پی ٹی آئی ریاست مخالف سرگرمیوں سے باز کیوں نہیں آتی؟

ملکی سیاست ایک بار پھر ایسے مقام پر کھڑی ہے جہاں سیاسی اختلاف اور ریاستی سلامتی کے تقاضے ایک دوسرے کے سامنے آ گئے ہیں۔ تحریک انصاف کے لانگ مارچ سے قبل حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا عمل آگے بڑھا، کئی نکات پر پیش رفت کے دعوے سامنے آئے، لیکن بالآخر بات چیت کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ سکی۔ اس ناکامی کا سب سے اہم پہلو خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی پر اختلاف تھا۔ حکومت کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو وفاق اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون، دہشت گرد گروہوں کی واضح مذمت اور قومی انسداد دہشت گردی پالیسی پر عملدرآمد کرنا ہوگا، جبکہ تحریک انصاف کا مؤقف تھا کہ خیبر پختونخوا میں انسداد دہشت گردی کے اقدامات یکطرفہ طور پر نہیں بلکہ صوبائی حکومت اور تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے ہونے چاہئیں۔

یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جہاں سیاسی اختلاف نے قومی سلامتی کے مسئلے کی شکل اختیار کرلی۔ حکومتی مؤقف کے مطابق مذاکرات کے دوران خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کو صوبے میں محفوظ پناہ گاہیں نہ دینے، کالعدم تحریک طالبان پاکستان سمیت دہشت گرد گروہوں کی غیر مشروط مذمت، پولیس اور انسداد دہشت گردی کے لیے اضافی وسائل فراہم کرنے، قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد اور وفاقی اداروں کے ساتھ تعاون جیسے امور پر اتفاق کی بات ہوئی، لیکن بعد میں صوبائی حکومت ان شرائط سے پیچھے ہٹ گئی۔ تحریک انصاف اس تشریح کو مسترد کرتی ہے اور کہتی ہے کہ اصل مسئلہ وفاق کی جانب سے صوبے میں انسداد دہشت گردی کی پالیسی یکطرفہ طور پر نافذ کرنے کی کوشش اور صوبائی حکومت کو اس کا ذمہ دار بنانے پر اصرار تھا۔

اس اختلاف کو محض سیاسی بیان بازی سمجھ کر نظرانداز کرنا بھی آسان نہیں، کیونکہ خیبر پختونخوا اس وقت پاکستان کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہے۔ 2025 میں مختلف تحقیقی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں عسکریت پسند حملوں کی تعداد ملک کے دوسرے صوبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ رہی۔ مختلف ذرائع نے حملوں کی تعداد 413 سے 699 تک بتائی، جبکہ مجموعی پرتشدد واقعات کی تعداد اس سے بھی زیادہ رہی۔ اس صورتحال میں دہشت گردی کے خلاف وفاق اور صوبے کے درمیان مؤثر رابطہ اور عملی تعاون محض سیاسی ضرورت نہیں بلکہ عوامی تحفظ کا بنیادی تقاضا بھی ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اس حساس صورتحال کو کس زاویے سے دیکھتی ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے اور صوبائی حکومت کو ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑے ہو کر عملی اقدامات کرنا چاہئیں۔ دوسری طرف تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں کارروائیاں مقامی آبادی کے اعتماد، زمینی حقائق اور سیاسی مشاورت کے ساتھ ہونی چاہئیں۔ دونوں مؤقف میں ایک بنیادی فرق موجود ہے: حکومت فوری اور واضح ریاستی تعاون کو ترجیح دے رہی ہے، جبکہ تحریک انصاف صوبائی اختیار اور سیاسی اتفاق رائے کو بنیادی شرط قرار دے رہی ہے۔

مسئلہ اس وقت مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے جب دہشت گردی کے خلاف پالیسی سیاسی کشمکش کا حصہ بن جائے۔ خیبر پختونخوا میں عام شہری پہلے ہی بدامنی، کاروباری مشکلات، بے روزگاری اور نقل و حرکت کے مسائل سے دوچار ہیں۔ ایسے ماحول میں وفاق اور صوبے کے درمیان اختلافات کا براہ راست اثر سکیورٹی پالیسی کی رفتار اور مؤثریت پر پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے انسداد دہشت گردی جیسے معاملے کو سیاسی مطالبات اور احتجاجی سیاست سے الگ رکھنا دونوں جانب سے سنجیدگی کا تقاضا کرتا ہے۔

حالیہ مذاکرات کی ناکامی میں صرف ایک فریق کو ذمہ دار قرار دینا بھی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ حکومتی نمائندوں نے تحریک انصاف اور خیبر پختونخوا حکومت پر مذاکرات میں طے شدہ نکات سے پیچھے ہٹنے کا الزام عائد کیا، جبکہ تحریک انصاف نے حکومت پر یکطرفہ فیصلے مسلط کرنے اور سیاسی مطالبات کو نظرانداز کرنے کا الزام لگایا۔ دونوں جانب کے بیانات سے یہ واضح ہے کہ اختلاف صرف ایک شق یا ایک ملاقات تک محدود نہیں تھا بلکہ خیبر پختونخوا میں اختیار، سکیورٹی پالیسی، سیاسی مشاورت اور وفاقی و صوبائی ذمہ داریوں کے بڑے سوالات اس کے پس منظر میں موجود تھے۔

