مالی سال 18-2017 میں غفلت کے باعث 423 ارب روپے ضائع ہوئے

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں سیکریٹری خزانہ نوید کامران بلوچ اراکین کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مختلف وزارتوں کی جانب سے خرچ نہ ہونے والی رقم بروقت واپس نہ کرنے کے باعث مالی سال 18-2017 4 سو 23 ارب روپے ضائع ہوگئے۔
سیکریٹری خزانہ نے کہا کہ ضائع ہونے والی رقم کا بڑا حصہ 2 سو 66 ارب 30 کروڑ روپے کے ترقیاتی بجٹ، 53 ارب روپے کرنٹ اور 92 ارب روپے چارجڈ بجٹ پر مشتمل تھے۔ ترقیاتی بجٹ کا تعلق وفاقی پبلک سیکٹر ترقیاتی پروگرامز، صوبوں کو ترقیاتی قرضے اور گرانٹس اور دیگر ترقیاتی اخراجات سے ہے جبکہ کرنٹ بجٹ سود کی ادائیگی، پینشن، دفاعی خدمات، گرانٹس اور منتقلیوں، سبسڈیز اور سول حکومت چلانے کےلیے ہے۔ اس کے علاوہ چارجڈ اخراجات پارلیمنٹ میں جمع نہیں کروائے گئے۔
وزارت خزانہ کی بریفنگ کے مطابق پینے کے صاف پانی کے لیے مختص 12 ارب 50 کروڑ روپے بھی استعمال میں نہیں لائے گئے تھے۔
نوید کامران بلوچ نے کہا کہ رواں سال کے لیے ریونیو ہدف میں 7 سو ارب سے 8 سو ارب روپے کمی ہوگی لیکن امید کا اظہار کیا کہ سال کی آخری سہ ماہی میں صورتحال میں تھوڑی بہتری آسکتی ہے۔
پی اے سی اراکین سردار ایاز صادق اور خواجہ آصف نے سیکریٹری خزانہ کے دعوے کو مسترد کردیا اور کہا کہ سال کی آخری سہ ماہی میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ریونیو وصولی بہتر بنانے کے لیے تاجروں کو پیشگی ٹیکس ادا کرنے کا کہا تھا۔ سیکریٹری خزانہ نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو اس حوالے سے چیئرمین ایف بی آر سے بریفنگ لینے کی تجویز دی۔
اسی طرح جب کمیٹی نے مانیٹری پالیسی اور شرح سود سے متعلق پوچھا تو نوید کامران بلوچ نے کہا کہ اس معاملے پر بریفنگ کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر یا ڈپٹی گورنر سے بریفنگ دینے کا کہا جانا چاہیے۔
بعدازاں پی اے سی نے آئندہ ماہ ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک کے عہدیداران کو اجلاس میں بلانے کا فیصلہ کرلیا۔
نوید کامران بلوچ نے کہا کہ 29 کھرب روپے قرض کے لیے مختص کیے گئے تھے جس کے باعث ترقیاتی منصوبوں کے لیے تھوڑی گنجائش موجود تھی۔
چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی رانا تنویر حسین نے غور و فکر کے بعد آخر کار فیصلہ سنایا کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے پی جی) پاکستان انجینئرنگ کونسل (پی ای سی) کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کرسکتے ہیں۔
تاہم پی ای سی نے اے جی پی کے دائرہ اختیار کو چیلنج کردیا تھا کہ کونسل کے قانون کے تحت وہ اپنے اکاؤنٹس چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرم سے آڈٹ کرواسکتے ہیں۔
پی ای سی نے زور دیا چونکہ انہوں نے کبھی سرکاری خزانے سے کوئی گرانٹ نہیں لی لہذا وہ اے جی پی کے دائرہ کار میں نہیں آتے۔
