سہیل آفریدی نے حکومتPTIمذاکرات ناکام کیسے بنائے؟

حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات ایسے وقت میں ناکام ہوئے جب کئی گھنٹوں کی بات چیت کے بعد فریقین کسی سمجھوتے کے قریب دکھائی دے رہے تھے۔ ایک طرف اسلام آباد میں مذاکرات جاری تھے تو دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اسلام آباد مارچ کی تیاریوں کو حتمی شکل دے رہے تھے۔ یہی متوازی سیاسی حکمت عملی مذاکرات کے آخری مرحلے میں اہم سوال بن گئی کہ کیا پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم کے پاس حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار تھا یا اسے صوبائی قیادت اور عمران خان سے مشاورت درکار تھی۔

مذاکرات کے دوسرے دور کے بعد ایک موقع پر معاملات بہتر ہونے اور کسی معاہدے کے قریب پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم آخری مرحلے میں خیبر پختونخوا حکومت کے معاملات، دہشتگردی کے خلاف وفاق سے تعاون اور عمران خان سے ملاقات سمیت مختلف نکات پر اختلافات برقرار رہے۔ پی ٹی آئی کا مؤقف تھا کہ اہم معاملات پر عمران خان سے مشاورت کے بغیر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔

اسی دوران سہیل آفریدی مذاکراتی ٹیم سے مسلسل رابطے میں رہے اور واضح کیا کہ اگر مطالبات تسلیم کیے گئے تو اسلام آباد مارچ روکا جاسکتا ہے، بصورت دیگر مارچ کی تیاری مکمل ہے۔ ان کا بنیادی مؤقف یہ تھا کہ مذاکرات کا کوئی بھی نتیجہ عمران خان کی منظوری اور مشاورت کے بعد ہی قابل قبول ہوگا۔

پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت میں بھی مارچ کے حوالے سے مکمل اتفاق رائے نظر نہیں آیا۔ بعض رہنما مارچ مؤخر کرنے کے حامی تھے جبکہ بعض اسلام آباد جانے پر زور دے رہے تھے۔ اس اختلاف نے مذاکراتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا اور یہ سوال بھی سامنے آیا کہ پارٹی کی سیاسی حکمت عملی کا حتمی فیصلہ کس سطح پر ہوگا۔

مذاکرات ناکام ہوتے ہی سہیل آفریدی نے اسلام آباد مارچ کا شیڈول جاری کردیا۔ اس اقدام سے واضح ہوگیا کہ مذاکراتی راستہ بند ہونے کی صورت میں پی ٹی آئی احتجاجی راستے پر آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم ان کے مؤقف میں یہ گنجائش بھی موجود رہی کہ اگر حکومت مطالبات پر مؤثر یقین دہانی کرائے تو مارچ روکا جاسکتا ہے۔

یوں مذاکرات کی ناکامی کو صرف سہیل آفریدی کے فیصلے سے جوڑنا مکمل تصویر نہیں، لیکن یہ ضرور واضح ہے کہ وہ اس مرحلے پر اہم فیصلہ ساز کردار کے طور پر سامنے آئے۔ عمران خان سے مشاورت، خیبر پختونخوا کے معاملات، انسدادِ دہشتگردی سے متعلق اختلافات اور اسلام آباد مارچ نے مذاکراتی عمل کو ایک ایسے موڑ پر پہنچا دیا جہاں سیاسی مفاہمت اور احتجاجی حکمت عملی ایک دوسرے کے متوازی چلتی رہیں۔ اب اصل سوال یہی ہے کہ کیا فریقین دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس آتے ہیں یا سیاسی کشیدگی مزید بڑھتی ہے۔

Back to top button