یہاں تحریک انصاف کے لیے بھی ایک بنیادی سیاسی سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر وہ خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہی ہے تو صوبے میں امن و امان کی ذمہ داری سے مکمل طور پر الگ نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح وفاقی حکومت بھی دہشت گردی جیسے معاملے میں صوبائی حکومت کو محض سیاسی حریف سمجھ کر آگے نہیں بڑھ سکتی۔ خیبر پختونخوا میں امن کے لیے وفاق، صوبے، پولیس، فوج، سیاسی جماعتوں اور مقامی آبادی کے درمیان اعتماد اور واضح ذمہ داریوں کا نظام ضروری ہے۔

لانگ مارچ نے اس تنازعے کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ایک طرف تحریک انصاف اپنے سیاسی مطالبات کے لیے احتجاج کو اپنا آئینی و سیاسی حق قرار دیتی ہے، دوسری طرف حکومت اسے ایسے وقت میں دباؤ کی سیاست سمجھتی ہے جب ملک کو دہشت گردی کے خلاف مربوط کارروائی کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذاکرات کے خاتمے کے فوراً بعد لانگ مارچ کا آغاز سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھا رہا ہے۔

تحریک انصاف کے لیے شاید سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ وہ حکومت پر کتنا دباؤ ڈال سکتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ احتجاجی سیاست کا سب سے زیادہ اثر کس پر پڑ رہا ہے۔ اگر سیاسی کشمکش کے نتیجے میں خیبر پختونخوا میں کاروبار، نقل و حمل، تعلیم، مواصلات اور روزمرہ زندگی متاثر ہوتی ہے تو اس کا بوجھ سیاسی قیادت سے زیادہ عام شہری برداشت کرتا ہے۔ اسی طرح حکومت کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو سیاسی انتقام یا سیاسی دباؤ کے تاثر سے محفوظ رکھتے ہوئے صوبائی حکومت اور تمام متعلقہ سیاسی قوتوں کو اعتماد میں لے۔

اس وقت پاکستان کو محاذ آرائی سے زیادہ ایک واضح اور قابلِ عمل قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کسی ایک جماعت، حکومت یا ادارے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کی سلامتی کا معاملہ ہے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن اگر خیبر پختونخوا میں بدامنی بڑھتی ہے تو اس کا نقصان سب سے پہلے اسی صوبے کے عوام کو ہوتا ہے۔ اس لیے تحریک انصاف کے لیے بھی یہ لمحہ سوچنے کا ہے کہ احتجاج اور سیاسی دباؤ کے ساتھ ساتھ صوبے کے عوام کے تحفظ، معیشت اور امن کی ذمہ داری کو کس طرح ترجیح دی جائے، جبکہ وفاقی حکومت کو بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ قومی سلامتی کے نام پر سیاسی اختلاف کو ختم کرنے کے بجائے حقیقی مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی کو جگہ دی جا سکتی ہے۔

مذاکرات کی ناکامی نے ایک بات ضرور واضح کر دی ہے کہ پاکستان کی موجودہ سیاسی کشمکش صرف اقتدار کی جنگ نہیں رہی؛ اب اس میں صوبائی خودمختاری، انسداد دہشت گردی، وفاقی اختیار اور عوامی تحفظ جیسے بنیادی سوالات بھی شامل ہو چکے ہیں۔ اگر سیاسی قیادت نے ان معاملات کو مذاکرات کی میز پر حل کرنے کے بجائے سڑکوں پر طے کرنے کی کوشش کی تو نقصان کسی ایک جماعت کا نہیں ہوگا۔ خیبر پختونخوا پہلے ہی طویل بدامنی کی قیمت ادا کر رہا ہے، اس لیے موجودہ حالات میں اصل ضرورت یہ ہے کہ سیاسی قیادت اپنے اختلافات کو برقرار رکھتے ہوئے بھی دہشت گردی کے خلاف مشترکہ ذمہ داری کا راستہ تلاش کرے۔ تحریک انصاف کے لیے پیغام محض رکنے کا نہیں، بلکہ دوبارہ مذاکرات کی طرف لوٹنے کا ہے؛ اور حکومت کے لیے بھی یہی امتحان ہے کہ سیاسی اختلاف کو قومی سلامتی کے مسئلے سے الگ رکھتے ہوئے ایسا راستہ نکالے جس میں احتجاج کا حق بھی محفوظ رہے اور خیبر پختونخوا کے عوام کا امن بھی۔

Back to top button