سیاسی ٹکراؤ یا مذاکرات، ملکی مسائل کا اصل حل کیا؟

خیبرپختونخوا ایک ایسے نازک سیاسی اور سکیورٹی مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بڑھتا ہوا تصادم کسی بھی وقت سیاسی بحران کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ ایک طرف تحریک انصاف احتجاج، لانگ مارچ اور اپنے سیاسی مطالبات پر قائم ہے، دوسری جانب وفاقی حکومت امن و امان، ریاستی رٹ اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کو اپنی ترجیح قرار دے رہی ہے۔ ایسے ماحول میں وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ایک بار پھر اپوزیشن کو دھرنوں اور لانگ مارچ کے بجائے مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت اور تحریک انصاف کے بعض رہنماؤں کی جانب سے مذاکرات کی بحالی کے اشارے ایک اہم پیش رفت ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا فریقین سیاسی ٹکراؤ کو محدود کرکے خیبرپختونخوا کے مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکال سکتے ہیں؟
موجودہ صورتحال میں سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ سیاسی اختلاف اور قومی سلامتی کے معاملات کو ایک دوسرے سے الگ رکھنا ہوگا۔ تحریک انصاف وفاقی حکومت سے اختلاف کر سکتی ہے، احتجاج کر سکتی ہے اور اپنے سیاسی مطالبات کے لیے دباؤ ڈال سکتی ہے، لیکن دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس تعاون، پولیس کی ضروریات، سرحدی نگرانی اور سکیورٹی اقدامات ایسے معاملات ہیں جنہیں سیاسی کشمکش سے بالاتر رکھنا ضروری ہے۔ اسی طرح وفاقی حکومت کو بھی سیاسی اختلاف کا جواب سیاسی انداز میں اور دہشت گردی کا جواب سکیورٹی حکمت عملی کے ذریعے دینا ہوگا۔ اگر دونوں معاملات ایک دوسرے سے مشروط ہوگئے تو نقصان صرف حکومت یا اپوزیشن کا نہیں بلکہ پورے صوبے اور ملک کا ہوگا۔
مذاکرات کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی فریق اپنے مؤقف سے دستبردار ہوجائے۔ سیاسی مذاکرات دراصل اختلاف برقرار رکھتے ہوئے قابلِ قبول راستہ تلاش کرنے کا نام ہیں۔ تحریک انصاف اپنے مطالبات میز پر رکھ سکتی ہے اور حکومت اپنے آئینی و قانونی مؤقف کا دفاع کر سکتی ہے، لیکن دونوں کے درمیان ایسا درمیانی راستہ تلاش کیا جا سکتا ہے جس سے احتجاج بھی پُرامن رہے، ریاستی معاملات بھی متاثر نہ ہوں اور سیاسی کشیدگی کسی بڑے تصادم میں تبدیل نہ ہو۔
مسلسل احتجاج اور سڑکوں کی بندش کے براہ راست اثرات عام شہریوں، کاروبار اور معاشی سرگرمیوں پر پڑتے ہیں۔ طویل سیاسی کشیدگی کاروباری اعتماد اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بھی متاثر کرتی ہے۔ اس لیے سیاسی قیادت کو احتجاج کے آئینی و جمہوری حق کے ساتھ اس کے عملی اثرات کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔ دوسری جانب حکومت کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ ہر احتجاج کو محض سکیورٹی خطرہ سمجھنے کے بجائے اس کے سیاسی اسباب کو سمجھے اور جہاں ممکن ہو سیاسی راستہ اختیار کرے۔
خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال میں وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون کی اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر پولیس، انتظامیہ، وفاقی اداروں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان مؤثر رابطہ ناگزیر ہے۔ اگر سیاسی اختلافات کی وجہ سے یہ تعاون متاثر ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف سیاسی میدان تک محدود نہیں رہیں گے۔ ایسے وقت میں وفاق اور صوبے دونوں کو یہ طے کرنا ہوگا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن عوام کے جان و مال کا تحفظ اور دہشت گردی کا مقابلہ مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اسی تناظر میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور وفاقی حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی بھی تشویش کا باعث ہے۔ اگر ایک طرف وفاقی وزرا کی جانب سے صوبائی حکومت کے اقدامات پر سخت تنقید ہوتی ہے اور دوسری طرف صوبائی قیادت بھی سخت ردعمل دیتی ہے تو اس سے سیاسی درجہ حرارت کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتا ہے۔ سیاسی قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سخت بیانات وقتی طور پر اپنے کارکنوں کو مطمئن کرسکتے ہیں، لیکن پیچیدہ سیاسی اور سکیورٹی مسائل کا حل مذاکرات اور ادارہ جاتی تعاون سے ہی نکلتا ہے۔
