مفاہمت کے بادشاہ آصف زرداری کیا مزاحمت کے موڈ میں ہیں؟

سابق صدر اور حزبِ اختلاف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری طویل عرصے بعد سیاسی محاذ پر دوبارہ سرگرم ہو گئے ہیں خصوصا بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کی جانب سے حکومت کا ساتھ چھوڑ جانے کے بعد ان کے دوسری سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کے ساتھ رابطوں میں تیزی آگئی ہے۔
آصف زرداری کی طرف سے جہاں مختلف سیاسی رہنماؤں سے ٹیلیفونک رابطوں کا سلسلہ جاری ہے وہیں ان کے بیانات میں بھی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ آصف زرداری ایسے وقت میں سیاسی منظر نامے پر متحرک ہوئے ہیں جب حال ہی میں بلوچستان نیشنل پارٹی حکمراں اتحاد سے الگ ہو گئی ہے اور حکومتی وزرا کے مابین اختلافات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ آصف زرداری نے بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل سے ٹیلی فون پر گفتگو کر کے اُنہیں اپوزیشن اتحاد میں شمولیت کی دعوت بھی دے دی ہے۔ ان کی طرف سے جہاں مختلف سیاسی جماعتوں سے رابطے مضبوط کئے جا رہے ہیں وہیں پیپلز پارٹی کی تنظیم سازی کو ملک بھر میں پھیلانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ سابق صدر کی طرف سے پنجاب میں پارٹی کو مضبوط بنانے کا ٹاسک پیپلزپارٹی پنجاب کے صدرقمرزمان کائرہ اور سیکرٹری جنرل چوہدری منظور کے سپرد کیا گیا ہے۔ پارٹی کے دونوں مرکزی رہنماوں سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے سابق صدر نے صوبے بھر کے جیالوں کو متحرک کرنے کا ٹاسک ان کے سپرد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کارکنان کو متحرک کیا جائے اور انھیں بتائیں کہ گھبرائیں نہیں جلد اچھا وقت آنے والا ہے۔۔
سیاسی جوڑ توڑ اور مفاہمت کے بادشاہ سمجھے جانے والے آصف زرداری کے سیاست میں دوبارہ فعال ہونے کو پاکستان کے سیاسی اور صحافتی حلقے اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آصف زرداری حکمراں اتحاد میں پڑنے والی دراڑ اور حکومت کے اندر اختلافات سے سیاسی فائدہ اُٹھانا چاہتے ہیں کیونکہ سیاست میں مخالف کی کمزوری سے فائدہ اٹھانے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جاتا۔ جہاں کچھ اتحادی حکومت سے علیحدہ ہو رہے ہیں تو بعض علیحدہ ہونے کی دھمکیاں دے رہے ہیں ایسے میں آصف زرداری نے ماضی میں بھی اپنی مفاہمتی سیاست سے فائدہ اٹھایا اور اب بھی حکومت کو کمزور کرنے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے بالخصوص جب ان کے خلاف جعلی اکاؤنٹس کیس میں فرد جرم بھی عائد کی جانے والی ہے۔
تاہم پیپلز پارٹی رہنماوں کا کہنا ہے کہ یہ تاثر درست نہیں کہ آصف زرداری حکومت کی کمزوریوں سے فائدہ اُٹھانے کے لیے دوبارہ متحرک ہوئے ہیں۔ اُن کے بقول سابق صدر کی صحت بہتر نہیں تھی اب وہ بہتر ہیں تو پارٹی رہنماؤں سے رابطے کر رہے ہیں۔ آصف علی زرداری عملی سیاست میں فعال نہیں ہو رہے کیوںکہ اُن کا پارٹی میں کردار مشاورتی ہے اور چیئرمین بلاول بھٹو ہی پارٹی کی قیادت کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی رہنماؤں کا مزید کہنا ہے کہ آصف زرداری کراچی میں صرف اپنی رہائش گاہ کے کمرے تک محدود ہیں اور وہ اپنے بچوں سے بھی نہیں ملتے جس کی بنیادی وجہ کرونا وائرس سے بچاؤ کی تدبیر ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کامزید کہنا ہے کہ دو سال قبل آصف زرداری نے کہا تھا کہ موجودہ حکومت اپنے وزن سے گر جائے گی اور آج حکومت اپنی ہی وزن سے گر رہی ہے۔ اس بات کی تصدیق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں بھی کی ہے جس میں ان خا کہنا تھا کہ وفاقی وزرا اور پارٹی رہنماؤں کے باہمی اختلافات کے باعث حکومتی کارکردگی متاثر ہورہی ہے۔ فواد چوہدری کے اس بیان کے بعد حکومتی وزراء کی آپسی جنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور شاہ محمود قریشی اور اسد عمر نے وزیراعظم عمران خان سے فواد چوہدری کو کابینہ سے برخاست کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔
دوسری طرف بلاول بھٹو کے ترجمان سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی صفوں میں بغاوت شروع ہو چکی ہے اور بجٹ کی منظوری سے قبل حکومتی صفوں میں جھگڑے حکومت کے خاتمے کا آغاز ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ذرائع ابلاغ اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر سابق صدر آصف زرداری کی تشویش ناک حالت اور صحت سے متعلق کافی خبریں گردش کرتی رہی ہیں۔ والد کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں پرپیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کی صحت سے متعلق افواہیں تحریک انصاف پھیلا رہی ہے۔
تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آصف علی زرداری کی صحت سے متعلق آنے والی خبریں نہ خوش کن تھیں نہ حیران کن اور طویل عرصے سے علالت کے سبب یہ سمجھا جارہا تھا کہ وہ اب سیاست میں فعال نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سابق صدر کے حالیہ بیانات اور سیاسی رہنماؤں سے رابطوں کے نتیجے میں یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ وہ صحت مند ہیں۔ سیاست میں دلچسپی بھی ہے اور حالات کا جائزہ لیتے ہوئے پیپلز پارٹی کی قیادت بھی سنبھالے ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ احتساب عدالت میں 26 جون کو پارک لین تحقیقات اور سات جولائی کو منی لانڈرنگ کیس میں آصف زرداری پر فرد جرم عائد کیے جانے کا امکان ہے۔فرد جرم عائد ہونے کے حوالے سے پیپلز پارٹی رہنماوں کا کہنا ہے کہ آصف زرداری کے خلاف قائم مقدمات میں فرد جرم عائد ہونا ایک معمول کی بات ہے اور پیپلزپارٹی کی قیادت اور کارکن ماضی میں بھی ایسے جھوٹے مقدموں کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ جیلیں اور مقدمات سے نہ وہ پہلے ڈرے ہیں نہ آئندہ ڈریں گے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ آصف زرداری نے ملک کو درپیش سنجیدہ نوعیت کے معاملات یعنی کرونا وائرس، ٹڈی دل اور بلوچستان کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
خیال رہے کہ نیب کا سابق صدر پر الزام ہے کہ آصف زرداری نے جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے تین ارب 77 کروڑ روپے کی کرپشن کی ہے۔اس مقدمے میں گزشتہ سال جون میں سابق صدر آصف علی زرداری کو گرفتار بھی کیا تھا۔ چھ ماہ تک جیل میں رہنے کے بعد اُنہیں گزشتہ سال دسمبر میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے طبی بنیادوں پر ضمانت دی تھی۔ نیب کا یہ بھی الزام ہے کہ اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے نے حکومت کی زمین غیر قانونی طور پر پارک لین نامی کمپنی کو منتقل کی جو آصف زرداری کے نام پر ہے۔ تاہم پیپلز پارٹی نیب کے تمام تر الزمات کو مسترد کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس طرح کے جھوٹے مقدمات کا واحد مقصد صرف اور صرف آصف زرداری کو دباؤ میں لانا ہے لیکن جھوٹے کیس بنانے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ ماضی میں بھی 11 سال کی قید کاٹ چکے ہیں لیکن اپنی اصولوں پر سمجھوتا نہیں کیا۔
