ترقی پانے والے جرنیلوں کو کون سے اہم عہدے ملنے والے ہیں؟

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے پاکستان آرمی کی اعلیٰ کمانڈ میں اہم ترین تبدیلیاں کرتے ہوئے 86ویں اور 87ویں پی ایم اے لانگ کورس کے 11 میجر جنرلز کو بطور تھری سٹار لیفٹیننٹ جنرل ترقی دینے کے بعد اب ان کی حساس ترین عہدوں پر تعیناتیاں شروع ہو گئی ہیں۔ نئے لیفٹیننٹ جنرلز میں سے کچھ کو کمانڈرز بنایا جا رہا ہے جبکہ کچھ کو جنرل ہیڈ کوارٹر میں پوسٹنگز دی جا رہی ہیں۔
چونکہ ترقیاں پانے والے جرنیلوں کی نئی ذمہ داریوں کے بارے میں ابھی حتمی سرکاری نوٹیفکیشن سامنے نہیں آئے، اس لیے زیرِ گردش تعیناتیوں کو ممکنہ تقرریاں قرار دیا جا رہا ہے۔ عسکری ذرائع کے مطابق ترقی پانے والے افسران میں میجر جنرل محمد اسحاق خٹک، میجر جنرل افتخار حسن چوہدری، میجر جنرل چوہدری امیر اجمل، میجر جنرل اسد چیمہ، میجر جنرل واجد عزیز، میجر جنرل محمد عمر بشیر، میجر جنرل محمد نعیم اختر، میجر جنرل نسیم انور، میجر جنرل محمد امتنان بابر، میجر جنرل راجا محمد ندیم اشرف اور میجر جنرل نور ولی خان شامل ہیں۔ ان فوجی افسران کا تعلق بنیادی طور پر 86ویں اور 87ویں پی ایم اے لانگ کورسز سے ہے۔
نئی کمانڈ میں سب سے اہم تعیناتی میجر جنرل سے ترقی پانے کر لیفٹیننٹ جنرل بننے والے عمر بشیر کی بطور کور کمانڈر لاہور کے طور پر سامنے آئی ہے۔ عمر بشیر آرٹلری سے تعلق رکھتے ہیں اور ترقی سے قبل جنرل ہیڈکوارٹرز میں وائس چیف آف جنرل سٹاف کے عہدے پر فرائض انجام دے رہے تھے۔ ان کا لاہور کور کی کمان سنبھالنا پنجاب کے سب سے اہم فوجی کمانڈ ڈھانچے میں ایک نمایاں تبدیلی ہوگی۔اسی طرح میجر جنرل محمد نعیم اختر کو لیفٹیننٹ جنرل بنائے جانے کے بعد ممکنہ طور پر کور کمانڈر پشاور کی کمان سونپے جانے کی اطلاع ہے۔ وہ اس سے قبل نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں چیف انسٹرکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ پشاور کور ملک کے انتہائی حساس فوجی علاقوں میں شمار ہوتی ہے کیونکہ اسکی ذمہ داریوں میں افغانستان سے ملحقہ سرحد اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف فوجی کارروائیاں بھی شامل ہیں، اس لیے نعیم اختر کی ممکنہ تعیناتی کو موجودہ سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں خاص اہمیت حاصل ہوگی۔
میجر جنرل نور ولی خان کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی کے بعد انہیں ممکنہ طور پر کوارٹر ماسٹر جنرل یعنی QMG مقرر کیا جا سکتا ہے۔ وہ اس سے قبل وزارت دفاعی پیداوار میں ایڈیشنل سیکریٹری کے طور پر کام کر رہے تھے۔ دوسری طرف میجر جنرل چوہدری امیر اجمل تاہم کی نئی ذمہ داری ابھی باضابطہ طور پر سامنے نہیں آئی۔
میجر جنرل واجد عزیز بھی اس نئی قیادت میں انتہائی اہم نام ہیں۔ وہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور ان کی ترقی کے بعد ممکنہ نئی ذمہ داری کے بارے میں ابھی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔ اسی طرح میجر جنرل افتخار حسن چوہدری، جو کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ اور میجر جنرل نسیم انور، جو پاکستان ملٹری اکیڈمی و دیگر تربیتی ذمہ داریوں سے وابستہ رہے ہیں، کو بھی اہم ترین سٹاف ذمہ داریاں ملنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں، تاہم ان دونوں کی نئی پوسٹنگ کو فی الحال حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
