179 ارب روپے کہاں گئے؟

تحریر: رؤف کلاسرا
بشکریہ: روزنامہ دنیا
اس ملک میں ہر وقت ایک ہی بات سننے کو ملتی ہے کہ عوام ٹیکس نہیں دیتے۔ یہ جملہ اتنی دفعہ بولا اور دہرایا جاتا ہے کہ ہر بندہ خود کو مجرم سمجھتا ہے اور اسے لگتا ہے کہ وہ چوری کر رہا ہے۔ وہ اپنی نظروں میں ہی چور بنا رہتا ہے اور خود کو شاید لعن طعن بھی کرتا ہو کہ اس کی وجہ سے ٹیکس اکٹھا نہیں ہو رہااور حکومتوں کو بینکوں سے قرضے لینے پڑتے ہیں تاکہ تنخواہیں اور دیگر اخراجات پورے کر سکیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ حکومت پر اب تک تقریباً 90 ہزار ارب روپے بینکوں کا قرضہ چڑھ چکا ہے‘ جس پر رواں مالی سال آٹھ ہزار ارب روپے سود دینا ہے۔ بینکوں کی چاندی ہو چکی ہے‘ وہ عام آدمی کو قرضہ نہیں دیتے کیونکہ حکومت ان سے تقریباً ہر روز شارٹ ٹرم کمرشل قرضہ لیتی ہے‘ جس پر ان کو بھاری سود ملتا ہے۔ بینک عوام کے ڈپازٹ پر حکومتوں کو بھاری سود پر قرضہ دے کر لمبا مال کما رہے ہیں۔ انہیں کوئی فکر نہیں کہ کوئی تاجر یا صنعتکار ان سے قرضہ لے کر ملکی معیشت میں اپنا کچھ حصہ ڈالیں۔ انہیں حکومت سے سالانہ ہزاروں ارب روپے سود مل جاتا ہے۔
برسوں سے قائمہ کمیٹی اجلاسوں میں ہر وزیر اور سرکاری افسر کو یہی شکایت کرتے دیکھا کہ عوام ٹیکس نہیں دیتے‘ اور اس کے بعد سب ارکان مل کر عوام پر تبرا پڑھتے ہیں ۔ ان میں وہ بھی شامل ہوتے ہیں جو ارب پتی ہونے کے باوجود چند ہزار روپے بھی ٹیکس نہیں دیتے۔ مجھے یہ سوچ کر حیرانی ہوتی تھی کہ اگر عوام ٹیکس نہیں دیتے تو ملک چل کیسے رہا ہے۔ پھر یہ حکمرانوں کے جہاز‘ گاڑیاں‘ افسران کی بھاری تنخواہیں‘ الاؤنسز‘ سیر سپاٹے‘ مفت پٹرول‘ بجلی‘ گیس اور گھروں کے خرچے کون پورے کرتا ہے‘ کیونکہ اپنی جیب سے تو یہ ایک روپیہ نہیں لگاتے۔ عوام کے ٹیکس نہ دینے والے جھوٹ سے اُس وقت پردہ اٹھا جب سینیٹ کی کمیٹی برائے مواصلات میں انکشاف کیا گیا کہ پچھلے چھ برسوں میں عوام سے 179 ارب روپے کا ٹول ٹیکس موٹر وے پر اکٹھا کیا گیا۔ یعنی اوسطاً سالانہ تیس ارب روپے۔ این ایچ اے کو لگا کہ شاید اب بھی لوگ ٹیکس چوری کر رہے ہیں‘ لہٰذا پچھلے دو برسوں میں ٹول ٹیکس تقریباً تین سو فیصد بڑھا دیا گیا ہے۔ سینیٹر پلوشہ خان‘ جو اُس کمیٹی کی ممبر ہیں‘ انہوں نے میری درستی کی کہ آپ نے غلط سنا! این ایچ اے حکام کہہ رہے تھے کہ ٹول ٹیکس چار سو فیصد تک بڑھایا گیا ہے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ ٹول ٹیکس میں تقریباً چار سو فیصد تک اضافے کے باوجود جب سینیٹر پرویز رشید نے چیئرمین این ایچ اے سے موٹر ویز پر ملنے والی سہولتوں کے بارے پوچھا تو انہوں نے اعتراف کیا کہ موٹر ویز پر سہولتوں کا معیار گر گیا ہے۔ اب وہ معیار نہیں رہا جو اُس وقت تھا جب کورین کمپنی نے 1998ء میں پہلی موٹروے بنا کر دی تھی۔ چیئرمین این ایچ اے کے اس اعتراف کے بعد سوال یہ ہے کہ یہ معیار کس نے اور کیوں گرایا؟ جب موٹر وے پر ٹول ٹیکس سے سالانہ تقریباً تیس ارب روپے حکومتی خزانے میں جا رہے ہیں بلکہ اب تو ایم ٹیگ کی وجہ سے ایڈوانس پیسہ حکومت کے پاس آ رہا ہے کہ لوگ ایم ٹیگ میں ایڈوانس بیلنس ڈلوا لیتے ہیں اور بعد میں جب وہ موٹر وے پر سفر کرتے ہیں یہ پیسہ تب کٹتا ہے۔ اس دوران اس پیسے کو‘ جو بلامبالغہ اربوں روپے ہے‘ مبینہ طور پر بینکوں میں رکھ کر بھاری سود کمایا جاتا ہے‘ لیکن چیئرمین صاحب کہہ رہے ہیں کہ موٹر ویز کا معیار گر گیا ہے۔ پھر یہ پیسہ کون کھا رہا ہے‘ اگر یہ موٹر وے کے معیار اور وہاں سروسز کی بہتری کیلئے نہیں لگ رہا؟ چھ برسوں میں 179 ارب کوئی معمولی رقم نہیں ‘ اس سے ایک نیا موٹر وے بن سکتا ہے‘ اگر سب اس میں سے اپنا کمیشن نکالنے نہ بیٹھ جائیں۔ لیکن کسی نے چیئرمین این ایچ اے سے یہ نہ پوچھا کہ سالانہ اربوں روپے اکٹھے کرنے اور دو برسوں میں چار سو فیصد تک ٹول ٹیکس بڑھانے کے باوجود موٹر ویز کا معیار کیوں گر گیا ہے؟ معیار صرف سروسز کا نہیں گرا بلکہ سڑکوں کی حالت بھی بہت خراب ہو چکی ہے۔ اب آپ موٹر وے پر سفر کریں تو سڑک آپ کو سیدھی اور ہموار نہیں ملتی ‘ کہیں کہیں تو باقاعدہ کھڈے ملتے ہیں۔ سب سے زیادہ مایوسی آپ کو اسلام آباد میانوالی موٹروے پر ہو گی جہاں سڑک کی حالت بعض جگہوں پر اتنی خراب ہے کہ آپ پوری توجہ سے ڈرائیونگ نہ کر یں تو آپ کو گاڑی اچانک کسی اونچائی سے ڈھلان میں جاتی محسوس ہو گی اور آپ کو بہت بڑا جمپ لگے گا اور گاڑی سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ اس طرح کی صورتحال آپ کو داؤد خیل میں لگی سیمنٹ فیکٹری کے سامنے موٹر وے پر بھی ملتی ہے‘ اور یقینا یہاں حادثات بھی ہوتے ہوں گے۔ پچھلے دنوں مجھے خود بھی اس کا تجربہ ہوا جب گاڑی اچانک ایک ڈھلان کی طرح گڑھے میں سے گزری اور بڑا جمپ لیا۔ میں نے بمشکل گاڑی کو قابو کیا۔ کبھی وہ دور تھا جب این ایچ اے چیئرمین دفتری رپورٹس پر انحصار کرنے کے بجائے خود موٹر ویز پر سفر کرتے تھے۔ لیکن لگتا ہے اب یا تو متعلقہ حکام خود موٹرویز پر سفر نہیں کرتے‘ اور اگر کرتے ہیں تو پھر پورے پروٹوکول میں کرتے ہیں تاکہ انہیں کسی جگہ نقص نظر نہ آئے‘ یا پھر ان کے پاس بڑی بڑی گاڑیاں ہیں‘ جن میں عام گاڑیوں کی طرح جمپ والا مسئلہ ہی نہیں۔موٹرویز پر ریسٹ ایریاز کی حالتِ زار پر بھی سینیٹرز نے بات کی‘ یہ ریسٹ ایریاز سے زیادہ کمرشل ایریاز بن چکے ہیں۔ وہاں پہلے جو سہولتیں تھیں‘ وہ بھی واپس لے لی گئی ہیں۔ مہنگائی الگ سے ہے۔
