سہیل آفریدی کا سرکاری ہیلی کاپٹر تنقید کی زد میں کیوں؟

خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے آغاز کے ساتھ ہی سیاسی تنازع ایک نئے رخ میں داخل ہو گیا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا پشاور سے لکی مروت لانگ مارچ کے مقام تک سرکاری ہیلی کاپٹر پر پہنچنا اب سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ ایک طرف صوبائی حکومت کے سربراہ کی جانب سے اس سفر کو سرکاری ذمہ داری یا سکیورٹی ضرورت سے جوڑے جانے کا امکان موجود ہے، جبکہ دوسری طرف مخالفین کا سوال ہے کہ ایک سیاسی سرگرمی میں شرکت کے لیے سرکاری وسائل کا استعمال کس قانونی اور انتظامی جواز کے تحت کیا گیا۔

بی بی سی اردو کے مطابق اتوار کی دوپہر سہیل آفریدی سرکاری ہیلی کاپٹر کے ذریعے لکی مروت پہنچے، جہاں تحریک انصاف کے کارکنوں نے ان کا استقبال کیا۔ اسی مقام سے ان کی قیادت میں لانگ مارچ کا آغاز ہوا۔ مارچ کے مرکزی ٹرک پر عمران خان کی تصویر کے ساتھ ’عمران خان کو رہا کرو‘ کا نعرہ درج تھا، جبکہ سہیل آفریدی نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے عوام سے ’پاکستان کی خاطر‘ گھروں سے نکلنے کی اپیل کی۔

ہیلی کاپٹر کے ذریعے آمد کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد معاملہ محض سیاسی تنقید تک محدود نہیں رہا بلکہ قانونی اور انتظامی سوالات بھی اٹھائے گئے۔ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے واضح احکامات کے باوجود وزیراعلیٰ کا سرکاری ہیلی کاپٹر پر لانگ مارچ کی قیادت کے لیے لکی مروت پہنچنا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ گورنر نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر وزیراعلیٰ خود عدالتی احکامات اور قانون کی پاسداری نہیں کریں گے تو کارکنوں سے قانون کی پابندی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔

تاہم اس معاملے پر تحریک انصاف کی جانب سے توجہ فوری طور پر وفاقی حکومت کی جانب منتقل کر دی گئی۔ سابق رکن پارلیمان بشریٰ گوہر نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے صوبائی معاملات کے حوالے سے گورنر ہاؤس میں ہونے والی ملاقات اور اجلاس پر سوالات اٹھاتے ہوئے صوبائی خودمختاری اور انتظامی اختیارات کا معاملہ سامنے رکھا۔ اتوار کی شام محسن نقوی نے گورنر خیبرپختونخوا سے ملاقات کی تھی، جس کے بعد فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ملاقات میں صوبے کی سکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں پر تبادلہ خیال ہوا۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی سہیل آفریدی کے ہیلی کاپٹر کے استعمال پر طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا پشاور سے لکی مروت تک ہیلی کاپٹر کا سفر غالباً سرکاری کام کے سلسلے میں تھا اور ممکنہ طور پر سکیورٹی صورتحال اور انسداد دہشت گردی کی کوششوں سے متعلق ہو سکتا ہے۔ اس بیان کے جواب میں بعض صحافیوں نے سوال اٹھایا کہ اگر سرکاری وسائل کے استعمال کا اصول زیر بحث ہے تو پھر مختلف سیاسی حکومتوں کے سرکاری وسائل کے استعمال پر یکساں معیار کیوں نہ اپنایا جائے۔

یہی نکتہ اس پورے معاملے کو محض ایک ہیلی کاپٹر کے سفر سے بڑھا کر سرکاری وسائل کے سیاسی اور انتظامی استعمال کے وسیع تر سوال میں تبدیل کر دیتا ہے۔ وزیراعلیٰ کا مؤقف اگر یہ ہو کہ ان کا سفر سرکاری ذمہ داری، سکیورٹی یا انتظامی ضرورت کے تحت تھا تو اس کی وضاحت متعلقہ سرکاری ریکارڈ اور قواعد کی روشنی میں ہونی چاہیے۔ دوسری طرف اگر سفر کا بنیادی مقصد سیاسی اجتماع میں شرکت اور لانگ مارچ کی قیادت تھا تو پھر سرکاری وسائل کے استعمال کا قانونی جواز ایک الگ اور اہم سوال بن جاتا ہے۔

اس معاملے میں ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں اس وقت سکیورٹی صورتحال خود وفاق اور صوبے کے درمیان شدید سیاسی اختلاف کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں مؤثر تعاون کرنا چاہیے، جبکہ صوبائی حکومت وفاق کی جانب سے صوبائی انتظامی معاملات میں مداخلت کے خدشات کا اظہار کر رہی ہے۔ ایسے ماحول میں وزیراعلیٰ کا سرکاری ہیلی کاپٹر پر لانگ مارچ کے مقام تک پہنچنا سیاسی تنازع کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سرکاری ہیلی کاپٹر کے استعمال پر اعتراضات خیبرپختونخوا کی سیاست میں نئے نہیں۔ عمران خان بھی 2018 میں وزیراعظم بننے سے قبل خیبرپختونخوا حکومت کے ہیلی کاپٹر کے مبینہ استعمال سے متعلق نیب انکوائری کا سامنا کر چکے ہیں، جبکہ وزارت عظمیٰ کے دوران بنی گالہ آنے جانے کے لیے ہیلی کاپٹر کے استعمال پر بھی سیاسی تنقید ہوئی۔ اس وقت تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے ہیلی کاپٹر کے اخراجات کے حوالے سے وضاحتیں بھی سامنے آئی تھیں۔

اس لیے موجودہ تنازع کا اصل سوال صرف یہ نہیں کہ سہیل آفریدی لکی مروت ہیلی کاپٹر سے کیوں پہنچے، بلکہ یہ ہے کہ سرکاری وسائل کے استعمال کے لیے موجود قواعد کیا کہتے ہیں، اس مخصوص سفر کی سرکاری نوعیت کیا تھی، اور کیا سیاسی سرگرمی میں شرکت اور سرکاری ذمہ داری کے درمیان واضح حد برقرار رکھی گئی۔ اگر حکومت یا وزیراعلیٰ کے پاس اس سفر کے سرکاری جواز سے متعلق دستاویزی وضاحت موجود ہے تو اسے سامنے آنا چاہیے، کیونکہ اسی سے یہ واضح ہو سکے گا کہ یہ سرکاری ذمہ داری کا سفر تھا یا سیاسی سرگرمی کے لیے سرکاری وسیلے کا استعمال۔

موجودہ سیاسی کشیدگی میں اس معاملے کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اصل بحث، یعنی لانگ مارچ، وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان سکیورٹی تعاون اور جاری مذاکرات، پس منظر میں چلی جائے اور سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے سرکاری وسائل کے استعمال کو سیاسی الزام تراشی کا ذریعہ بناتی رہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایک ہی معیار تمام حکومتوں اور سیاسی جماعتوں پر لاگو ہو۔ سرکاری وسائل عوام کی ملکیت ہیں اور ان کے استعمال کا فیصلہ سیاسی وابستگی کے بجائے قانون، قواعد اور سرکاری ضرورت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

Back to top button