دہشت گردی کے خلاف پالیسی پرحکومت اورPTIمیں اصل اختلاف کیا؟

خیبر پختونخوا میں سیاسی کشمکش کے بیچ اب اصل سوال لانگ مارچ، احتجاج یا حکومت کی تبدیلی سے آگے بڑھ کر دہشت گردی کے خلاف ریاستی پالیسی پر آ کھڑا ہوا ہے۔ وفاق اور تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان اختلاف صرف اس بات پر نہیں کہ دہشت گردی سے کیسے نمٹا جائے، بلکہ بنیادی سوال یہ بن چکا ہے کہ صوبائی حکومت اور وفاق اپنی اپنی ذمہ داریوں کو کس حد تک ادا کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پالیسی سازی میں صوبے کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا، جبکہ وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت سے پالیسی کی شکایت کے بجائے یہ پوچھا جانا چاہیے کہ صوبائی دائرۂ اختیار میں دہشت گردی کے تدارک، پولیس کی استعداد، سرحدی حملوں کے خلاف ردعمل اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو وسائل کی فراہمی کے لیے عملی طور پر کیا اقدامات کیے گئے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف کے مطابق گزشتہ دو برس میں خیبر پختونخوا میں تقریباً 6,200 دہشت گردی کے واقعات ہوئے جن میں تقریباً 1,200 افراد شہید ہوئے، جبکہ ان کے مطابق افغان شہریوں سے منسوب 37 خودکش حملے ہوئے اور رواں سال 14 خودکش حملے ہوچکے ہیں، جن میں اکثریت افغان شہریوں کی تھی۔ یہ اعداد و شمار وفاقی حکومت کے مؤقف کو ظاہر کرتے ہیں کہ صوبے میں امن و امان کا مسئلہ محض سیاسی اختلاف نہیں بلکہ ایک سنگین سکیورٹی چیلنج ہے۔
تحریک انصاف کی جانب سے بنیادی اعتراض یہ سامنے آتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی بند کمروں میں طے نہیں ہونی چاہیے اور صوبائی حکومت کو فیصلہ سازی میں مؤثر کردار دیا جانا چاہیے۔ دوسری طرف وفاقی حکومت کا سوال یہ ہے کہ اگر صوبائی حکومت کو پالیسی سازی سے اختلاف ہے تو کیا اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ دہشت گرد تنظیموں، سرحد پار حملوں اور پاکستان میں سکیورٹی اہلکاروں و شہریوں پر حملوں کی کھل کر مذمت کرنے میں کوئی رکاوٹ موجود ہے؟ اسی مقام پر دونوں بیانیوں کے درمیان اصل فاصلہ نمایاں ہوتا ہے۔
وفاقی مؤقف میں ایک اہم سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت کو پولیس، کاؤنٹر ٹیررازم، ضم شدہ اضلاع، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مقامی انتظامیہ کے حوالے سے اپنے دائرۂ اختیار میں اقدامات کا موقع حاصل رہا۔ چنانچہ اب بحث اس نکتے پر مرکوز ہورہی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاق اور صوبے کی ذمہ داریوں کی واضح حد بندی کیا ہے اور کون سا ادارہ کس سطح پر کیا عملی اقدام کرنے کا پابند ہے۔
اسی تناظر میں خیبر پختونخوا پولیس کی استعداد بھی اہم سوال بن چکی ہے۔ خواجہ آصف کے مطابق صوبائی پولیس کی مجموعی نفری تقریباً 1 لاکھ 25 ہزار ہے، جن میں سے 13 ہزار اہلکار وی آئی پی پروٹوکول پر تعینات ہیں، جبکہ 17 ہزار آسامیاں خالی ہیں۔ ان اعداد و شمار کے مطابق دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے میں ایک طرف پولیس کو سکیورٹی کا بڑا بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے اور دوسری طرف افرادی قوت کی کمی کا مسئلہ موجود ہے۔
کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی صورتحال بھی اسی بحث کا مرکزی حصہ ہے۔ وفاقی حکومت کے مطابق ضم شدہ اضلاع میں سی ٹی ڈی کی استعداد محدود ہے، مجموعی نفری تقریباً 3,300 ہے اور پورے محکمہ کے پاس 17 بلٹ پروف گاڑیاں ہیں۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا پولیس کے اپنے ریکارڈ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت نے پولیس کو جدید گاڑیوں، ڈرونز اور دیگر سازوسامان فراہم کرنے کے اقدامات کیے ہیں، جبکہ مارچ 2026 میں خیبر پختونخوا پولیس نے ملک کا پہلا باقاعدہ یو اے وی ڈویژن قائم کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔ اس لیے اصل سوال صرف یہ نہیں کہ وسائل فراہم ہوئے یا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ مطلوبہ ضرورت کے مقابلے میں کتنے وسائل فراہم ہوئے، کہاں استعمال ہوئے اور ان کے نتائج کیا نکلے۔
