PTIاور حکومت کے مابین کامیاب ہوتے مفاہمتی معاہدے کو سبوتاژ کس نے کیا؟

حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان کئی ہفتوں سے جاری پس پردہ رابطوں کے بعد سیاسی محاذ آرائی ختم کرنے کی ایک اہم کوشش آخری مرحلے میں پہنچ کر دوبارہ خطرے میں پڑ گئی۔ روزنامہ جنگ سے وابستہ صحافی انصار عباسی کی ایک رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم نے دو روز کی بھرپور مشاورت کے بعد پانچ نکاتی مفاہمت طے کر لی تھی، جس کے تحت سیاسی رابطے بحال کرنے، عمران خان سے ڈاکٹروں، اہل خانہ اور وکلا کی ملاقاتوں کی اجازت، بعض بیمار اور پرانے قیدیوں کے معاملات پر قانونی دائرے میں ہمدردانہ غور، خیبرپختونخوا میں انسداد دہشت گردی کے لیے وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون اور احتجاج منسوخ کرنے جیسے معاملات شامل تھے۔ تاہم آخری مرحلے میں خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے دہشت گردی سے متعلق شق میں تبدیلی کے مطالبے نے پوری مفاہمت کو دوبارہ غیر یقینی بنا دیا۔

اس پیش رفت کا سب سے اہم پہلو پی ٹی آئی کی داخلی فیصلہ سازی کا سوال ہے۔ ایک طرف بیرسٹر گوہر اور وفاقی حکومت کے نمائندوں کے درمیان کئی ہفتوں سے رابطے جاری تھے، دوسری طرف جب مرکزی مذاکراتی ٹیم ایک قابل قبول فارمولے تک پہنچتی دکھائی دی تو خیبرپختونخوا حکومت کی طرف سے رات گئے ایک نئی تجویز سامنے آگئی۔ انصار عباسی کی رپورٹ کے مطابق یہ نیا نوٹ تقریباً رات 2 بجے بھیجا گیا اور اس میں دہشت گردی سے متعلق پہلے زیر بحث آچکی شق میں تبدیلی کا مطالبہ کیا گیا۔

یہیں سے پی ٹی آئی قیادت کے لیے اصل سیاسی سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر مرکزی مذاکراتی ٹیم کسی فارمولے پر اتفاق کر چکی تھی تو کیا اس اتفاق رائے سے خیبرپختونخوا کی حکومت بھی پوری طرح باخبر اور شریک تھی؟ اور اگر صوبائی حکومت کی رضامندی ضروری تھی تو اسے مذاکرات کے آخری مرحلے تک کیوں مؤثر طور پر شامل نہیں رکھا گیا؟ دوسری صورت میں اگر صوبائی حکومت پہلے ہی اپنے اعتراضات سے آگاہ کر چکی تھی تو مرکزی مذاکراتی ٹیم نے ان نکات کو حتمی مفاہمت میں کیسے شامل کر لیا؟ ان سوالات کے جوابات کے بغیر یہ تاثر ضرور پیدا ہوتا ہے کہ پارٹی کے مختلف مراکزِ فیصلہ سازی کے درمیان مکمل ہم آہنگی موجود نہیں۔

یہ صورت حال پی ٹی آئی کے لیے اس لیے بھی مشکل ہے کہ موجودہ تنازع محض سیاسی احتجاج کا نہیں بلکہ خیبرپختونخوا میں امن و امان اور انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ وفاقی حکومت کے مطابق صوبائی حکومت سے پولیس اور سکیورٹی کے اقدامات، دہشت گردی کے خلاف تعاون اور متعلقہ طریقۂ کار پر واضح یقین دہانی مطلوب تھی، جبکہ صوبائی حکومت ان تجاویز کی موجودہ شکل پر تحفظات رکھتی تھی۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کی جانب سے سامنے آنے والے سات نکاتی مسودے نے بھی مذاکرات کے اندر موجود اختلاف کو نمایاں کر دیا۔ سہیل آفریدی کے جاری کردہ مسودے میں وزیراعظم اور اپوزیشن رہنماؤں کی ملاقات، مشترکہ سیاسی مذاکراتی کمیٹی، عمران خان اور بشریٰ بی بی کے قانونی، انسانی اور طبی حقوق، قیدیوں کے معاملات، خیبرپختونخوا میں وفاق اور صوبے کے درمیان سکیورٹی مشاورت اور تحریری یقین دہانیوں کے بعد احتجاج ختم کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔

لیکن وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس مسودے کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مذاکراتی ٹیمیں اس سے مختلف مسودے پر پہلے ہی اتفاق کر چکی تھیں اور خیبرپختونخوا حکومت نے آخری مرحلے میں انسداد دہشت گردی سے متعلق وعدوں سے پیچھے ہٹ کر معاملہ پیچیدہ کیا۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت سے 72 گھنٹوں میں عملدرآمد کا منصوبہ اور سکیورٹی اقدامات سے متعلق یقین دہانی درکار تھی۔ یہ مؤقف حکومتی فریق کا ہے اور اس کے مقابلے میں سہیل آفریدی کا مؤقف یہ ہے کہ ان کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات آئین اور قانون کے دائرے میں تھے۔

یہاں پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کے لیے ایک سنجیدہ سیاسی سبق بھی موجود ہے۔ اگر ایک ہی جماعت کے اندر مذاکرات کرنے والی قیادت، صوبائی حکومت اور احتجاج کی قیادت تین مختلف سطحوں پر فیصلے کر رہی ہوں تو کسی بھی مفاہمت کو حتمی شکل دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ سیاسی جماعت میں اختلاف رائے فطری ہے، لیکن فیصلہ ہونے کے بعد ایک واضح اور مشترکہ حکمت عملی نہ ہو تو مذاکراتی عمل کمزور پڑ سکتا ہے۔

خاص طور پر اس وقت جب احتجاج کا اعلان بھی اسی جماعت کی جانب سے کیا گیا ہو اور حکومت سے اس احتجاج کو ختم کرنے کے عوض سیاسی و انتظامی اقدامات بھی مانگے جا رہے ہوں، تو پارٹی کو پہلے اپنے اندر یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ آخری فیصلہ کس فورم کا ہوگا۔ اگر مذاکراتی ٹیم کو مکمل اختیار حاصل ہے تو اسے اختیار استعمال کرنے دیا جائے؛ اگر صوبائی حکومت کی منظوری ناگزیر ہے تو اسے ابتدا ہی سے مذاکرات کے مرکزی عمل کا حصہ بنایا جائے۔ آخری وقت میں نئی شرائط سامنے آنے سے نہ صرف حکومت بلکہ خود پارٹی کے مذاکرات کار بھی مشکل پوزیشن میں آ جاتے ہیں۔

پی ٹی آئی کی حکمت عملی میں ایک اور تضاد بھی سامنے آتا ہے۔ پارٹی ایک طرف سیاسی مفاہمت، ملاقاتوں اور قیدیوں کے معاملات پر ریلیف چاہتی ہے، دوسری طرف احتجاج کو ختم کرنے کے لیے بھی پہلے سے طے شدہ یقین دہانیوں کو شرط بناتی ہے۔ یہ سیاسی سودے بازی اپنی جگہ ایک معمول کا عمل ہو سکتی ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ قیادت اپنے کارکنوں اور عوام کو واضح طور پر بتائے کہ احتجاج کا حتمی مقصد کیا ہے اور کس مرحلے پر مذاکراتی حل کو قبول کیا جائے گا۔

موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ اہم خیبرپختونخوا کا سکیورٹی معاملہ بن گیا ہے۔ صوبائی حکومت کے لیے یہ مؤقف اختیار کرنا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی آئین و قانون کے مطابق ہونی چاہیے، اپنی جگہ قابل فہم سیاسی مؤقف ہے، لیکن وفاقی حکومت کے لیے یہ سوال بھی اہم ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومت کی عملی ذمہ داریاں اور وفاق کے ساتھ تعاون کس واضح طریقہ کار کے تحت ہوگا۔ دونوں سوالات کو ایک دوسرے کی نفی کے طور پر دیکھنے کے بجائے آئینی اور انتظامی حدود کے اندر حل کرنا مذاکرات کا اصل مقصد ہونا چاہیے۔

اس پورے معاملے میں بیرسٹر گوہر اور محسن نقوی کے درمیان ہونے والے رابطے ایک اہم پہلو ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دونوں کے درمیان متعدد ملاقاتیں ہوئیں اور انہی رابطوں کے نتیجے میں حکومت اور پی ٹی آئی کو مذاکرات کی میز پر لانے اور پانچ نکاتی مفاہمت تک پہنچنے میں پیش رفت ہوئی۔ اگر یہ مفاہمت واقعی آخری مرحلے تک پہنچ چکی تھی تو اس کا دوبارہ خطرے میں پڑ جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ صرف حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان اختلاف کا نہیں بلکہ خود پی ٹی آئی کے اندر مختلف سطحوں پر پالیسی کے اتفاق کا بھی ہے۔

اب پی ٹی آئی کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ احتجاج اور مذاکرات میں سے کسی ایک کو فوری طور پر منتخب کرنے کے بجائے پہلے اپنی اندرونی فیصلہ سازی واضح کرے۔ اگر مرکزی قیادت مذاکراتی حل چاہتی ہے تو صوبائی حکومت کو بھی اسی فارمولے کا حصہ بنانا ہوگا، اور اگر صوبائی قیادت کسی بنیادی نکتے پر اتفاق نہیں کرتی تو مرکزی مذاکراتی ٹیم کو اس اختلاف کا سامنا مذاکرات کے آخری گھنٹے میں نہیں بلکہ ابتدا ہی میں کرنا چاہیے۔

دوسری طرف حکومت کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ ان نکات کو واضح کرے جن پر حقیقی معاہدہ ممکن ہے اور ان معاملات کو الگ رکھے جو عدالتی یا آئینی حدود سے باہر ہیں۔ عمران خان سے ملاقات، قیدیوں کے قانونی معاملات اور سیاسی رابطوں جیسے معاملات پر واضح طریقۂ کار بنایا جا سکتا ہے، جبکہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی بھی آئینی دائرے میں طے کی جا سکتی ہے۔

یوں پانچ نکاتی مفاہمت کا بحران محض ایک ناکام مذاکراتی کوشش نہیں بلکہ پی ٹی آئی کی اندرونی سیاسی ساخت کے لیے بھی ایک امتحان بن گیا ہے۔ اگر ایک طرف مرکزی قیادت حکومت سے مفاہمت کی طرف بڑھ رہی ہو اور دوسری طرف صوبائی حکومت آخری وقت میں اسی فارمولے کے بنیادی حصے پر اعتراض اٹھا دے تو پارٹی کے اندر اختیار، مشاورت اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار پر سوال اٹھنا ناگزیر ہے۔

بالآخر سیاسی جماعتوں کے لیے اصل کامیابی صرف کارکنوں کو سڑکوں پر نکالنے میں نہیں بلکہ اپنے سیاسی مطالبات کو مذاکرات کی میز پر قابل عمل معاہدے میں تبدیل کرنے میں ہوتی ہے۔ پی ٹی آئی کے سامنے اب یہی امتحان ہے کہ وہ احتجاج کو اپنی سیاست کا واحد ذریعہ بناتی ہے یا مذاکرات، پارلیمانی سیاست اور صوبائی حکمرانی کو ایک مربوط حکمت عملی میں تبدیل کرتی ہے۔ موجودہ بحران نے کم از کم یہ واضح کر دیا ہے کہ حکومت سے اختلاف اپنی جگہ، لیکن کسی بھی مفاہمت کے لیے سب سے پہلے خود جماعت کے اندر واضح اور متفقہ فیصلہ سازی ضروری ہے۔

Back to top button