کیا پاکستان ہمیشہ کیلئے IMFکے چنگل سے نکل سکتا ہے؟

پاکستان ایک ایسے معاشی موڑ پر کھڑا ہے جہاں کئی برس کی مالیاتی اور بیرونی ادائیگیوں کی مشکلات کے بعد پہلی مرتبہ کچھ ایسے اشارے سامنے آئے ہیں جو یہ امکان پیدا کرتے ہیں کہ ملک موجودہ آئی ایم ایف پروگرام کی تکمیل کے بعد بار بار بیل آؤٹ پروگراموں کی طرف جانے کے بجائے نسبتاً خود انحصار معاشی راستہ اختیار کر سکتا ہے۔ تاہم اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام سے نکل سکتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا وہ ان بنیادی کمزوریوں کو دور کر سکتا ہے جو ماضی میں اسے بار بار عالمی مالیاتی ادارے کے دروازے تک لے جاتی رہی ہیں۔

پاکستان کا 7 ارب ڈالر کا 37 ماہ کا آئی ایم ایف پروگرام ستمبر 2024 میں منظور ہوا تھا اور 2026 میں اس کے آخری مرحلے کی طرف پیش رفت ہو رہی ہے۔ مئی 2026 میں آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے تیسرے جائزے کی منظوری دیتے ہوئے مزید تقریباً 1.1 ارب ڈالر جاری کرنے کی اجازت دی۔ آئی ایم ایف نے اس دوران پاکستان کی معاشی استحکام، ذخائر کی بحالی اور مالیاتی کارکردگی میں بہتری کو تسلیم کیا، تاہم ساتھ ہی ٹیکس نظام، سرکاری اداروں، توانائی کے شعبے، پیداواری صلاحیت اور مسابقت سمیت بنیادی اصلاحات جاری رکھنے پر زور دیا۔

سب سے نمایاں بہتری بیرونی شعبے میں دکھائی دیتی ہے۔ آئی ایم ایف کے تازہ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے سرکاری زرمبادلہ ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور ذخائر کی درآمدی کوریج بھی 2023 کے بحران کے مقابلے میں بہتر سطح پر پہنچ چکی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار میں بھی 2026 کے دوران ذخائر میں مسلسل بہتری دیکھی گئی؛ جون کے اختتام پر مرکزی بینک کے ذخائر تقریباً 15.9 ارب ڈالر تھے جبکہ بینکوں سمیت مجموعی ذخائر 21.5 ارب ڈالر سے زیادہ تھے۔

پاکستان کے لیے ایک اور اہم پیش رفت عالمی مالیاتی منڈیوں تک دوبارہ رسائی ہے۔ ستمبر 2026 میں پاکستان نے 3 ارب ڈالر کا دو حصوں پر مشتمل یورو بانڈ جاری کیا، جس کے لیے تقریباً 6 ارب ڈالر کی پیشکشیں موصول ہوئیں۔ یہ پاکستان کی ایک ہی لین دین میں اب تک کی سب سے بڑی بین الاقوامی بانڈ فروخت تھی۔ تاہم اسے مکمل معاشی خود انحصاری کی علامت سمجھنے کے بجائے بیرونی مالیاتی ذرائع کو متنوع بنانے کی صلاحیت کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا، کیونکہ یورو بانڈ بھی قرض ہی ہے اور اس پر سود کی ادائیگی مستقبل کے مالی دباؤ میں شامل ہوتی ہے۔

ترسیلات زر بھی پاکستان کے بیرونی کھاتے کے لیے ایک اہم سہارا بنی ہوئی ہیں۔ آئی ایم ایف کے اعداد و شمار کے مطابق ترسیلات زر میں گزشتہ بحران کے بعد نمایاں بہتری آئی ہے، جبکہ خدمات اور خصوصاً ڈیجیٹل معیشت سے حاصل ہونے والی آمدنی میں اضافے نے بھی بیرونی شعبے کو کچھ سہارا دیا ہے۔ اس صورت حال کا ایک اہم نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان کے لیے درآمدی ضروریات پوری کرنے اور بیرونی ادائیگیوں کا انتظام کرنے کی صلاحیت ماضی کے بحران کے مقابلے میں بہتر ہوئی ہے۔

کرنٹ اکاؤنٹ کی صورتحال بھی نسبتاً بہتر ہوئی ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ حالیہ عرصے میں بڑے خسارے کے بجائے تقریباً متوازن یا معمولی سرپلس کی سطح پر رہا، جبکہ بنیادی بجٹ توازن میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔ یہ پیش رفت اس لحاظ سے اہم ہے کہ 2023 کا بحران بڑی حد تک اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب ملک کے پاس بیرونی ادائیگیوں کے لیے مطلوبہ زرمبادلہ دستیاب نہیں تھا۔

