ایران نے جنگی محاذ پر سپرپاور امریکہ کو ناک آؤٹ کیسے کیا؟

ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکی فضائی طاقت کو پہنچنے والے نقصانات نے جدید جنگی ٹیکنالوجی اور فضائی برتری سے متعلق کئی اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔ امریکی کانگریس کے تحقیقی ادارے کانگریشنل ریسرچ سروس کی رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے دوران کم از کم 81 امریکی فوجی طیارے، ڈرونز اور ہیلی کاپٹرز یا تو تباہ ہوئے یا انہیں نقصان پہنچا، جبکہ ان نقصانات کی مجموعی مالیت 3.3 ارب ڈالر تک بتائی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان نقصانات میں سب سے بڑا حصہ ایم کیو-9 ریپر ڈرونز کا ہے، جن میں سے کم از کم 45 ضائع ہوئے۔ یہ ڈرونز طویل دورانیے کی نگرانی، انٹیلی جنس اور حملہ آور کارروائیوں کے لیے امریکی فوج کا اہم اثاثہ سمجھے جاتے ہیں۔ امریکی فضائیہ کے پاس ریپر ڈرونز کی تعداد ان نقصانات کے بعد تقریباً 135 رہ گئی، جو اس کی مطلوبہ سطح سے نمایاں کم ہے۔
کانگریشنل ریسرچ سروس کے مطابق امریکی نقصانات صرف براہ راست ایرانی کارروائیوں کا نتیجہ نہیں تھے۔ مارچ میں کویت کے قریب دوستانہ فائرنگ کے ایک واقعے میں 3 ایف-15 ای طیارے تباہ ہوئے، جبکہ اپریل میں ایران کے اوپر ایک اور ایف-15 ای طیارہ بھی ضائع ہوا۔ ستمبر میں اردن کے ایک امریکی فضائی اڈے پر ایرانی حملے کے دوران مزید 8 ایف-15 ای طیاروں کو نقصان پہنچا، تاہم انہیں بعد میں دوبارہ آپریشنل کر دیا گیا۔
متاثر ہونے والے امریکی فضائی اثاثوں میں ایف-35 اے، اے-10 تھنڈر بولٹ، کے سی-135 فضائی ایندھن بھرنے والے طیارے، ای-3 سینٹری نگرانی کا طیارہ، مختلف ڈرونز اور ہیلی کاپٹرز بھی شامل ہیں۔ اس فہرست سے واضح ہوتا ہے کہ جنگی نقصانات صرف روایتی لڑاکا طیاروں تک محدود نہیں رہے بلکہ نگرانی، انٹیلی جنس، فضائی ایندھن رسانی اور بغیر پائلٹ نظام بھی جنگ کے خطرات سے محفوظ نہیں رہے۔
خصوصاً ایم کیو-9 ریپر ڈرونز کا بڑے پیمانے پر ضائع ہونا امریکی فضائی حکمت عملی کے لیے اہم سوال بن کر سامنے آیا ہے۔ دفاعی تجزیوں کے مطابق ان نقصانات نے امریکی فضائیہ کو متبادل اور کم لاگت والے بغیر پائلٹ نظاموں کی تیاری اور ریپر کے مستقبل کے متبادل پر توجہ تیز کرنے پر مجبور کیا ہے۔
تاہم ان اعداد و شمار کو اس معنی میں نہیں لیا جا سکتا کہ امریکی فضائی طاقت ختم یا غیر مؤثر ہوگئی ہے۔ رپورٹ میں تباہ ہونے والے طیاروں کے ساتھ ایسے طیارے بھی شامل ہیں جنہیں نقصان پہنچا مگر بعد میں دوبارہ آپریشنل کر دیا گیا، جبکہ بعض نقصانات براہ راست ایرانی حملوں کے بجائے حادثات یا دوستانہ فائرنگ سے ہوئے۔ خود دستیاب رپورٹنگ کے مطابق نقصانات کا حتمی تخمینہ بھی جنگ کے جاری رہنے کے باعث تبدیل ہو سکتا ہے۔
اس کے باوجود 81 فضائی اثاثوں کا متاثر یا تباہ ہونا اور 45 ریپر ڈرونز کا ضائع ہونا اس بات کی نشاندہی ضرور کرتا ہے کہ جدید ترین فضائی طاقت بھی ایسے تنازع میں مکمل طور پر ناقابلِ تسخیر نہیں ہوتی جہاں فضائی دفاع، میزائل حملوں، ڈرون جنگ اور طویل مدتی کارروائیوں کا سامنا ہو۔ یوں ایران جنگ امریکی فضائی طاقت کے لیے صرف میدانِ جنگ کا چیلنج نہیں بلکہ طویل جنگ، مہنگے عسکری اثاثوں اور ان کی مسلسل فراہمی و متبادل تیاری کے حوالے سے بھی ایک بڑا امتحان بن چکی ہے۔
