لوڈشیڈنگ : پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی اپنی حکومت پر ہی برس پڑے

حکومت کو قومی اسمبلی میں اس وقت سبکی کا سامنا ہوا جب ملک کے مختلف حصوں خصوصاً صوبہ خیبر پختونخوا میں لوڈشیڈنگ کے معاملے پر ان کے اپنے ہی اراکین قومی اسمبلی کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
معاملہ اس وقت زیربحث آیا جب خیبرپختونخوا سے ٹی آئی کے 4 اراکین نے توجہ دلاؤ نوٹس میں وزیر توانائی حماد اظہر کو مخاطب کیا۔ نوٹس میں خیبرپختونخوا میںٹرانسفارمرز اور دیگر بجلی کے سامان کی کمی کے نتیجے میں لوڈشیڈنگ کا تذکرہ کیا گیا جس کے باعث صوبے کے عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ نوٹس مالاکنڈ کے جنید اکبر خان، نوشہرہ سے عمران خٹک، بونیر سے شیر اکبر خان اور باجوڑ سے گل ظفر خان نے پیش کیا۔جب نوٹس پیش کرنے والوں نے اپنے اپنے حلقوں میں لوڈشیڈنگ کے بارے میں بات کی تو اس دوران پشاور سے تعلق رکھنے والے ایم این اے نور عالم خان نے نہ صرف لوڈشیڈنگ بلکہ قیمتوں میں اضافے کے معاملے پر بھی حکومت کو مورد الزام ٹھہرایا۔ وزیر اعظم عمران خان کی تقریر کے دوران حزب اختلاف کے اراکین قومی اسمبلی ڈسک بجاتے رہے جس سے وزیر توانائی حماد اظہر ناراض ہوگئے۔ وزیر نے ایم این اے کو جواب دیتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے گیلریوں کے لیے تقریر کی ہے۔پشاور سے تعلق رکھنے والے ایم این اے نے بتایا کہ وزیر کے پاس صحیح معلومات نہیں ہیں کیوں کہ ان کی وزارت اور بجلی کمپنیوں کے عہدیداروں نے انہیں غلط معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک جانب حکومت لوگوں سے فی یونٹ 34 روپے وصول کررہی ہے اور دوسری طرف لوگوں کو بجلی نہیں مل رہی ہے۔ پشاور سے تعلق رکھنے والے ایم این اے نے بجلی کی کمپنیوں کے عہدیداروں کو مفت بجلی فراہم کرنے کی پالیسی پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے بجلی کے شعبے میں آسامیاں خالی نہ کرنے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ وزیر اعظم عمران خان کی تقریر کے جواب میں وزیر توانائی اظہر نے ہمیشہ کی طرح سابقہ حکومتوں کو ملک کی موجودہ صورت حال کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت پچھلی حکومتوں کے غلط کاموں کےلیے ذمہ دار نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک میں لوڈشیڈنگ کے مسئلے کو حل کرنے کےلیے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے انفراسٹرکچر پر کوئی رقم نہیں لگائی۔ حماد اظہر نے کہا کہ گزشتہ 10 برس کے دوران بجلی کے شعبوں میں مہنگے معاہدوں پر دستخط ہوئے اور پی ٹی آئی حکومت کو ان سے دوبارہ بات چیت کرنی پڑی۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ سابقہ حکومتوں نے سیاسی تقرریاں کیں۔ حماد اظہر نے کہا کہ حکومت ٹرانسمیشن سسٹم کو بہتر بنانے کےلیے پرعزم ہے۔ حماد اظہر نے کہا کہ پاکستان کو 2023 میں 50 فیصد اضافی بجلی حاصل ہوگی لیکن مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں کے مہنگے معاہدوں کی وجہ سے ملک کو سالانہ 1500 ارب روپے ادا کرنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 30 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرسکتا ہے لیکن ٹرانسمیشن سسٹم مشکل سے 24 ہزار میگاواٹ بجلی فراہم کرسکتا ہے۔ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے حماد اظہر نے کہا کہ وفاقی حکومت کراچی کے رہائشیوں کی تکالیف محسوس کرتی ہے اس لیے کے الیکٹرک کو 550 میگاواٹ اضافی فراہمی فراہم کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کو 350 میگاواٹ سپلائی کی جارہی ہے جب کہ کے الیکٹرک حکومت کی اربوں روپےکی مقروض ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے ‘جھوٹے’ کے نعروں کی گونج کے درمیان حماد اظہر نے کہا کہ کراچی میں بجلی کی صورت حال بتدریج بہتر ہورہی ہے۔
یاد رہے کہ شہر قائد کراچی میں بجلی کا بحران جاری ہے، بجلی کی طویل بندش سے شہری پریشان جب کہ مختلف علاقوں میں 9 سے 12 گھنٹوں کےلیے بجلی بندکی جا رہی ہے۔ کراچی میں بجلی کی بندش سے مستثنیٰ علاقوں میں بھی 3 سے 6 گھنٹوں کےلیے بجلی کی بندش جاری ہے۔ صارفین کے مطابق مرمت اور مقامی فالٹس کے نام پر لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے، ایف بی ایریا کے مختلف بلاکس میں صبح 10 بجے سے بجلی کی فراہمی معطل ہے جب کہ گلشن اقبال، منصور نگر اور اورنگی میں بھی طویل لوڈ شیڈنگ سے شہری پریشان ہیں۔ گلشن معمار، اورنگی ٹاؤن، گلستان جوہر، پاک کالونی، نارتھ ناظم آباد، ناظم آباد اور نارتھ کراچی میں بھی کئی گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔ کراچی کے علاقے ملیر، قائد آباد، سہراب گوٹھ، گارڈن، لیاری اور کھارادر میں بھی لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔ دوسری جانب ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ شہر میں بجلی کی فراہمی بلا تعطل جاری ہے، فنی خرابی کو دور کرنے کے لیے کے الیکٹرک کا عملہ کام کر رہا ہے۔
