حکومت،PTI ڈیڈلاک، کیا دوبارہ مذاکرات کی شروعات ممکن ہے؟

حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکراتی عمل میں پیدا ہونے والا ڈیڈلاک بظاہر ایک بڑے سیاسی تصادم کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے، لیکن موجودہ صورتحال میں مذاکرات کا راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا فریقین آخری مرحلے پر پیدا ہونے والے اختلافات کو دور کرکے دوبارہ بات چیت کی میز پر آ سکتے ہیں یا خیبرپختونخوا حکومت، وفاق اور تحریک انصاف کے درمیان سیاسی و سکیورٹی اختلافات اس بحران کو مزید گہرا کر دیں گے۔ موجودہ صورتحال میں ایک طرف اسلام آباد مارچ روکنے کے لیے حکومت کے سخت اقدامات سامنے آ رہے ہیں تو دوسری طرف سیاسی مذاکرات کے ذریعے کسی قابل قبول سمجھوتے کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔
مذاکرات کی بنیادی بنیاد ہی یہ تھی کہ وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں، صوبے میں امن و امان بہتر بنایا جائے اور اس کے ساتھ تحریک انصاف کے سیاسی و انسانی حقوق سے متعلق مطالبات پر بھی پیش رفت کی جائے۔ اطلاعات کے مطابق مذاکراتی ٹیمیں کئی اہم نکات پر اتفاق کے قریب پہنچ گئی تھیں، لیکن آخری مرحلے میں خیبرپختونخوا حکومت کے تحفظات اور بعض سیاسی شرائط نے پورے عمل کو دوبارہ تعطل کا شکار کر دیا۔
یہاں سب سے اہم سوال صوبائی حکومت کے کردار کا ہے۔ وفاقی مؤقف کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی سے متعلق طے شدہ نکات پر اعتراضات اٹھائے، جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ بعض تجاویز صوبے کے لیے قابل قبول نہیں۔ اس اختلاف نے صرف مذاکراتی عمل کو متاثر نہیں کیا بلکہ تحریک انصاف کے اندر فیصلہ سازی کے طریقہ کار پر بھی سوالات پیدا کیے ہیں کہ ایک طرف مرکزی قیادت مذاکرات کے ذریعے کسی سمجھوتے کے قریب پہنچتی ہے اور دوسری طرف صوبائی حکومت اسی سمجھوتے کے اہم حصے پر تحفظات ظاہر کرتی ہے تو حتمی فیصلہ کس سطح پر ہوگا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق مذاکرات میں پیدا ہونے والے ڈیڈلاک کی ایک بڑی وجہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا مؤقف تھا۔ تاہم یہ ایک حکومتی مؤقف ہے اور اس معاملے میں صوبائی حکومت کا مؤقف بھی اہم ہے۔ سیاسی مذاکرات میں کسی فریق کی جانب سے اعتراض اٹھانا بذات خود مذاکرات کی ناکامی نہیں ہوتا، اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا اختلافات کو معاہدے سے پہلے حل کیا جا سکتا ہے یا آخری مرحلے پر نئی شرائط پورے عمل کو دوبارہ ابتدا کی طرف لے جاتی ہیں۔
دوسری جانب حکومت کے لیے مسئلہ صرف سیاسی احتجاج نہیں بلکہ خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورتحال بھی ہے۔ وفاق کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں صوبائی حکومت کا تعاون ضروری ہے، جبکہ تحریک انصاف سیاسی معاملات، بانی پی ٹی آئی تک رسائی، ملاقاتوں اور طبی سہولیات جیسے مطالبات کو بھی مذاکرات کا اہم حصہ قرار دے رہی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں دونوں فریقوں کے مؤقف ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ حکومت دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو سیاسی مذاکرات سے الگ رکھنا چاہتی ہے، جبکہ تحریک انصاف ان معاملات کو ایک وسیع سیاسی سمجھوتے کا حصہ بنانا چاہتی ہے۔
