حکومت کے پی ٹی آئی سے 7 مطالبات کیا تھے؟ وفاقی وزیر نے بتادیا

وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت سے مذاکرات کےلیے پی ٹی آئی وفد کے پاس مکمل فیصلہ سازی کا اختیار نہیں تھا، حکومتی وفد نے دہشت گردی کے خاتمے کےلیے پی ٹی آئی کے سامنے سات مطالبات رکھے اور سوال کیا کہ ان میں سے کون سا مطالبہ غیرآئینی یا ناقابلِ عمل ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کاکہنا تھاکہ حکومت کا پہلا مطالبہ کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گردوں کی مذمت کرنا تھا، جب کہ دوسرا مطالبہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کے تمام ٹھکانوں کا مکمل خاتمہ تھا۔تیسرے مطالبے کا تعلق افغانستان سے متعلق طے شدہ خارجہ پالیسی پر عملدرآمد سےتھا، جب کہ چوتھا مطالبہ افغان مہاجرین کی واپسی سے متعلق تھا۔
انہوں نے بتایا کہ پانچویں مطالبےمیں خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ پر نظرثانی، چھٹے میں دہشت گردوں کےخلاف کارروائیوں کے دوران مسلح افواج کے ساتھ تعاون اور ساتویں مطالبے میں نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عملدرآمد شامل تھا۔
پی ٹی آئی سیاست کی آڑ میں سکیورٹی معاملات پر سنجیدہ نہیں: طلال چوہدری
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی کے وفد کے پاس مکمل فیصلہ سازی کا مینڈیٹ موجود نہیں تھا،جب کہ مذاکرات کا بنیادی مقصد لانگ مارچ رکوانا نہیں بلکہ دہشت گردی کا خاتمہ تھا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ مذاکرات میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی یا صوبائی حکومت کا کوئی نمائندہ شریک ہوتا تو معاملات زیادہ بہتر انداز میں آگے بڑھ سکتے تھے،لانگ مارچ نہ پہلے حکومت کےلیے درد سر تھا اور نہ اب ہے۔
