قانونی ویزے، جعلی نوکریاں؛ انسانی سمگلروں کا نیا طریقۂ واردات بے نقاب

یونان کے قریب تارکین وطن کی کشتی کے المناک حادثے کے بعد انسانی سمگلنگ کے عالمی نیٹ ورک نے اپنا طریقۂ واردات بڑی حد تک تبدیل کر لیا ہے۔ روایتی غیر قانونی سرحدی راستوں کے بجائے اب بظاہر قانونی ویزوں، ہوائی سفر، جعلی ملازمتوں اور تیسرے ممالک کے ذریعے نوجوانوں کو یورپ، برطانیہ اور آسٹریلیا تک پہنچانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انسانی اسمگلروں نے آذربائیجان، خلیجی ممالک، لیبیا اور بعض جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کو مبینہ طور پر عبوری مراکز کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، جبکہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل مالی ذرائع نے اس غیر قانونی کاروبار کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ایف آئی اے کے ذرائع کے مطابق جون 2023 میں یونان کے قریب کشتی حادثے کے بعد اسمگلنگ نیٹ ورکس نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی۔ ماضی میں پاکستان سے ایران، ترکی اور پھر یورپ کی جانب غیر قانونی زمینی راستوں کے ذریعے افراد کو منتقل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی، لیکن کارروائیوں، سرحدی نگرانی اور مقدمات میں اضافے کے بعد بعض نیٹ ورکس نے براہ راست غیر قانونی سفر کے بجائے قانونی سفری دستاویزات کو اپنے نئے طریقۂ واردات کا حصہ بنا لیا ہے۔
اس نئے طریقے میں ایک نوجوان بظاہر سیاحت، تعلیم، کاروبار یا ملازمت کے مقصد سے کسی تیسرے ملک کا قانونی ویزا حاصل کرتا ہے اور ہوائی جہاز کے ذریعے وہاں پہنچتا ہے۔ اصل غیر قانونی سفر مبینہ طور پر اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔ آذربائیجان کو ایسے ہی ایک ممکنہ عبوری مرکز کے طور پر استعمال کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ تاہم کسی شخص کا ویزے کی مدت ختم ہونے کے باوجود واپس نہ آنا بذات خود انسانی اسمگلنگ کا ثبوت نہیں۔ ایف آئی اے ایسے معاملات میں مشکوک ایجنٹوں، غیر معمولی سفری تاریخ، دوسرے ممالک کے ویزوں، بیرون ملک رابطوں اور دیگر شواہد کو ملا کر معاملے کا جائزہ لے رہی ہے۔
انسانی اسمگلنگ کا ایک اور راستہ پاکستان سے خلیجی ممالک اور وہاں سے لیبیا تک بتایا جا رہا ہے۔ اس طریقۂ واردات میں متاثرہ افراد پہلے دبئی یا کسی دوسرے خلیجی ملک کا قانونی ویزا حاصل کرتے ہیں، پھر وہاں سے انہیں لیبیا منتقل کیا جاتا ہے، جہاں مقامی سہولت کاروں کے ذریعے بحیرہ روم عبور کر کے اٹلی یا دیگر یورپی ممالک پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس پورے نیٹ ورک میں پاکستان میں موجود ایجنٹ مبینہ طور پر ابتدائی مرحلہ مکمل کرتا ہے جبکہ بیرون ملک موجود سہولت کار آگے کا انتظام سنبھالتے ہیں، جس سے پورے نیٹ ورک تک پہنچنا تفتیشی اداروں کے لیے مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
آسٹریلیا جانے کے خواہش مند افراد کے لیے بھی مختلف راستوں کے استعمال کی اطلاعات ہیں۔ بعض افراد کو پہلے ملائیشیا یا تھائی لینڈ کا قانونی ویزا دلایا جاتا ہے اور وہاں پہنچنے کے بعد انہیں مبینہ طور پر انڈونیشیا منتقل کر کے سمندری راستے سے آسٹریلیا پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کئی ممالک سے گزرنے والا یہ نظام نہ صرف متاثرہ شخص کے لیے خطرات بڑھاتا ہے بلکہ اصل اسمگلر اور سہولت کار تک پہنچنے کے عمل کو بھی پیچیدہ بنا دیتا ہے۔
اس پورے نیٹ ورک کا سب سے تیزی سے تبدیل ہونے والا محاذ سوشل میڈیا بن چکا ہے۔ فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور دیگر پلیٹ فارموں پر بیرون ملک ملازمت، بھاری تنخواہ، مفت رہائش اور فوری ویزے کے اشتہارات کے ذریعے نوجوانوں کو متوجہ کیا جاتا ہے۔ بعض گروہ بظاہر حقیقی کمپنیوں کے نام، جعلی ملازمت کے معاہدے اور دیگر دستاویزات استعمال کرتے ہیں تاکہ متاثرہ شخص کو یقین دلایا جا سکے کہ اسے قانونی ملازمت کے لیے بیرون ملک بھیجا جا رہا ہے۔ رقم وصول کرنے کے بعد اسے ایسے راستے پر ڈال دیا جاتا ہے جہاں واپسی کے امکانات محدود ہو جاتے ہیں۔
اسمگلنگ نیٹ ورکس نے مالی لین دین کے طریقوں میں بھی تبدیلی کی ہے۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق بعض مقدمات میں کرپٹو کرنسی اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے رقوم کی منتقلی کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ اس سے تحقیقات کا دائرہ صرف ایجنٹ یا مسافر تک محدود نہیں رہتا بلکہ رقم کے منبع، ادائیگی کرنے والے، وصول کنندہ اور بیرون ملک موجود نیٹ ورک تک پھیل جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید انسانی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی میں مالی تفتیش بھی بنیادی اہمیت اختیار کر رہی ہے۔
مذہبی سفر کے راستے کے ممکنہ غلط استعمال نے بھی تفتیشی اداروں کے لیے ایک نیا سوال پیدا کیا ہے۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق بعض مسافروں کے سفری ریکارڈ اور موبائل فونز کی جانچ کے دوران ایسے شواہد سامنے آئے جن سے شبہ پیدا ہوا کہ عمرہ ویزے پر سعودی عرب جانے کا اصل مقصد کسی تیسرے ملک تک پہنچنا تھا۔ تاہم یہاں بھی کسی مخصوص سفری ریکارڈ یا ویزے کو محض شبہے کی بنیاد پر انسانی اسمگلنگ کا ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا؛ اصل معاملہ مجموعی شواہد اور تحقیقات سے طے ہوتا ہے۔
خواتین کو بیرون ملک ملازمت اور بہتر مستقبل کا جھانسہ دے کر منتقل کیے جانے اور بعد ازاں استحصال کا نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات بھی اس مسئلے کی سنگینی میں اضافہ کرتی ہیں۔ انسانی اسمگلنگ اور انسانی تجارت کے درمیان قانونی فرق بھی ایسے مقدمات میں اہم ہو جاتا ہے، کیونکہ بعض صورتوں میں متاثرہ شخص ابتدا میں اپنی مرضی سے سفر کرتا ہے لیکن منزل پر پہنچنے کے بعد اسے جبری مشقت، غیر قانونی سرگرمیوں یا دیگر استحصالی حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بدلتے ہوئے طریقۂ واردات نے ایف آئی اے کی تفتیشی حکمت عملی کو بھی وسیع کر دیا ہے۔ اب صرف ایئرپورٹ پر کسی مسافر کو روکنا کافی نہیں سمجھا جا رہا بلکہ ویزا تاریخ، سفری ریکارڈ، موبائل رابطوں، سوشل میڈیا سرگرمی، ٹریول ایجنٹ، مالی لین دین اور بیرون ملک رابطوں کو ایک ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت اور جدید اعداد و شمار کے نظام کے ذریعے ایسے غیر معمولی سفری نمونوں کی نشاندہی کی کوشش بھی کی جا رہی ہے جو عام مسافر کے سفر سے مختلف ہوں۔
یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انسانی اسمگلنگ اب صرف سرحدی راستوں اور جعلی سفری دستاویزات کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ ایک ایسا بین الاقوامی نیٹ ورک بن چکی ہے جس میں قانونی ویزا، سوشل میڈیا، جعلی ملازمتیں، متعدد ممالک کے ٹرانزٹ روٹس اور جدید مالی ٹیکنالوجی ایک دوسرے سے جڑ سکتے ہیں۔ اس لیے محض گرفتاریوں کے ذریعے مسئلے کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔ اصل چیلنج ان نیٹ ورکس کے مالی معاونین، بیرون ملک سہولت کاروں، جعلی دستاویزات تیار کرنے والوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے متاثرین تک پہنچنے والے عناصر تک پہنچنا ہے۔
عوام کے لیے بھی بنیادی احتیاط یہی ہے کہ بیرون ملک ملازمت، فوری ویزے، بھاری تنخواہ یا یورپ اور آسٹریلیا پہنچانے کے دعوے کرنے والے غیر معروف ایجنٹوں پر صرف سوشل میڈیا اشتہار یا زبانی یقین دہانی کی بنیاد پر اعتماد نہ کیا جائے۔ کیونکہ انسانی اسمگلروں کا نیا طریقہ یہی ہے کہ غیر قانونی منزل تک پہنچنے کا سفر بظاہر قانونی راستے سے شروع کیا جائے، تاکہ خطرہ اس وقت سامنے آئے جب متاثرہ شخص پہلے ہی ایسے نیٹ ورک کا حصہ بن چکا ہو جس سے نکلنا آسان نہیں رہتا۔
