لانگ مارچ، پی ٹی آئی کا سیاسی مستقبل خطرے میں کیوں؟

حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان کئی روز کی رابطہ کاری اور مذاکرات کے بعد مفاہمت کا امکان آخری مرحلے میں ختم ہوگیا اور خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں لانگ مارچ لکی مروت سے شروع ہوگیا۔ مذاکرات میں زیادہ تر معاملات پر اتفاق کے حکومتی دعوے کے باوجود دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی، خیبرپختونخوا حکومت کے کردار، عمران خان تک رسائی اور بعض سیاسی و انسانی معاملات پر اختلاف برقرار رہا۔ یوں ایک ایسا سیاسی راستہ جو احتجاج کو مذاکرات کے ذریعے ختم کرنے کی طرف بڑھ رہا تھا، دوبارہ سڑکوں کی سیاست میں تبدیل ہوگیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں تقریباً 99 فیصد معاملات طے ہوگئے تھے اور معاہدے کا مسودہ بھی تیار تھا، تاہم آخری مرحلے میں خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے اعتراضات سامنے آنے کے باعث اتفاق رائے برقرار نہ رہ سکا۔ ان کے مطابق مسودے میں متعدد مرتبہ تبدیلیاں ہوئیں اور بالآخر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ یہ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے، جس کے تحت مذاکرات کی ناکامی کا بنیادی سبب خیبرپختونخوا حکومت کا سکیورٹی سے متعلق مسودے پر اتفاق نہ کرنا تھا۔
دوسری جانب تحریک انصاف کی جانب سے مذاکرات کی ناکامی کی مختلف وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق دہشت گردی کے خلاف تعاون پر اصولی طور پر اختلاف نہیں تھا، تاہم فوجی کارروائی، ڈرون حملوں اور انضمام شدہ اضلاع میں ممکنہ ہنگامی اقدامات کے طریقۂ کار پر تحفظات موجود تھے۔ پارٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ عمران خان سے ملاقات اور ان تک رسائی کے معاملے پر حکومت کی جانب سے مطلوبہ پیش رفت نہ ہونے کے بعد مذاکرات جاری رکھنے کی گنجائش محدود ہوگئی تھی۔
یہی تضاد موجودہ بحران کی اصل پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ حکومت کے نزدیک بنیادی مسئلہ دہشت گردی کے خلاف ریاستی اقدامات اور امن و امان ہے، جبکہ تحریک انصاف کے نزدیک سیاسی اور انسانی معاملات، خصوصاً عمران خان تک رسائی، بھی مذاکرات کے مرکزی نکات میں شامل تھے۔ اس لیے مذاکرات میں ناکامی کو صرف ایک فریق کی عدم آمادگی سے جوڑنے کے بجائے یہ دیکھنا زیادہ اہم ہے کہ دونوں جانب سے مختلف ترجیحات ایک مشترکہ معاہدے میں کیوں تبدیل نہ ہو سکیں۔
لانگ مارچ کے آغاز نے اس سیاسی اختلاف کو مزید عملی شکل دے دی ہے۔ لکی مروت سے شروع ہونے والا مارچ کرک پہنچ چکا ہے اور پی ٹی آئی نے اپنے اگلے مرحلوں کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی واضح کیا ہے کہ ان کی جماعت اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی، جبکہ حکومت کی جانب سے اسلام آباد میں احتجاج کے حوالے سے عدالتی احکامات اور امن و امان کو بنیاد بنا کر سخت مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔
