پاکستان میں فریٹ ٹرانسپورٹ کاشعبہ بحران کا شکار کیوں؟

پاکستان کا مال بردار ٹرانسپورٹ کا شعبہ ایک ایسے بحران کا سامنا کر رہا ہے جس کے اثرات صرف ٹرانسپورٹ تک محدود نہیں بلکہ سڑکوں، تجارت، صنعتی پیداوار اور ملکی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں۔ وزارت مواصلات کی رپورٹ کے مطابق ملک میں رجسٹرڈ 354220 گڈز گاڑیوں میں سے تقریباً نصف ٹرک کم از کم تین دہائیاں پرانے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کا فریٹ ٹرانسپورٹ نظام جدید معاشی اور تجارتی تقاضوں کے مقابلے میں کس قدر فرسودہ ہو چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ملک میں سب سے زیادہ گڈز گاڑیاں پنجاب میں رجسٹرڈ ہیں جہاں ان کی تعداد 140283 ہے، جبکہ بلوچستان میں 104277، خیبرپختونخوا میں 58908 اور سندھ میں 34411 گڈز گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں۔ اس کے علاوہ اسلام آباد میں 2709، آزاد جموں و کشمیر میں 2696 اور گلگت بلتستان میں 10936 گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس شعبے کے حجم کو ظاہر کرتے ہیں، لیکن گاڑیوں کی عمر اور حالت کا ڈیٹا اس سے زیادہ اہم سوال اٹھاتا ہے۔
گڈز ٹرانسپورٹ کے مجموعی بیڑے میں 161840 ریجڈ ٹرکس شامل ہیں جو 45.7 فیصد بنتے ہیں، جبکہ 103257 منی ٹرکس کا حصہ 29.2 فیصد، 60003 ملٹی ایکسل ٹرکس کا حصہ 16.9 فیصد اور 29120 آئل ٹینکرز کا حصہ 8.2 فیصد ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس بڑے بیڑے کا نمایاں حصہ پرانی ٹیکنالوجی اور کئی دہائیوں پرانے ماڈلز پر مشتمل ہے، جس کے نتیجے میں ایندھن کی کھپت، مرمت کے اخراجات، آلودگی اور سڑکوں پر دباؤ جیسے مسائل بڑھتے ہیں۔
وزارت مواصلات کی رپورٹ کے مطابق 1981 سے 1990 کے درمیان تیار ہونے والے ٹرک مجموعی فلیٹ کا 22.6 فیصد یعنی 80124 گاڑیاں ہیں، جبکہ 1991 سے 2000 کے دوران تیار ہونے والے ٹرک 22.5 فیصد یعنی 79502 ہیں۔ یوں صرف ان دو ادوار میں تیار ہونے والی گاڑیوں کا مجموعی حصہ 45.1 فیصد بنتا ہے۔ اس کے علاوہ 1980 سے پہلے تیار ہونے والی گاڑیاں بھی بیڑے میں موجود ہیں، جس کا مطلب ہے کہ سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کی اوسط عمر کا مسئلہ اس 45.1 فیصد سے بھی وسیع ہے۔
اس کے مقابلے میں 2001 سے 2010 کے درمیان تیار ہونے والے ٹرکوں کا حصہ 19.2 فیصد جبکہ 2011 سے 2020 کے دوران تیار ہونے والے ٹرکوں کا حصہ صرف 12.8 فیصد ہے۔ یہ فرق پاکستان میں نئے ٹرکوں کی تیاری اور پرانے بیڑے کی تبدیلی کی رفتار پر ایک بڑا سوال ہے۔ اگر نئی گاڑیوں کی آمد پرانی گاڑیوں کے اخراج سے کہیں کم رہے تو وقت کے ساتھ فریٹ ٹرانسپورٹ کا بنیادی ڈھانچہ مزید پرانا ہوتا چلا جائے گا۔