اس طرح ہاؤسنگ سوسائٹیز کا بھی ذکر ہوا‘ جنہوں نے اب موٹر ویز کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور انہیں نئی نئی ایگزٹ دی جا رہی ہیں۔ اس پر بھی اعتراض ہوا کہ اب سارا موٹر وے ہاؤسنگ سوسائٹیز سے بھر گیا ہے۔ موٹر ویز کے ارد گرد سب زمینیں‘ درخت‘ ندیاں‘ نالے‘ سبزہ‘ پہاڑ‘ سب کچھ بلڈوز کر دیا گیا ہے۔ میلوں تک آپ کو بلڈوزر چلتے نظر آتے ہیں۔ قدرتی ندی نالوں کے راستے بند کر دیے گئے ہیں اور کل کو انہی علاقوں میں جب بارشوں سے سیلاب آئے گا تو رہائشی سزا بھگتیں گے جبکہ سوسائٹی مالکان اربوں کما کر باہر جا چکے ہوں گے۔ آج کل اسلام آباد میں ای الیون اور ڈی 12 کے مکینوں کے ساتھ یہی کچھ ہو رہا ہے کہ بارش سے گھر ڈوب جاتے ہیں کیونکہ نالوں پر گھر بنا لیے گئے ہیں۔ یاد آیا کہ جب موٹروے بن رہی تھی تب شاید سفیدے کے درخت سستے ملتے تھے جو افسران نے ساری موٹر وے کے ارد گرد لگوا دیے‘ جو بے تحاشا زیرِ زمین پانی استعمال کرتے ہیں۔ یہ درخت دراصل سیم زدہ زمین کیلئے ہوتے ہیں لیکن ہمارے ڈیڑھ سیانوں نے انہیں موٹر وے کے اردگرد زرعی زمینوں پر لگوا دیا۔ ایک اور نیا کلچر دیکھنے میں آ رہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی طرز پر ہمارے شہروں میں بھی کھجور اور دیگر اجنبی درخت لگائے جا رہے ہیں‘ جن کا اس خطے یا ماحول سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن چونکہ اس کام میں بھی خاصا مال پانی ملتا ہے لہٰذا یہ کام ہر دور میں ہوتا ہے۔ سال چھ ماہ کے بعد کھجور اور دیگر اجنبی درخت اس ماحول میں سروائیو نہیں کر پاتے تو دوبارہ نئے درخت لگا دیتے ہیں۔
ایک چیز کی داد دیں کہ ہمارے افسران اور حکمران نہ صرف ہر قسم کے حالات میں لوگوں کی جیبوں سے پیسہ نکلوانے اور خود اپنی چونچ گیلی کرنے کے فن میں ماہر ہو چکے ہیں بلکہ الٹا عوام کو بدنام بھی کرتے رہتے ہیں کہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے۔ موٹر وے پر 179 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کرنے کے باوجود کہتے ہیں کہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے۔ حکایت ہے کہ ایک گھر میں گدھا اور بندر تھے۔ رات کو بندر کچن میں جا کر آٹا کھا جاتا اور واپسی پر کچھ آٹا لا کر گدھے کے منہ پر مَل دیتا۔ اگلی صبح مالک گدھے کے منہ پر آٹا لگا دیکھ کر اس کی ٹھکائی کرتا۔ یہی کچھ عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ سیاستدان‘ وزیر اور افسران اربوں روپے کھا پی کر ہمارے منہ پر آٹا مَل دیتے ہیں کہ یہ ٹیکس نہیں دیتے۔