اب پی ٹی آئی کے سیاسی مستقبل کا سوال دراصل کسی ایک مارچ کی کامیابی یا ناکامی سے زیادہ وسیع ہے۔ موجودہ صورتحال میں پارٹی کو بیک وقت تین مختلف سطحوں پر سیاسی چیلنج کا سامنا ہے۔ ایک طرف اسے اپنے احتجاجی بیانیے اور کارکنوں کی متحرک سیاست کو برقرار رکھنا ہے، دوسری طرف وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات کا راستہ مکمل طور پر بند ہونے سے پیدا ہونے والے سیاسی خلا کو سنبھالنا ہے، جبکہ تیسری طرف خیبرپختونخوا میں حکومت چلانے اور وفاق کے ساتھ سکیورٹی معاملات پر عملی تعاون کے سوال کا سامنا ہے۔
خیبرپختونخوا کا پہلو اس بحران کو عام سیاسی احتجاج سے مختلف بناتا ہے۔ صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی پر اختلاف اب براہ راست قومی سلامتی اور انتظامی ذمہ داریوں کے سوال سے جڑ گیا ہے۔ اگر سیاسی اختلاف کے ساتھ ساتھ سکیورٹی پالیسی پر بھی اتفاق پیدا نہ ہوسکا تو تنازع صرف اسلام آباد مارچ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ وفاق اور صوبے کے درمیان اختیارات اور ذمہ داریوں کی بحث بھی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے لیے ایک اہم سوال یہ ہے کہ احتجاج، مذاکرات اور پارلیمانی سیاست کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔ موجودہ مذاکرات میں پی ٹی آئی کی مرکزی مذاکراتی ٹیم اور خیبرپختونخوا حکومت کے مؤقف کے درمیان آخری مرحلے پر جو فرق سامنے آیا، اس نے پارٹی کے اندر فیصلہ سازی کے طریقۂ کار پر بھی سوالات پیدا کیے ہیں۔ اگر مذاکراتی ٹیم کسی مسودے پر اتفاق کے قریب پہنچتی ہے لیکن صوبائی حکومت اس کے اہم حصے کو قبول نہیں کرتی تو آئندہ کسی بھی مذاکراتی عمل میں مشترکہ مؤقف تشکیل دینا بنیادی ضرورت بن جائے گا۔
اسی طرح حکومت کے لیے بھی چیلنج صرف مارچ روکنا نہیں بلکہ سیاسی کشیدگی کو دوبارہ مذاکرات کی طرف لانا ہے۔ احتجاج کو انتظامی اقدامات سے محدود کیا جا سکتا ہے، لیکن وفاق اور صوبے کے درمیان سکیورٹی تعاون، عمران خان تک رسائی، سیاسی کارکنوں کے مقدمات اور دیگر سیاسی مطالبات جیسے معاملات محض انتظامی فیصلوں سے ختم نہیں ہوں گے۔ اگر ان معاملات کے لیے سیاسی راستہ دوبارہ پیدا نہ ہوا تو کشیدگی کسی دوسرے مرحلے میں دوبارہ سامنے آ سکتی ہے۔
پی ٹی آئی کے سیاسی مستقبل کا فوری تعین بھی صرف اس بات سے نہیں ہوگا کہ لانگ مارچ اسلام آباد تک پہنچتا ہے یا نہیں۔ زیادہ اہم یہ ہوگا کہ پارٹی اپنے احتجاجی مطالبات کو کس حد تک واضح سیاسی ایجنڈے میں تبدیل کرتی ہے، خیبرپختونخوا حکومت وفاق کے ساتھ سکیورٹی معاملات پر کس نوعیت کا تعاون کرتی ہے، مرکزی قیادت اور صوبائی حکومت کے درمیان فیصلہ سازی کتنی مربوط رہتی ہے اور کیا مستقبل میں مذاکرات کے لیے کوئی قابل عمل فریم ورک دوبارہ تشکیل پاتا ہے۔
موجودہ مرحلے میں حکومت اور تحریک انصاف دونوں کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ سیاسی اختلاف کو اس حد تک بڑھنے سے کیسے روکا جائے جہاں احتجاج، ریاستی ردعمل اور سکیورٹی معاملات ایک دوسرے میں مدغم ہو جائیں۔ مذاکرات کی ناکامی نے سیاسی فاصلے ضرور بڑھائے ہیں، لیکن موجودہ صورتحال کا اگلا رخ لانگ مارچ کے حجم، حکومتی ردعمل، خیبرپختونخوا حکومت کے طرز عمل اور دونوں فریقوں کی آئندہ سیاسی حکمت عملی سے طے ہوگا۔ اس مرحلے پر پی ٹی آئی کے لیے بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ لانگ مارچ کہاں تک جاتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ احتجاج کے بعد وہ اپنے سیاسی مطالبات کو کس طرح ایک قابل عمل مذاکراتی اور پارلیمانی حکمت عملی میں تبدیل کرتی ہے۔