پولیس چوکیوں کی تعمیر نو اور مضبوطی کے حوالے سے بھی وفاقی حکومت نے سوال اٹھایا ہے۔ خواجہ آصف کے مطابق پولیس نے اس مقصد کے لیے 42 ارب روپے مانگے جبکہ صوبائی حکومت نے 1.2 ارب روپے جاری کیے۔ یہ دعویٰ وفاقی حکومت کی جانب سے سامنے آیا ہے، اس لیے اس کی مکمل جانچ کے لیے بجٹ، اخراجات، منظور شدہ منصوبوں اور جاری شدہ رقوم کا تفصیلی سرکاری ریکارڈ سامنے آنا ضروری ہے۔
دہشت گردی کے خلاف پالیسی کا ایک اور اہم پہلو افغانستان سے آنے والے خطرات کا معاملہ ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کے خطرات موجود ہیں، جبکہ کابل ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ حالیہ کشیدگی نے اس معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ یکم اکتوبر 2026 کو پاکستان نے افغانستان میں دہشت گرد اہداف کو نشانہ بنانے کا مؤقف اختیار کیا، جبکہ طالبان حکومت نے شہری ہلاکتوں کے الزامات عائد کیے اور سرحد پار کارروائیوں پر اختلاف کیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ پاک افغان سکیورٹی مسئلہ محض داخلی صوبائی انتظام کا معاملہ نہیں بلکہ اس کے ساتھ ایک پیچیدہ سرحدی اور علاقائی پہلو بھی جڑا ہوا ہے۔
تاہم دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی صرف فوجی کارروائی تک محدود نہیں ہوسکتی۔ پولیس کی استعداد، تفتیش، پراسیکیوشن، عدالتوں کی فعالیت، انٹیلی جنس، سرحدی نگرانی، غیر قانونی معیشت، اسمگلنگ، بھتہ خوری اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی اسی جنگ کا حصہ ہیں۔ حالیہ ایک وائٹ پیپر میں بھی خیبر پختونخوا کے سی ٹی ڈی میں خالی آسامیوں، گاڑیوں، اسلحے اور دیگر وسائل کی کمی کی نشاندہی کی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ادارہ جاتی استعداد کا سوال صرف سیاسی بیانات تک محدود نہیں۔
اسی لیے اصل اختلاف کو صرف ’’وفاق بمقابلہ صوبہ‘‘ یا ’’سیاسی جماعت بمقابلہ ریاست‘‘ کے عنوان سے دیکھنا مسئلے کو مزید سادہ بنا دیتا ہے۔ حقیقی سوال یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ قومی پالیسی میں وفاق کی ذمہ داری کہاں ختم ہوتی ہے اور صوبے کی ذمہ داری کہاں سے شروع ہوتی ہے۔ اگر وفاق کہتا ہے کہ صوبے کو اپنے دائرۂ اختیار میں پولیس اور انتظامی ڈھانچے کو مضبوط کرنا چاہیے تو اسے اعداد و شمار، فنڈز اور کارکردگی کے قابلِ جانچ شواہد کے ساتھ اپنا مؤقف ثابت کرنا ہوگا۔ اسی طرح اگر صوبائی حکومت یہ مؤقف رکھتی ہے کہ اسے مؤثر پالیسی سازی سے دور رکھا جاتا ہے تو اسے بھی واضح کرنا ہوگا کہ فیصلہ سازی میں کس مقام پر، کس معاملے میں اور کس عملی طریقے سے اسے رکاوٹ کا سامنا ہے۔
خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے اصل مسئلہ سیاسی بیانیوں سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ دہشت گردی کے واقعات میں شہری، پولیس اہلکار اور سکیورٹی اہلکار اپنی جانیں کھو رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں عوامی بحث کا مرکز الزام تراشی کے بجائے واضح ذمہ داری، شفاف اعداد و شمار، وسائل کے مؤثر استعمال اور قابلِ پیمائش نتائج ہونا چاہیے۔
بالآخر دہشت گردی کے خلاف پالیسی کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں ہوگا کہ وفاق یا صوبہ سیاسی بحث میں اپنا مؤقف کتنا مؤثر انداز میں پیش کرتا ہے، بلکہ یہ ہوگا کہ دہشت گردی کے واقعات کتنے کم ہوتے ہیں، پولیس اور سی ٹی ڈی کتنے مؤثر بنتے ہیں، سرحدی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کتنی بہتر ہوتی ہے، عدالتوں اور انتظامیہ کی موجودگی کتنی مضبوط ہوتی ہے اور عام شہری خود کو کتنا محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی سوال ہے جس کا جواب وفاق اور خیبر پختونخوا، دونوں کو اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں دینا ہوگا۔