لیکن یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کو سب سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ موجودہ بہتری کو مستقل معاشی تبدیلی سمجھ لینا خطرناک ہوگا، کیونکہ ملک کی بنیادی برآمدی صلاحیت اب بھی سب سے بڑا سوال ہے۔ پاکستان کی اشیا کی برآمدات کئی برس سے محدود دائرے میں گردش کر رہی ہیں، جبکہ درآمدی ضروریات میں اضافہ ہونے کی صورت میں تجارتی خسارہ دوبارہ بیرونی کھاتے پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ آئی ایم ایف کے اعداد و شمار بھی ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کی برآمدات میں بہتری کے باوجود برآمدات کا حجم معیشت کے مقابلے میں اب بھی نسبتاً محدود ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آئی ایم ایف سے نکلنے کا اصل راستہ صرف زیادہ ذخائر، زیادہ ترسیلات زر یا بیرونی قرض حاصل کرنے میں نہیں بلکہ برآمدات میں مستقل اور نمایاں اضافے میں پوشیدہ ہے۔ اگر پاکستان ہر چند سال بعد درآمدات میں تیزی آنے کے ساتھ دوبارہ ڈالر کی قلت کا شکار ہوجاتا ہے تو موجودہ استحکام بھی عارضی ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر برآمدی صنعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، خدمات، زراعت اور صنعتی پیداوار میں حقیقی وسعت پیدا کی جائے تو بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ مستقل طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔

توانائی کے شعبے میں بھی تبدیلی کی گنجائش موجود ہے۔ شمسی توانائی اور مقامی توانائی کے دیگر ذرائع کا فروغ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ بجلی کے شعبے کے گردشی قرضے، تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی، توانائی کی قیمت اور صنعتی مسابقت جیسے مسائل حل کرنا بھی ضروری ہوگا۔ آئی ایم ایف نے بھی پاکستان کے لیے توانائی کے شعبے کی پائیداری اور سرکاری اداروں میں اصلاحات کو طویل مدتی معاشی استحکام کے لیے اہم قرار دیا ہے۔

اسی طرح یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان پر بیرونی قرض اور مستقبل کی ادائیگیوں کا دباؤ بدستور موجود ہے۔ آئی ایم ایف کے اعداد و شمار کے مطابق آنے والے برسوں میں بیرونی مالیاتی ضروریات برقرار رہیں گی۔ اس لیے عالمی منڈی سے دوبارہ قرض حاصل کرنے کی صلاحیت کو آئی ایم ایف کی ضرورت ختم ہونے کے برابر سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ یورو بانڈ مارکیٹ تک رسائی ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن قرض لینے کی صلاحیت اور قرض کے بغیر معیشت چلانے کی صلاحیت دو مختلف چیزیں ہیں۔

پاکستان کے لیے موجودہ صورتحال یقیناً ایک اہم موقع ہے، لیکن اسے ’’آئی ایم ایف سے نجات‘‘ کے بجائے ’’آئی ایم ایف کے بعد کی معیشت کی تیاری‘‘ کا مرحلہ سمجھنا زیادہ مناسب ہوگا۔ اگر حکومت اس عرصے میں ٹیکس بنیاد وسیع کرتی ہے، توانائی اور سرکاری اداروں میں اصلاحات مکمل کرتی ہے، برآمدات کو حقیقی طور پر بڑھاتی ہے، درآمدی انحصار کم کرتی ہے اور قرض پر مبنی ترقی کے بجائے پیداوار اور سرمایہ کاری کو مرکز بناتی ہے تو موجودہ استحکام ایک مستقل معاشی تبدیلی میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

اصل امتحان یہ ہوگا کہ آئی ایم ایف پروگرام ختم ہونے کے بعد پاکستان کو دوبارہ کسی ہنگامی پروگرام کی ضرورت نہ پڑے۔ اس مقصد کے لیے صرف زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانا کافی نہیں؛ ڈالر کمانے کی مستقل صلاحیت پیدا کرنا ہوگی۔ اگر موجودہ بہتری کو ساختی اصلاحات کے ذریعے مضبوط کردیا گیا تو پاکستان کے پاس کئی برس بعد ایسا موقع ضرور موجود ہے جس سے وہ بار بار کے معاشی بحران اور آئی ایم ایف پروگراموں کے چکر سے باہر نکلنے کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ لیکن اگر بنیادی مسائل جوں کے توں رہے تو موجودہ ذخائر، ترسیلات زر اور عالمی منڈی تک رسائی بھی محض اگلے بحران تک مہلت ثابت ہوسکتی ہے۔

Back to top button