سپلائی کی بحالی کے باوجود پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیوں؟

مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات ایران جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آچکی ہیں، لیکن عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں توقع کے برعکس نیچے آنے کے بجائے 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار ہیں۔ بظاہر تیل کی رسد معمول پر آتی دکھائی دے رہی ہے، مگر جنگ کے بعد پیدا ہونے والے سمندری راستوں کے خطرات، بڑھتے ہوئے بیمہ اخراجات، جہازوں کی نقل و حرکت میں غیر یقینی اور آبنائے ہرمز کی حساس صورتحال نے عالمی منڈی کو اب بھی دباؤ میں رکھا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تیل کی قیمت کا فیصلہ صرف اس بات سے نہیں ہورہا کہ عالمی منڈی میں کتنا تیل موجود ہے، بلکہ یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ وہ تیل کتنی محفوظ، قابلِ اعتماد اور کم لاگت ترسیل کے ذریعے خریداروں تک پہنچ سکتا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ستمبر کے آخری ہفتے کے چار دنوں میں مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی برآمدات یومیہ 1 کروڑ 95 لاکھ سے بڑھ کر 2 کروڑ 25 لاکھ بیرل تک پہنچ گئیں۔ یکم اکتوبر کو ختم ہونے والے سات روزہ عرصے میں خطے سے اوسط برآمدات یومیہ 1 کروڑ 85 لاکھ بیرل ریکارڈ کی گئیں، جو ایران جنگ سے پہلے کی تقریباً 1 کروڑ 80 لاکھ بیرل یومیہ اوسط سے بھی معمولی زیادہ ہیں۔
یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے سے تیل کی ترسیل بڑی حد تک بحال ہوچکی ہے، لیکن عالمی منڈی میں قیمتوں پر اس بحالی کا وہ اثر نہیں پڑا جس کی توقع کی جارہی تھی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ تیل کی عالمی قیمت صرف پیداوار اور برآمدات کے حجم سے طے نہیں ہوتی بلکہ اس کی ترسیل کے راستے، سکیورٹی، بیمہ، جہازوں کی دستیابی اور عالمی خریداروں تک رسائی بھی قیمت کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث تیل کی نقل و حمل سے وابستہ خطرات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی کمپنیوں کے اعداد و شمار کے مطابق برآمدات میں بہتری آئی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ عالمی سپلائی چین پہلے کی طرح معمول اور کم خطرے کے ماحول میں واپس آچکی ہے۔ جنگی صورتحال کے باعث تیل بردار جہازوں کے لیے راستوں کا انتخاب، بیمہ اور سلامتی کے انتظامات پہلے سے زیادہ پیچیدہ اور مہنگے ہوگئے ہیں۔
اس پوری صورتحال میں آبنائے ہرمز کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ خلیجی ممالک سے عالمی منڈی کو فراہم کیے جانے والے تیل کا ایک بڑا حصہ اسی اہم سمندری راستے سے گزرتا ہے۔ اگر یہاں کسی بھی وقت نقل و حرکت متاثر ہوتی ہے، جہازوں کو خطرات لاحق ہوتے ہیں یا ترسیل میں تاخیر پیدا ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں فوری طور پر سپلائی کے خدشات جنم لے سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں دوبارہ تیزی آسکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ تیل کی موجودہ قیمتوں کو صرف رسد اور طلب کے روایتی اصولوں سے سمجھنا کافی نہیں۔ جنگ کے بعد عالمی منڈی میں ایک اضافی خطرے کی قیمت بھی شامل ہوچکی ہے۔ سرمایہ کار اور خریدار اس خدشے کو نظرانداز نہیں کرسکتے کہ اگر خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھی تو آج معمول پر آنے والی ترسیل ایک بار پھر متاثر ہوسکتی ہے۔
چنانچہ مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی برآمدات کا ایران جنگ سے پہلے کی سطح پر پہنچ جانا یقیناً عالمی توانائی منڈی کے لیے مثبت پیش رفت ہے، لیکن یہ قیمتوں میں فوری کمی کی ضمانت نہیں۔ جب تک تیل کی ترسیل محفوظ، مسلسل، قابلِ اعتماد اور کم لاگت نہیں ہوجاتی، عالمی منڈی میں خطرے کا عنصر برقرار رہے گا اور یہی عنصر خام تیل کی قیمت کو 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر رکھنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
موجودہ صورتحال دراصل عالمی توانائی منڈی کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ آج صرف تیل کے ذخائر اور پیداوار اہم نہیں رہے، بلکہ یہ بھی فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے کہ تیل کس راستے سے، کتنے خطرے کے ساتھ اور کتنی لاگت میں عالمی صارفین تک پہنچ رہا ہے۔