تحریک انصاف ایک بڑی سیاسی قوت اور خیبرپختونخوا کی حکمران جماعت ہے، اس لیے اسے سیاسی عمل سے باہر رکھ کر صوبے کے مسائل کا مستقل حل تلاش کرنا مشکل ہوگا۔ اسی طرح وفاقی حکومت بھی سیاسی حقیقتوں کو نظر انداز کرکے صرف انتظامی یا طاقت کے ذریعے صورتحال کو معمول پر نہیں لا سکتی۔ اگر سیاسی معاملات، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات، نظر بند افراد کے معاملات اور دیگر قابلِ مذاکرات نکات پر دونوں جانب کچھ لچک پیدا کی جائے تو کشیدگی کم کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ جو معاملات عدالتوں کے دائرۂ اختیار میں ہیں انہیں عدالتی عمل کے مطابق آگے بڑھایا جاسکتا ہے، جبکہ سیاسی نوعیت کے معاملات پر سیاسی حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔
تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجا ناصر عباس سمیت بعض اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے مذاکرات کی بحالی کے اشارے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سیاسی نظام میں اب بھی ایسے راستے موجود ہیں جن سے ڈیڈلاک ختم کیا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بھی مذاکرات کی پیشکش اس امکان کو تقویت دیتی ہے کہ فریقین مکمل تصادم کے بجائے دوبارہ بات چیت کی طرف واپس آسکتے ہیں۔ اب اصل امتحان یہ ہے کہ دونوں جانب کے نسبتاً معتدل حلقے اپنی قیادت کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔
سیاسی بحرانوں میں سب سے خطرناک مرحلہ وہ ہوتا ہے جب فریقین ایک دوسرے کے لیے گنجائش ختم کر دیتے ہیں۔ سیاست بنیادی طور پر اختلاف کے باوجود ساتھ چلنے اور راستہ نکالنے کا عمل ہے۔ اگر ہر اختلاف کو تصادم اور ہر سیاسی مطالبے کو ریاستی چیلنج سمجھا جائے تو مذاکرات کی گنجائش مسلسل سکڑتی چلی جاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر حکومت اور اپوزیشن اپنے اپنے بنیادی مؤقف برقرار رکھتے ہوئے قابلِ عمل نکات پر اتفاق پیدا کریں تو بحران کو تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔
اس وقت پاکستان کو سیاسی محاذ آرائی سے زیادہ سیاسی استحکام، خیبرپختونخوا کو تصادم سے زیادہ امن اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ حکومت کو سیاسی مطالبات کا جواب سیاسی انداز میں دینا ہوگا، جبکہ صوبائی حکومت کو بھی وفاق کے ساتھ سکیورٹی معاملات میں تعاون کو سیاسی اختلافات سے الگ رکھنا ہوگا۔ دونوں فریق اگر اپنی اپنی حدود اور ذمہ داریوں کو سمجھیں تو نہ صرف موجودہ ڈیڈلاک ختم ہوسکتا ہے بلکہ وفاق اور صوبے کے درمیان اعتماد کی بحالی کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔
بالآخر سوال یہ نہیں کہ حکومت یا اپوزیشن میں سے کون اپنی بات منواتا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ خیبرپختونخوا اور پاکستان کو موجودہ بحران سے کیسے نکالا جائے۔ سیاسی ٹکراؤ کسی فریق کو وقتی فائدہ دے سکتا ہے، لیکن اس کے اثرات معاشرے، معیشت اور امن و امان پر پڑتے ہیں۔ اس لیے موجودہ صورتحال میں مذاکرات کو کمزوری نہیں بلکہ سیاسی ذمہ داری سمجھنے کی ضرورت ہے۔ حکومت اور اپوزیشن اگر دوطرفہ لچک کا مظاہرہ کریں، ایک دوسرے کے جائز سیاسی مطالبات سنیں اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں تو بحران کا راستہ نکالا جا سکتا ہے۔ آخرکار پختونخوا کے مسائل کا حل سیاسی ٹکراؤ میں نہیں، مذاکرات، تعاون اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے مشترکہ فیصلوں میں ہے۔