پاکستان کی مقامی ٹرک مینوفیکچرنگ بھی اس ضرورت کے مطابق رفتار برقرار نہیں رکھ سکی۔ رپورٹ کے مطابق 1995-96 سے 2014-15 کے دوران سالانہ ٹرک پیداوار اوسطاً 5346 رہی، جبکہ 2017-18 میں ایک سال کے دوران 9326 ٹرک تیار کیے گئے۔ لیکن اس کے بعد پیداوار میں نمایاں کمی آئی اور 2020-21 میں یہ تعداد صرف 3808 رہ گئی۔ پاکستان آٹو موبائل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے ریکارڈ کے مطابق 2007 سے 2021 کے دوران مجموعی طور پر 61179 ٹرک تیار کیے گئے۔
ٹرکوں کی قیمت بھی بیڑے کی جدید کاری میں ایک بڑی رکاوٹ دکھائی دیتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مقامی غیر رسمی شعبے میں استعمال شدہ مواد سے ٹرک کی باڈی تیار کرنے پر 10 سے 15 لاکھ روپے خرچ آتا ہے، جبکہ یورو ٹو معیار پر پورا اترنے والے درآمد شدہ سیکنڈ ہینڈ ٹرک کی لاگت 70 سے 80 لاکھ روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ اس صورتحال میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے ٹرانسپورٹرز کے لیے پرانے ٹرک کو تبدیل کرکے نئی گاڑی خریدنا ایک بڑا مالی بوجھ بن سکتا ہے۔
برانڈز کے اعتبار سے ہینو 26.4 فیصد حصے کے ساتھ سب سے بڑی کمپنی ہے، جبکہ بیڈفورڈ/فورڈ کا حصہ 22.7 فیصد اور نسان کا 11.5 فیصد ہے۔ ریجڈ ٹرکس میں بیڈفورڈ کا حصہ 47.4 فیصد تک پہنچتا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کئی دہائیوں پرانے ماڈلز اب بھی ملکی فریٹ نظام میں نمایاں موجودگی رکھتے ہیں۔
یہ صورتحال صرف ٹرانسپورٹرز کے لیے مسئلہ نہیں۔ پرانے اور نسبتاً کم مؤثر ٹرک زیادہ ایندھن استعمال کرتے ہیں، سڑکوں اور پلوں پر زیادہ دباؤ ڈالتے ہیں اور طویل فاصلے کی نقل و حمل کی لاگت میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں زرعی پیداوار، صنعتی خام مال اور تیار شدہ مصنوعات کی بڑی مقدار سڑکوں کے ذریعے ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل ہوتی ہے، فریٹ نظام کی کارکردگی براہ راست اشیا کی قیمت اور تجارتی مسابقت پر اثر انداز ہوتی ہے۔
موٹرویز اور جدید شاہراہوں کا نیٹ ورک بڑھنے کے باوجود اگر ان پر چلنے والا مال بردار بیڑا کئی دہائیوں پرانی گاڑیوں پر مشتمل رہے تو بنیادی ڈھانچے کی بہتری کا مکمل فائدہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے فریٹ ٹرانسپورٹ کی جدید کاری کو محض نئی گاڑیاں درآمد کرنے کے بجائے ایک مکمل پالیسی کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے، جس میں سستے مالیاتی قرضے، پرانی گاڑیوں کے مرحلہ وار اخراج، مقامی مینوفیکچرنگ میں اضافہ، جدید ماحولیاتی معیارات اور ٹرانسپورٹروں کے لیے قابل عمل متبادل شامل ہوں۔
پاکستان کی معیشت میں تجارت اور علاقائی رابطہ کاری بڑھانے کے دعووں کے ساتھ فریٹ ٹرانسپورٹ کی موجودہ حالت ایک بنیادی سوال بھی اٹھاتی ہے: اگر مال برداری کا نظام ہی پرانے اور غیر مؤثر بیڑے پر انحصار کرتا رہے تو ملک اپنی شاہراہوں، صنعتی پیداوار اور برآمدی صلاحیت کی مکمل معاشی صلاحیت کیسے حاصل کرے گا؟ مسئلے کا حل صرف سڑکیں بنانے میں نہیں بلکہ ان سڑکوں پر چلنے والے پورے ٹرانسپورٹ نظام کو جدید بنانے میں بھی ہے۔