یہ فرق موجودہ بحران کی بنیادی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر دہشت گردی کے خلاف ریاستی پالیسی اور سیاسی مطالبات ایک ہی مذاکراتی پیکیج میں شامل ہوں تو ایک نکتے پر اختلاف پورے سمجھوتے کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر دونوں معاملات کو الگ الگ ٹریک پر آگے بڑھایا جائے تو سیاسی ریلیف اور سکیورٹی تعاون کے درمیان سمجھوتے کی گنجائش نسبتاً بڑھ سکتی ہے۔
اسلام آباد مارچ کے معاملے پر حکومت کا مؤقف بھی واضح ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت نے دارالحکومت میں ایسا احتجاج قبول نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے جس سے اہم شاہراہیں، سرکاری امور یا شہری زندگی متاثر ہو۔ دوسری جانب تحریک انصاف احتجاج کو اپنے سیاسی مطالبات کے لیے دباؤ کے ذریعے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ اس صورتحال میں اگر مذاکرات دوبارہ شروع بھی ہوتے ہیں تو ان کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ فریقین احتجاج اور مذاکرات کو ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر دیکھتے ہیں یا دونوں راستوں کو ایک ساتھ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
وزیر داخلہ کا پشاور کا دورہ اور گورنر خیبرپختونخوا سے ملاقات بھی اسی وسیع تر سیاسی و انتظامی صورتحال میں اہم ہے۔ اگر وفاق اور صوبے کے درمیان دہشت گردی کے خلاف تعاون پر کوئی قابل عمل فارمولا طے ہو جاتا ہے تو اس سے سیاسی کشیدگی کم کرنے کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔ لیکن اگر صوبائی حکومت اور وفاق اپنے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہیں تو آئینی اقدامات، سکیورٹی کارروائیوں اور سیاسی احتجاج کی بحث مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔
موجودہ ڈیڈلاک کو حتمی مذاکراتی ناکامی سمجھنا شاید قبل از وقت ہوگا۔ پاکستان کی سیاست میں ایسے کئی مواقع آ چکے ہیں جب مذاکرات آخری مرحلے پر تعطل کا شکار ہوئے اور پھر نئے رابطوں کے ذریعے دوبارہ شروع ہوئے۔ اس لیے اگلے چند دن اہم ہیں۔ تاہم اس مرتبہ اصل امتحان صرف یہ نہیں کہ مذاکرات دوبارہ شروع ہوتے ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ فریقین اپنے بنیادی مطالبات میں کتنی گنجائش پیدا کرتے ہیں۔
تحریک انصاف کے لیے بھی بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا سیاسی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کو مذاکراتی عمل کے ساتھ قابل عمل انداز میں جوڑا جا سکتا ہے، جبکہ وفاق کے لیے چیلنج یہ ہے کہ سکیورٹی اور ریاستی رٹ سے متعلق اپنے مؤقف کے ساتھ سیاسی حل کی گنجائش کیسے برقرار رکھی جائے۔ خیبرپختونخوا حکومت کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ وہ صوبائی خودمختاری، سیاسی وابستگی اور دہشت گردی کے خلاف وفاقی تعاون کے درمیان توازن کس طرح قائم کرتی ہے۔
یوں موجودہ ڈیڈلاک کو محض مذاکرات کی ناکامی کے بجائے ایک بڑے سیاسی بحران کے اگلے مرحلے کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔ مذاکرات کا دروازہ ابھی بند نہیں ہوا، لیکن اسے دوبارہ کھولنے کے لیے صرف رابطے کافی نہیں ہوں گے؛ فریقین کو اپنے مؤقف میں ایسی عملی گنجائش پیدا کرنا ہوگی جس سے سیاسی مطالبات اور قومی سلامتی سے متعلق معاملات کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے کے بجائے ایک قابل عمل سمجھوتے میں تبدیل کیا جا سکے۔ آنے والے چند روز اس بات کا تعین کریں گے کہ موجودہ تعطل عارضی وقفہ ثابت ہوتا ہے یا حکومت، تحریک انصاف اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان اختلافات ایک نئے اور زیادہ پیچیدہ سیاسی مرحلے میں داخل ہو جاتے ہیں۔
