پی ٹی آئی سے مذاکرات کامیاب بھی ہوں تو فیصلوں کی پاسداری کی کیا ضمانت ہے؟ خواجہ آصف

 

 

 

وزیر دفاع خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات اور ان کی کامیابی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ بات چیت نتیجہ خیز ہونے کے باوجود اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ بعد میں معاہدوں اور فیصلوں کی پاسداری بھی کی جائے گی۔

سوشل میڈیا پر جاری بیان میں وفاقی وزیر خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہےکہ کارکن سڑکوں پر اسلحہ لے کر آئے ہوئے ہیں، جب کہ ’’دلیر لیڈر‘‘ بم پروف اور بلٹ پروف سرکاری گاڑیوں میں چھپے ہوئے ہیں۔

 

وفاقی وزیر خواجہ آصف نے کہا کہ عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی کی جارہی ہے، ہیلی کاپٹر اور سرکاری وسائل استعمال کیے جارہے ہیں اور اسلحہ بردار جلوس نکالے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لیڈر دلیر ہو اور دو نمبر مال کھانےوالا نہ ہو تو وہ کارکنوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہوتا ہے،تاہم یہاں عدالت کے حکم اور عائد شرائط کی کھلی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔

وزیر دفاع نے سوال کیاکہ اگر مذاکرات نتیجہ خیز بھی ہوتےہیں تو احترام کی کیا ضمانت ہے؟

گورنر راج اچھا فیصلہ نہیں، آخری حد تک نہیں جانا چاہتے : وفاقی وزیر امیر مقام

ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر سب کا اتفاق اور احترام ہے،لیکن پی ٹی آئی اس پر راضی نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان سے ڈرون حملہ ہو یا دہشت گردی کا واقعہ، پی ٹی آئی کی جانب سے نہ مزاحمت نظر آتی ہےاور نہ مذمت، جب کہ فوج، پیرا ملٹری یا پولیس اہلکاروں کی شہادتوں پر بھی نہ مزاحمت ہوتی ہے نہ مذمت۔

 

Back to top button