PTIاور حکومت کے مابین ڈیڈ لاک کیا رنگ دکھائے گا؟

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا اچانک ڈیڈلاک میں تبدیل ہونا اس وقت پاکستان کے سیاسی بحران کو ایک نئے اور زیادہ حساس مرحلے میں لے آیا ہے۔ ایک طرف تحریک انصاف خیبرپختونخوا سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کر چکی ہے، دوسری طرف وفاقی حکومت امن و امان، دہشت گردی اور ریاستی رٹ کے معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ تشویش کی اصل وجہ صرف یہ نہیں کہ مذاکرات ناکام ہوگئے، بلکہ یہ ہے کہ فریقین ایک ایسے وقت میں دوبارہ آمنے سامنے آ گئے ہیں جب مغربی سرحد سے دہشت گردی کا خطرہ، خیبرپختونخوا کی بدامنی اور ملک کی مجموعی سیاسی بے یقینی پہلے ہی سنگین چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔
مذاکرات کی موجودہ صورتحال اس لحاظ سے اہم ہے کہ ڈیڈلاک سے پہلے دونوں جانب سے بات چیت کو مسئلے کا سیاسی حل قرار دیا جا رہا تھا۔ لانگ مارچ کی تاریخ قریب آنے کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے بعض اعتدال پسند رہنماؤں نے پس پردہ رابطے شروع کیے اور ایک مرحلے پر یہ تاثر بھی پیدا ہوا کہ بات چیت باضابطہ مذاکرات کی طرف بڑھ رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور پیپلزپارٹی کی قیادت سمیت مختلف سیاسی شخصیات کے رابطوں کو اس عمل میں اہم قرار دیا گیا۔ مذاکرات کے دوران دونوں جانب سے کسی حد تک لچک اور نیک نیتی کے اشارے بھی سامنے آئے۔
ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب صورتحال یہاں تک پہنچی کہ بعض حلقوں میں مذاکرات کی کامیابی اور مشترکہ اعلامیے کی توقع کی جانے لگی۔ اطلاعات کے مطابق لانگ مارچ مؤخر کرنے، محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور بعض نظر بند افراد کے معاملے پر پیش رفت کے امکانات پیدا ہوئے۔ حکومتی سطح پر حتمی مسودے کی منظوری کے لیے رابطے جاری تھے جبکہ اپوزیشن رہنما بھی اپنی قیادت سے مشاورت کر رہے تھے۔ لیکن جس عمل کو چند گھنٹے پہلے کامیابی کے قریب سمجھا جا رہا تھا، وہ اچانک تعطل کا شکار ہوگیا۔
یہاں اصل سوال پیدا ہوتا ہے کہ ڈیڈلاک کی بنیادی وجہ کیا بنی؟ دستیاب اطلاعات کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے حتمی مسودے سے پہلے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات پر اصرار کیا جا رہا تھا، جبکہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مبینہ طور پر مسودے کے بعض نکات پر تحفظات کا اظہار کیا اور لانگ مارچ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ یوں ایک طرف مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش جاری تھی اور دوسری طرف سڑکوں پر احتجاج کو برقرار رکھنے کا فیصلہ مذاکراتی عمل کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ بن گیا۔
اس تنازع کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اب پی ٹی آئی کے احتجاج کا معاملہ صرف پارٹی قیادت کی رہائی یا سیاسی ریلیف تک محدود نہیں رہا۔ حکومت کے مؤقف کے مطابق دہشت گردی کے خلاف ریاستی پالیسی اور خیبرپختونخوا حکومت کے تعاون کا معاملہ بھی مذاکرات کی پیچیدگی میں شامل ہوچکا ہے۔ وفاقی حکومت اور سکیورٹی ادارے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اقدامات کو ضروری قرار دیتے ہیں، جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے ان اقدامات اور وفاقی پالیسی پر تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سیاسی اختلاف اور ریاستی سلامتی کے دو الگ معاملات ایک دوسرے سے جڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی ایک حقیقی اور سنگین مسئلہ ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے وفاق اور صوبے کے درمیان مؤثر رابطہ بنیادی ضرورت ہے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کے سیاسی اور آئینی مطالبات کو محض اس بنیاد پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ملک کو سکیورٹی چیلنجز درپیش ہیں۔ سیاسی اختلافات کا حل بھی آئین، قانون اور مذاکرات ہی کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔
حکومت کی طرف سے یہ مؤقف سامنے آ رہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی یا عدالتی معاملات حکومت کے براہ راست اختیار میں نہیں بلکہ عدالتی عمل سے متعلق ہیں۔ اگر یہی بنیادی مؤقف ہے تو مذاکرات میں اصل چیلنج یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیاسی قیادت ایسے مطالبات اور ایسے معاملات کے درمیان فرق کیسے واضح کرے جن پر حکومت عملی طور پر فیصلہ کرسکتی ہے اور ان معاملات کے درمیان جو عدالتوں کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں۔
