سہیل آفریدی لانگ مارچ میں اکیلے کیوں پڑنے لگے؟

 

 

 

 

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر قیادت تحریک انصاف کے لانگ مارچ نے پارٹی کے اندر موجود اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے، کیونکہ بیشتر اہم پارٹی رہنما، ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور تنظیمی عہدیدار مارچ میں شامل نہیں جبکہ بعض ایسے رہنما بھی ہیں جو قافلے کا حصہ بننے کے بعد واپس گھروں کو لوٹ گئے۔

 

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبائی صدر جنید اکبر چند دیگر ساتھیوں کے ہمراہ لانگ مارچ میں نمایاں ہیں، تاہم پارٹی کی مرکزی اور صوبائی قیادت کی بڑی تعداد کی غیر موجودگی نے اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ پی ٹی آئی میں لانگ مارچ کے معاملے پر مکمل یکسوئی موجود نہیں۔

خیبرپختونخوا سے شروع ہونے والا لانگ مارچ آگے بڑھ رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی پارٹی کی قیادت اور منتخب نمائندوں کی عدم شرکت نے کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سوشل میڈیا ٹیم نے مارچ میں شریک اور غیر حاضر رہنماؤں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا شروع کر دی ہے۔

 

پارٹی ذرائع کے مطابق صرف یہ نہیں دیکھا جا رہا کہ کون مارچ میں پہنچا بلکہ یہ بھی مانیٹر کیا جا رہا ہے کہ کون کتنی دیر موجود رہا، کس نے صرف ویڈیوز بنوائیں اور واپس چلا گیا اور کون اپنے ساتھ کتنے کارکن لے کر آیا۔

لانگ مارچ کا آغاز قومی اسمبلی کے رکن شیر افضل مروت کے حلقے سے ہوا، لیکن وہ خود اس میں شریک نہیں ہوئے۔ ان کے بھائی، جو سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی کابینہ میں معاون خصوصی رہ چکے ہیں، بھی مارچ میں نمایاں نظر نہیں آئے۔ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر کی عدم شرکت بھی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ اہم رہنماؤں اور منتخب نمائندوں کی غیر موجودگی نے یہ سوال مزید اہم بنا دیا ہے کہ اگر یہ احتجاج پوری پارٹی کی تحریک ہے تو مرکزی اور صوبائی قیادت کی بڑی تعداد عملی میدان سے کیوں دور ہے۔

 

یاد رہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں تحریک انصاف کے 93 ارکان موجود ہیں جن میں وزرا، مشیر، معاونین خصوصی اور پارلیمانی سیکریٹریز بھی شامل ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا سے پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹرز بھی پارٹی کے سیاسی وزن میں اہم کردار رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود ان میں سے بڑی تعداد لانگ مارچ میں نمایاں دکھائی نہیں دیتی۔ پنجاب میں بھی پی ٹی آئی کے 115 ارکان صوبائی اسمبلی موجود ہیں، مگر وہاں احتجاجی سرگرمی نسبتاً محدود ہے، جس کے باعث یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا تحریک انصاف کی ملک گیر احتجاجی تحریک عملاً خیبرپختونخوا تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

 

پارٹی کے اندر کئی رہنماؤں کی سرگرمیوں پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ علی امین گنڈاپور، مشتاق غنی، اسد قیصر، عاطف خان، شہرام ترکئی، فخر جہان، ریاض اور دیر سے تعلق رکھنے والے بعض ارکان سمیت کئی اہم شخصیات لانگ مارچ میں اس انداز سے متحرک نظر نہیں آ رہیں جس کی ایک احتجاجی تحریک میں توقع کی جاتی ہے۔ مینا خان آفریدی اپنے حلقے میں سرگرم ضرور ہیں، تاہم لانگ مارچ کے مرکزی اسٹیج اور سرگرمیوں میں ان کی موجودگی محدود دکھائی دیتی ہے، جبکہ دیگر کئی منتخب نمائندوں کی عملی غیر موجودگی بھی پارٹی کے اندر بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔

 

پارٹی ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے اندر مختلف گروپ ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ بعض رہنماؤں کے بارے میں تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ موجودہ لانگ مارچ کی کامیابی کے حوالے سے زیادہ پرامید نہیں، جبکہ دوسری جانب وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی پر اسلام آباد کی جانب پیش قدمی تیز کرنے کے لیے دباؤ بڑھانے کی بات بھی سامنے آ رہی ہے۔ صوبائی صدر جنید اکبر بھی مختلف مواقع پر ایسے کارکنوں اور رہنماؤں کی نگرانی کی ضرورت پر زور دے چکے ہیں جو بظاہر مارچ کا حصہ بنتے ہیں لیکن عملی طور پر زیادہ دیر موجود نہیں رہتے۔ اس صورتحال نے پارٹی کے اندر اعتماد کے بحران کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

 

موجودہ صورتحال میں اصل بحران صرف کارکنوں کی تعداد کا نہیں بلکہ سیاسی قیادت اور تنظیمی ڈھانچے کی یکسوئی کا ہے۔ اگر منتخب نمائندے، وزرا، مرکزی رہنما اور تنظیمی عہدیدار ایک ہی احتجاجی حکمت عملی پر متفق نہ ہوں تو کارکنوں کو مسلسل متحرک رکھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ لانگ مارچ کی کامیابی محض سڑکوں پر موجود لوگوں کی تعداد سے نہیں بلکہ قیادت کے باہمی اعتماد، تنظیمی نظم و ضبط اور سیاسی حکمت عملی کے واضح ہونے سے بھی جڑی ہوتی ہے، اور یہی تینوں پہلو اس وقت تحریک انصاف کے لیے سب سے بڑا چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔

 

پی ٹی آئی کی خیبر پختون خوا تنظیم کی احتجاج میں نسبتاً کم دلچسپی بھی اسی بحران کی ایک وجہ سمجھی جا رہی ہے۔ صوبائی جنرل سیکریٹری علی اصغر جدون سمیت بعض اہم تنظیمی عہدیدار وہ کردار ادا کرتے دکھائی نہیں دے رہے جو ماضی کی احتجاجی تحریکوں میں پارٹی تنظیم ادا کرتی رہی ہے۔ خواتین ونگ کی سرگرمیاں بھی محدود دکھائی دیتی ہیں، جبکہ مخصوص نشستوں کے معاملے کے بعد اس ونگ میں پیدا ہونے والی بے اطمینانی نے بھی تنظیمی فعالیت کو متاثر کیا ہے۔ یوں پارٹی کے اندر قیادت، تنظیم اور منتخب نمائندوں کے درمیان موجود فاصلے لانگ مارچ کے دوران زیادہ واضح ہو رہے ہیں۔

لانگ مارچ ختم کرنے کی کنجی عمران خان کے پاس ہے: شوکت یوسفزئی

تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے لیے اب سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ قافلہ اسلام آباد تک پہنچ پائے گا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا پارٹی اپنی قیادت، منتخب نمائندوں اور تنظیمی دھڑوں کو ایک واضح سیاسی مقصد پر متحد کر سکے گی۔ اگر اہم رہنما خود میدان سے دور رہیں، بعض مارچ میں شامل ہو کر واپس چلے جائیں اور پارٹی کے اندر ایک دوسرے پر اعتماد کا فقدان بڑھتا رہے تو حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش سے زیادہ توجہ تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات پر مرکوز ہونے کا خدشہ ہے۔ موجودہ حالات میں لانگ مارچ حکومت کے خلاف احتجاج کی آزمائش سے بڑھ کر پی ٹی آئی کی تنظیمی طاقت، قیادت کی یکجہتی اور اپنے سیاسی فیصلوں پر داخلی اعتماد کا بڑا امتحان بن چکا ہے۔

Back to top button