میجر جنرل محمد اسحاق خٹک، میجر جنرل اسد چیمہ، میجر جنرل امتنان بابر اور میجر جنرل راجا محمد ندیم اشرف کی نئی ذمہ داریوں کے بارے میں بھی مختلف امکانات زیرِ بحث ہیں۔اسحاق خٹک سٹریٹجک پلانز ڈویژن سے وابستہ اہم ذمہ داری نبھا رہے تھے، اسد چیمہ ایئر ڈیفنس سے تعلق رکھتے ہیں اور ایس آئی ایف سی سے منسلک رہے، جبکہ امتنان بابر انجینئرز کور کے افسر ہیں اور 45 انجینئر ڈویژن کی کمان کر چکے ہیں۔ ندیم اشرف آرٹلری سے تعلق رکھتے ہیں اور ویپنز اینڈ ایکوپمنٹ سے متعلق اہم ذمہ داری پر فائز رہے ہیں۔ ان افسران کو بھی اعلیٰ جنرل ہیڈکوارٹرز، کور یا حساس سٹاف ذمہ داریوں میں ایڈجسٹ کیے جانے کا امکان ہے، مگر ان کی نئی پوسٹنگز کا حتمی اعلان ابھی باقی ہے۔
حالیہ تبدیلیاں صرف ترقی پانے والے 11 میجر جنرلز تک محدود نہیں بلکہ پہلے سے لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر موجود کئی سینئر افسران کی ممکنہ نئی تعیناتیوں سے بھی جڑی ہوئی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل عنایت حسین کو کور کمانڈر کوئٹہ، لیفٹیننٹ جنرل عامر نجم کو کور کمانڈر ملتان، اور لیفٹیننٹ جنرل شاکر اللہ خٹک کو کور کمانڈر منگلا کی کمان سونپنے کے بارے میں سوچا جا رہا ہے۔ اسی طرح لیفٹیننٹ جنرل امداد کو انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ ایویلیوایشن اور لیفٹیننٹ جنرل عمر بخاری کو چیف آف جنرل سٹاف کے منصب پر لائے جانے کی اطلاعات ہیں۔
حالیہ پروموشنز کے نتیجے میں ترقی کے لیے زیرِ غور میجر جنرلز میں سے تقریباً 30 افسران کو سپر سیڈ کیا گیا ہے، تاہم فوج کی جانب سے اس تعداد کی باضابطہ تصدیق یا ہر افسر کے نام جاری نہیں کیے گئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تھری سٹار عہدے کے لیے ہونے والی حالیہ سلیکشن نے بڑی تعداد میں ایسے ٹو سٹار جرنیلوں کے لیے ترقی کا راستہ بند کر دیا ہے جو پروموشن زون میں شامل تھے لیکن آرمی سلیکشن بورڈ میں ان سے جونیئر یا ہم عصر افسران آگے نکل گئے۔ فوج میں یہ اعلیٰ سطحی ردوبدل فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دور میں پاک فوج کی سینئر کمان کے ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں نسبتاً نوجوان کورسز سے تعلق رکھنے والے افسران کو اہم فیلڈ کمانڈز اور حساس جنرل ہیڈکوارٹرز کی ذمہ داریوں کے لیے آگے لایا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ جولائی 2026 میں لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی اور نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کے کمانڈر کی حیثیت سے تقرری کے بعد اب تھری سٹار سطح پر ہونے والی یہ تبدیلیاں فوجی قیادت کی مجموعی تشکیل نو کا اگلا بڑا مرحلہ قرار دی جا رہی ہیں۔
