حکومت اور پی ٹی آئی محاذ آرائی ختم کرنے کا طریقہ کیا ہے؟

حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہونے اور اسلام آباد مارچ شروع ہونے کے بعد سیاسی بحران مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔ ایسے میں سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ وہ بانی تحریک انصاف عمران خان سے بیرسٹر گوہر کی ملاقات کرا دے تاکہ براہ راست سیاسی رابطے کے ذریعے موجودہ تعطل توڑنے کی کوئی گنجائش پیدا کی جا سکے۔ ان کے مطابق اگر عمران خان سے ملاقات کے بعد بیرسٹر گوہر اور ان کے خاندان کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کا مؤقف سامنے آتا ہے تو مذاکرات کو دوبارہ آگے بڑھانے کا راستہ نکل سکتا ہے۔
نجم سیٹھی کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی کے اس مؤقف کے بعد کہ لانگ مارچ شروع ہونے کے باعث مذاکرات ختم ہو گئے ہیں، حکومت اور تحریک انصاف دونوں ایک مشکل صورتحال میں داخل ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عمران خان سے براہ راست ملاقات کرانے پر تیار نہیں، تاہم اگر بیرسٹر گوہر کو عمران خان سے ملنے کی اجازت دے دی جائے تو یہ سیاسی رابطے کے لیے ایک متبادل راستہ بن سکتا ہے۔
سیٹھی نے اس امکان کی طرف بھی اشارہ کیا کہ اگر حکومت خیبرپختونخوا میں غیر معمولی آئینی اقدام کی طرف بڑھتی ہے تو اس کے نتیجے میں صوبائی حکومت اور اسمبلی کے اختیارات متاثر ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسی صورت میں انتظامی سطح پر بھی بڑے فیصلے درکار ہوں گے۔ تاہم یہ ان کا تجزیہ ہے اور کسی آئینی اقدام کا حتمی فیصلہ متعلقہ آئینی شرائط اور حکومتی فیصلے سے ہی ہوگا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اجتماعات اور سیاسی سرگرمیوں پر مزید پابندیاں صورتحال کو بہتر بنانے کے بجائے سیاسی کشیدگی میں اضافہ کر سکتی ہیں۔ ان کے مطابق اگر خیبرپختونخوا حکومت کو ختم کیا جاتا ہے تو صوبے کے انتظامی معاملات براہ راست وفاق کے زیر انتظام آنے کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے، جس کے سیاسی اثرات بھی ہوں گے۔
نجم سیٹھی نے تحریک انصاف کی اندرونی قیادت اور فیصلہ سازی پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کے مطابق پارٹی میں اس وقت ایسا کوئی مؤثر رہنما نظر نہیں آتا جو عمران خان کو موجودہ تصادم سے پیچھے ہٹنے اور سیاسی حل کی طرف آنے پر آمادہ کر سکے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے حوالے سے بھی سیاسی تبدیلی کو موجودہ حکمت عملی سے جوڑا، تاہم یہ ان کی سیاسی رائے ہے، کوئی ثابت شدہ حقیقت نہیں۔
سیٹھی کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں نہ حکومت اور نہ تحریک انصاف پیچھے ہٹنے کو تیار دکھائی دیتی ہے، جبکہ دونوں جانب سے کسی بھی پسپائی کو سیاسی کمزوری کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہی سوچ بحران کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے اور دونوں فریقوں کے لیے بہتر راستہ یہی ہے کہ کسی نہ کسی سطح پر قابل قبول سمجھوتے کی تلاش کی جائے۔
اس تجزیے کا اہم پہلو یہ ہے کہ موجودہ بحران میں براہ راست رابطے کا فقدان مذاکرات کی بحالی میں ایک بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔ اگر حکومت عمران خان سے بیرسٹر گوہر کی ملاقات کی اجازت دیتی ہے تو اس سے تحریک انصاف کے اندر موجود مختلف مؤقف کو ایک جگہ لانے میں مدد مل سکتی ہے، لیکن یہ بھی ضروری ہوگا کہ ملاقات کو کسی سیاسی معاہدے کی ضمانت سمجھنے کے بجائے صرف رابطے کے ایک ذریعے کے طور پر دیکھا جائے۔
دوسری طرف حکومت کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ سیاسی مذاکرات، اسلام آباد میں امن و امان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی کو ایک دوسرے سے کیسے جوڑتی ہے۔ تحریک انصاف کے لیے بھی سوال کم اہم نہیں کہ وہ احتجاجی دباؤ برقرار رکھتے ہوئے مذاکرات کی گنجائش کس حد تک قائم رکھ سکتی ہے۔
موجودہ صورتحال میں بحران کا حل محض طاقت کے استعمال یا احتجاجی دباؤ میں نظر نہیں آتا۔ اگر دونوں فریق واقعی ڈیڈلاک ختم کرنا چاہتے ہیں تو سیاسی رابطوں کے تمام ممکنہ راستے کھلے رکھنا ہوں گے۔ عمران خان سے بیرسٹر گوہر کی ملاقات، اگر حکومت اس کی اجازت دیتی ہے، ایسے ہی ایک رابطے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ تاہم حتمی پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ملاقات کے بعد فریقین اپنے بنیادی مؤقف میں کتنی عملی گنجائش پیدا کرتے ہیں۔