دوسری طرف پی ٹی آئی کے لیے بھی بنیادی سوال یہ ہے کہ احتجاج، مذاکرات اور ریاستی معاملات کو کس حد تک ایک دوسرے سے جوڑا جائے۔ اگر مذاکرات کا مقصد سیاسی تنازع کم کرنا ہے تو سڑکوں پر دباؤ اور مذاکرات کی میز کو بیک وقت چلانے کی حکمت عملی کس حد تک نتیجہ خیز ہوگی، یہ خود ایک اہم سوال ہے۔ اسی طرح اگر حکومت مذاکرات کی پیشکش کرتی ہے تو اسے بھی یہ واضح کرنا ہوگا کہ وہ کن معاملات پر قابلِ عمل سیاسی ریلیف دینے کے لیے تیار ہے اور کن معاملات کو آئینی یا عدالتی حدود کی وجہ سے مذاکرات سے الگ رکھنا چاہتی ہے۔
موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ سیاسی کشیدگی اگر احتجاج، انتظامی اقدامات اور ریاستی ردعمل کے مرحلے سے آگے بڑھ کر تصادم میں تبدیل ہوگئی تو اس کے اثرات صرف حکومت یا کسی ایک سیاسی جماعت تک محدود نہیں رہیں گے۔ ملک پہلے ہی دہشت گردی، معاشی دباؤ، سیاسی عدم استحکام اور داخلی تقسیم جیسے چیلنجز سے دوچار ہے۔ ایسے ماحول میں سیاسی قوتوں کے درمیان مسلسل محاذ آرائی ریاستی اداروں، معیشت اور عام شہریوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ریاست کے پاس طاقت کے استعمال کے اختیارات موجود ہوتے ہیں، لیکن سیاسی بحران کا پائیدار حل صرف طاقت کے ذریعے نہیں نکلتا۔ ریاستی اختیار کے ساتھ آئین، قانون، سیاسی مکالمہ اور عوامی اعتماد بھی ضروری ہیں۔ اسی طرح اپوزیشن کا احتجاج اور اختلافِ رائے جمہوری سیاست کا حصہ ہے، لیکن احتجاج بھی آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر ہی سیاسی دباؤ کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ایک بار پھر تحریک انصاف کو لانگ مارچ ختم کرکے مذاکرات کی پیشکش اس بات کا اشارہ ہے کہ ڈیڈلاک کے باوجود سیاسی راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ اگر فریقین دوبارہ مذاکرات کی میز پر آتے ہیں تو انہیں ماضی کے تجربے سے یہ سبق لینا ہوگا کہ ایسے مذاکرات جن کے نکات واضح نہ ہوں، جن پر دونوں فریق اپنی اپنی قیادت سے بروقت منظوری نہ لیں اور جن میں سڑکوں کی سیاست اور مذاکراتی عمل ایک دوسرے کے متوازی چلتے رہیں، ان کے کامیاب ہونے کے امکانات محدود ہوجاتے ہیں۔
اس وقت بنیادی ضرورت یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن اپنے اپنے مؤقف کو برقرار رکھتے ہوئے بھی ایسے نکات تلاش کریں جن پر اتفاق ممکن ہے۔ سیاسی قیدیوں، مذاکرات، احتجاج کے حق، امن و امان، دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی اور صوبائی و وفاقی تعلقات جیسے معاملات کو ایک ہی پیکج میں الجھانے کے بجائے مرحلہ وار حل کرنے کی کوشش زیادہ قابلِ عمل ہوسکتی ہے۔ جو معاملات عدالتوں کے دائرۂ اختیار میں ہیں انہیں عدالتی عمل پر چھوڑتے ہوئے سیاسی معاملات پر سیاسی حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔
موجودہ ڈیڈلاک شاید اس بات کا امتحان بھی ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت اختلاف کو کس حد تک مکالمے میں تبدیل کرسکتی ہے۔ مذاکرات ناکام ہونا سیاست کا اختتام نہیں ہوتا؛ اصل سیاسی کامیابی یہ ہے کہ ناکامی کے بعد بھی بات چیت کا دروازہ کھلا رکھا جائے۔ حکومت کے پاس ریاستی اختیار ضرور ہے اور اپوزیشن کے پاس سیاسی احتجاج کا حق، لیکن دونوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ ان اختیارات کو ایسے انداز میں استعمال کریں جس سے بحران مزید نہ بڑھے۔
پاکستان کو اس وقت تصادم سے زیادہ سیاسی استحکام اور دہشت گردی کے مقابلے کے لیے مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ حکومت کو اپنے وعدوں اور مذاکراتی یقین دہانیوں کے حوالے سے شفافیت دکھانا ہوگی جبکہ اپوزیشن کو بھی یہ واضح کرنا ہوگا کہ وہ سیاسی مطالبات کے حصول کے لیے آئینی اور جمہوری راستے کو ترجیح دے گی۔ اگر دونوں جانب سے کچھ نہ کچھ لچک پیدا ہوتی ہے تو موجودہ ڈیڈلاک دوبارہ مذاکرات میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
بالآخر سیاست کا مقصد راستے بند کرنا نہیں بلکہ راستہ نکالنا ہوتا ہے۔ آج کا اصل سوال یہ نہیں کہ مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار کون ہے، بلکہ یہ ہے کہ ڈیڈلاک ختم کرنے کے لیے پہلا قدم کون اٹھاتا ہے اور دونوں فریق ملک کو سیاسی تصادم سے نکالنے کے لیے کتنی گنجائش پیدا کرتے ہیں۔ پاکستان کو درپیش سکیورٹی اور سیاسی چیلنجز اس بات کے متقاضی ہیں کہ اختلافات اپنی جگہ، لیکن ریاستی استحکام، آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد پر وسیع تر اتفاق پیدا کیا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے موجودہ بحران کو مزید گہرا ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔
