اسلام آباد مارچ، سیکیورٹی اہلکار شرپسند یوتھیوں کی دھلائی کیسے کرینگے؟

اسلام آباد کی جانب تحریک انصاف کے احتجاجی مارچ کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی انتظامات غیر معمولی سطح تک بڑھا دیے گئے ہیں۔ وفاقی حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید آلات سے لیس کرنے کے ساتھ ساتھ گزشتہ احتجاجی واقعات کے مقابلے میں کہیں زیادہ نفری تعینات کی ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اس بار ریاستی اداروں نے ممکنہ ہجوم اور احتجاج سے نمٹنے کے لیے پہلے سے زیادہ وسیع انتظامات کیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں تقریباً 38000 قانون نافذ کرنے والے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ تحریک انصاف کے گزشتہ مارچ کے دوران یہ تعداد 20000 سے بھی کم تھی۔ ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق ماضی کے تجربات، بالخصوص 26 نومبر 2024 کے احتجاج اور 12 اکتوبر 2025 کو مریدکے میں ہونے والے تصادم سے حاصل ہونے والے تجربات کو موجودہ سکیورٹی حکمت عملی کی تشکیل میں مدنظر رکھا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ صرف نفری میں اضافہ نہیں کیا گیا بلکہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو جدید ترین آلات بھی فراہم کیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اہلکاروں کو گزشتہ مواقع کے مقابلے میں کارروائی کے حوالے سے زیادہ خودمختاری بھی دی گئی ہے، جس کا مقصد کسی بھی ممکنہ صورتحال سے فوری طور پر نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔

سکیورٹی نفری میں یہ نمایاں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت اسلام آباد میں احتجاج کے ممکنہ اثرات کو محدود رکھنے کے لیے وسیع پیمانے پر انتظامات کر رہی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ بڑے پیمانے پر تعیناتی اور اضافی اختیارات کے باوجود قانون نافذ کرنے والے ادارے احتجاج کے حق اور شہریوں کی نقل و حرکت کے درمیان توازن کس طرح برقرار رکھتے ہیں۔

گزشتہ احتجاجی واقعات میں ریاستی اداروں اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی کے باعث صورتحال کئی مرتبہ قابو سے باہر ہوئی، اس لیے موجودہ انتظامات میں حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج صرف دارالحکومت کی سکیورٹی برقرار رکھنا نہیں بلکہ ممکنہ تصادم سے بچنا بھی ہوگا۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب سیاسی مذاکرات، احتجاج اور وفاق و خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان اختلافات ایک دوسرے سے جڑ چکے ہیں۔

یوں اسلام آباد میں 38000 اہلکاروں کی تعیناتی محض ایک سکیورٹی انتظام نہیں بلکہ موجودہ سیاسی بحران کی شدت کا بھی اظہار ہے۔ حکومت ایک طرف احتجاج کو دارالحکومت کے معمولات متاثر کرنے سے روکنے کے لیے تیار دکھائی دیتی ہے، جبکہ دوسری طرف تحریک انصاف اپنے سیاسی مطالبات کے لیے احتجاجی دباؤ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ آنے والے گھنٹوں میں اصل امتحان یہی ہوگا کہ یہ غیر معمولی سکیورٹی تیاری کسی بڑے تصادم کا راستہ روکتی ہے یا سیاسی کشیدگی مزید بڑھ جاتی ہے۔

Back to top button