مذاکرات منسوخی، ٹرمپ گروپ کی شکست

امریکہ اورطالبان کے درمیان جاری مذاکرات منسوخ ہوتے ہی اشرف غنی کا جانا بھی ٹھہر گیا ہے۔طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے سلسلے میں امریکہ میں دو گروپ متحرک تھے، ٹرمپ گروپ ہر صورت میں افغانستان سے انخلا چاہتا تھا جبکہ دوسرے گروپ کی ترجمانی پ ظاہر پینٹاگون گروپ کی جیت اور ٹرمپ گروپ کی شکست دکھائی دیتی ہے۔
امریکہ طالبان مذاکرات میں پاکستان کا کردار بھی نہایت اہم رہا۔اگرچہ دیگر ممالک بھی مؤثر کردار ادا کرتے آئے ہیں مگر اس کا زیادہ کریڈٹ پاکستان کو جاتا ہے۔ اس ساری صورت حال میں جب مذاکرات کامیاب ہو جائیں اور امریکی افواج افغانستان سے چلی جاتی ہیں تو موجودہ صدر اشرف غنی کا کیا بنے گا ؟کیونکہ امریکہ نے مذاکرات تو اس کے دشمن سے کیے تھے۔لہٰذا اشرف غنی کے پاس بھی افغانستان چھوڑنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچے گا۔اسی حوالے یا سلوک کریں گے ووہ تاریخ کا حصہ بنے گا۔اسی لیے اشرف غنی کی شدید خواہش ہے کہ افغٖانستان کے الیکشن امریکہ کی موجودگی میں ہوں اور وہ یہاں سے کبھی نہ جائیں اور اب اشرف غنی کی دعائیں رنگ لے آئیں اور امن مذاکرات منسوخ ہونے سے ان کا جانا بھی ٹھہر گیا ہے۔
