاں تحریک انصاف کی تنظیمی اور انتخابی موجودگی پنجاب یا خیبر پختونخوا کے مقابلے میں مختلف نوعیت کی ہے۔ تاہم ان صوبوں سے قافلوں کی عدم روانگی کو صرف کارکنوں کی عدم دلچسپی قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا، کیونکہ جغرافیائی فاصلے، مقامی سیاسی حالات، تنظیمی ڈھانچے، حکومتی اقدامات اور قیادت کی ہدایات بھی اس میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔

اس پورے معاملے میں خیبر پختونخوا کی صورتحال سب سے مختلف ہے۔ یہاں تحریک انصاف کی حکومت موجود ہے، پارٹی کا مضبوط تنظیمی ڈھانچہ ہے اور صوبائی حکومت کے وسائل اور انتظامی ماحول نے کارکنوں کے متحرک ہونے کے لیے نسبتاً مختلف حالات پیدا کیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ لانگ مارچ عملاً خیبر پختونخوا سے زیادہ نمایاں نظر آتا ہے، جبکہ پنجاب جیسے بڑے سیاسی اور آبادی والے صوبے میں اس کی رفتار محدود دکھائی دے رہی ہے۔

تحریک انصاف کے لیے اصل چیلنج یہی ہے کہ خیبر پختونخوا سے نکلنے والا احتجاج کس حد تک ملک گیر سیاسی تحریک میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ صرف ایک صوبے میں کارکنوں کی بڑی تعداد کی موجودگی اسلام آباد پر سیاسی دباؤ پیدا کرسکتی ہے، لیکن اسے ملک گیر تحریک میں تبدیل کرنے کے لیے پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں بھی تنظیمی اور سیاسی سرگرمی ضروری ہوگی۔ دوسری جانب حکومت کے لیے بھی یہ سوال اہم ہے کہ احتجاج کو انتظامی اقدامات کے ذریعے محدود کرنے کے بجائے سیاسی مذاکرات کے ذریعے کس حد تک قابو میں رکھا جاسکتا ہے۔

حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کا ایک مرحلہ ناکام ہونے کے باوجود دوبارہ رابطوں کی کوششیں جاری ہیں۔ اس لیے موجودہ صورتحال میں لانگ مارچ اور مذاکرات ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ ایک دوسرے پر اثرانداز ہونے والے دو سیاسی راستے بن چکے ہیں۔ تحریک انصاف سڑکوں پر دباؤ بڑھا کر مذاکرات میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتی ہے، جبکہ حکومت احتجاج کے پھیلاؤ کو روک کر سیاسی عمل کو مذاکرات کی میز تک محدود رکھنے کی کوشش کرتی دکھائی دیتی ہے۔

یوں پنجاب سے قافلوں کا نہ نکلنا تحریک انصاف کی موجودہ سیاسی حکمت عملی کی ایک بڑی کمزوری یا محض حکومتی رکاوٹ، دونوں میں سے کسی ایک عنوان میں مکمل طور پر بیان نہیں کیا جاسکتا۔ دستیاب شواہد بتاتے ہیں کہ گرفتاریوں، دفعہ 144، حکومتی اقدامات، قیادت کی ہدایات، تنظیمی کمزوریوں، کارکنوں کے بدلتے رویے اور گزشتہ احتجاجی واقعات کے اثرات سب اس صورتحال میں شامل ہیں۔

بالآخر اس لانگ مارچ کی سیاسی اہمیت کا بڑا پیمانہ یہ ہوگا کہ تحریک انصاف خیبر پختونخوا سے باہر کس حد تک اپنی تنظیمی قوت متحرک کرپاتی ہے۔ اگر پنجاب اور دیگر صوبوں میں بڑے پیمانے پر کارکن سڑکوں پر نہیں آتے تو تحریک کی ملک گیر نوعیت محدود رہنے کا سوال برقرار رہے گا۔ اس کے برعکس اگر قیادت واضح حکمت عملی کے ساتھ دیگر صوبوں کو بھی متحرک کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو موجودہ احتجاج کا سیاسی دائرہ نمایاں طور پر وسیع ہوسکتا ہے۔ موجودہ مرحلے پر اصل سوال یہی ہے کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ خیبر پختونخوا تک محدود احتجاج رہتا ہے یا پنجاب سمیت ملک کے دیگر حصوں میں بھی دوبارہ سیاسی قوت کو سڑکوں پر لانے میں کامیاب ہوتا ہے۔

Back to top button