PTIکالانگ مارچ KPK کے عوام کیلئے عذاب کیسے بنا؟

خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے لانگ مارچ نے جہاں سیاسی سرگرمیوں کو نمایاں کیا ہے، وہیں راستوں کی بندش، ٹرانسپورٹ کی مشکلات، کاروباری سامان کی ترسیل میں رکاوٹ اور بعض علاقوں میں موبائل و انٹرنیٹ سروس کی معطلی نے عام شہریوں کے روزمرہ مسائل میں اضافہ کر دیا ہے۔ پنجاب اور ملک کے دیگر حصوں سے خیبر پختونخوا آنے والی اشیائے ضروریہ اور کاروباری سامان کی سپلائی متاثر ہونے سے پشاور سمیت مختلف علاقوں میں کاروباری سرگرمیاں سست پڑنے لگی ہیں، جبکہ سبزیوں، پھلوں اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔
راستوں پر رکاوٹوں کے باعث پنجاب کے مختلف شہروں، خصوصاً فیصل آباد، گوجرانوالہ اور گجرات سے پشاور آنے والی گاڑیوں اور کنٹینرز کی آمد متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ڈرائیور طویل اور غیر یقینی سفر سے گریز کر رہے ہیں، جس کے باعث کاروباری سامان کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ اگر یہی صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہی تو صوبے کے مختلف علاقوں میں بعض اشیا کی قلت اور قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔
اس صورتحال کا اثر صرف تاجروں اور صارفین تک محدود نہیں بلکہ ٹرانسپورٹ سے وابستہ ہزاروں افراد بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ مسافر اڈوں پر دیہاڑی پر کام کرنے والے مزدوروں کو روزگار نہ ملنے، گاڑیوں کے کھڑے رہنے اور کارگو سروس متاثر ہونے سے ان کی آمدن میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ دوسری جانب کراچی، لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد اور کوئٹہ سے آنے والی ٹرانسپورٹ کو مختلف مقامات پر رکاوٹوں کا سامنا ہونے کے باعث بعض کاروباری افراد نے سڑک کے بجائے ریل کا سفر اختیار کرنا شروع کردیا ہے، جس سے ریلوے ٹکٹوں کی طلب میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
کارگو کے شعبے میں پیدا ہونے والی رکاوٹ خاص طور پر تشویش کا باعث ہے کیونکہ خیبر پختونخوا کی بڑی منڈیاں اور تجارتی مراکز ملک کے دیگر حصوں سے آنے والی اشیا کی سپلائی پر انحصار کرتے ہیں۔ پنجاب سے آنے والی سبزیوں، پھلوں اور دیگر کاروباری سامان کی ترسیل متاثر ہونے کی صورت میں اس کا براہ راست اثر صارفین کی جیب پر پڑتا ہے۔ سپلائی کم ہو اور طلب برقرار رہے تو قیمتوں میں اضافے کا دباؤ بڑھنا ایک فطری معاشی نتیجہ ہے۔
دوسری جانب لانگ مارچ کے پشاور پہنچنے کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات بھی سخت کیے گئے ہیں۔ متنی اور اس کے اطراف کے علاقوں میں سکیورٹی ہائی الرٹ کیے جانے اور بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ لانگ مارچ کے شرکا کے قیام کے باعث ان علاقوں میں معمول کی سرگرمیاں بھی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس کی بندش یا تعطل کی شکایات نے بھی شہریوں کے مسائل میں اضافہ کیا ہے۔ ڈی آئی خان اور ٹانک کے علاوہ لکی مروت، کرک اور کوہاٹ سے بھی موبائل سروس متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ موبائل اور انٹرنیٹ سروس کی بندش صرف رابطے کا مسئلہ نہیں بلکہ کاروبار، آن لائن خدمات، تعلیم، بینکاری اور روزگار سے وابستہ افراد کے لیے بھی مشکلات پیدا کرتی ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ پشاور کو تحریک انصاف کا مضبوط سیاسی مرکز سمجھا جاتا ہے، لیکن لانگ مارچ کے موقع پر شہر میں وہ سیاسی سرگرمی دکھائی نہیں دے رہی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ مقامی سطح پر کارکنوں کی سرگرمی، بڑے پیمانے پر تیاریوں اور عوامی جوش و خروش کے حوالے سے مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ بجلی، گیس، مہنگائی، بے روزگاری اور امن و امان جیسے مسائل پہلے ہی ان کی مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں، اس لیے وہ مزید احتجاجی سرگرمیوں کے بجائے اپنے روزمرہ مسائل کے حل کو ترجیح دینا چاہتے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت اور اس کے سیاسی کردار پر بھی اسی تناظر میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ صوبے میں مسلسل حکومت کرنے کے باوجود روزگار، کاروبار، امن و امان اور بنیادی سہولتوں کے مسائل بدستور موجود ہیں، جبکہ سیاسی احتجاج صوبائی حکومت کی توجہ کا بڑا حصہ لے رہا ہے۔ دوسری جانب تحریک انصاف کا مؤقف یہ رہا ہے کہ صوبے کو درپیش کئی بڑے مسائل کا تعلق وفاقی پالیسیوں، مالی وسائل اور امن و امان کی مجموعی صورتحال سے ہے، اس لیے صوبائی حکومت کو درپیش مشکلات کو صرف ایک سیاسی جماعت کی کارکردگی سے جوڑنا مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔
اصل سوال یہی ہے کہ سیاسی احتجاج کی قیمت آخر کون ادا کرتا ہے؟ اگر راستے بند ہوں، اشیائے ضروریہ کی ترسیل متاثر ہو، مزدور کی دیہاڑی ختم ہو، ٹرانسپورٹر کی گاڑی کھڑی رہے اور شہری کا کاروبار متاثر ہو تو سیاسی سرگرمی کے اثرات براہ راست عام آدمی تک پہنچتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں موجودہ صورتحال نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال اہم بنا دیا ہے کہ سیاسی مطالبات اور احتجاج کے حق کے ساتھ عام شہری کے کاروبار، روزگار، نقل و حرکت اور بنیادی مواصلاتی سہولتوں کے تحفظ کے لیے کیا مؤثر انتظامات کیے جا سکتے ہیں۔
لانگ مارچ کا سیاسی مقصد اپنی جگہ، لیکن اس کے ساتھ پیدا ہونے والی معاشی اور سماجی مشکلات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر راستوں کی بندش اور ترسیلی رکاوٹیں طویل ہوئیں تو اس کے اثرات صرف ایک احتجاجی دن تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ منڈیوں، کاروبار، مزدوروں، ٹرانسپورٹرز اور عام صارفین تک پھیل سکتے ہیں۔ یہی وہ پہلو ہے جس پر سیاسی قیادت، صوبائی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو احتجاج اور شہری زندگی کے درمیان ایسا توازن قائم کرنا ہوگا جس میں سیاسی سرگرمی بھی جاری رہے اور عام شہری کی زندگی بھی مفلوج نہ ہو۔
