منابھائی فیم سنجے دت میں پھیپھڑوں کے کینسر کی تشخیص

بالی وڈ میں منا بھائی اور’سنجو بابا’ کے نام سے پہچانے جانے والے بھارتی اداکارسنجے دت پھیپھڑوں کے کینسرمیں مبتلا ہوگئے۔
خیال رہے کہ دو روز قبل سنجے دت کو سانس لینے میں تکلیف کے باعث ممبئی کے اسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں سے وہ ایک روز بعد گھر منتقل ہوگئے تھےاور ان کا کورونا ٹیسٹ بھی منفی آیا تھا۔
بالی وڈ انڈسٹری میں منا بھائی اور سنجو بابا کے نام سے معروف 61 سالہ اداکار نے ٹوئٹر پر پوسٹ میں کہا تھا کہ وہ علاج کی وجہ سے کچھ وقت کے لیے وقفہ لے رہے ہیں۔


سنجے دت کا کہنا تھا کہ ‘میرے دوست اور گھر والے میرے ساتھ ہیں ، میری اپنے چاہنے والوں سے درخواست ہے کہ وہ پریشان مت ہوں اور غیر ضروری قیاس آرائیوں سے دور رہیں’۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ آپ لوگوں کے پیار اور نیک تمناؤں کی بدولت میں جلد واپس آجاؤں گا’۔
دوسری جانب بھارتی میڈیا کے مطابق بالی ووڈ اداکار سنجے دت کو پھیپھڑوں کا کینسر تشخیص ہوا ہے جس کا علاج وہ امریکا سے کروائیں گے اور وہ فوری طور پر امریکا روانہ ہورہے ہیں۔سنجے دت کے ایک قریبی دوست کے مطابق کینسر ابھی قابل علاج ہے تاہم اس کے لیے فوری علاج شروع کرنا ہوگا۔
5f32def4a41eb
رپورٹس کے مطابق سنجے دت میں پھیپھڑوں کے کینسر کے تیسرے مرحلے کی تشخیص ہوئی ہے۔فلم فیئر نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ‘اس خبر سے بابا بہت پریشان ہوگئے ہیں، ان کے چھوٹے بچے ہیں، خوش قسمتی سے وہ دبئی میں اپنی ماں کے ساتھ ہیں، مگر اس بری خبر سے انہیں آگاہ کرنا آسان نہیں’۔بیماری کے حوالے سے ذرائع نے بتایا ‘یہ قابل علاج ہے، انہیں فوری علاج کی ضرورت ہے اور اسی لیے وہ فوراً روانہ ہورہے ہیں’۔رپورٹ کے مطابق سنجے دت بیرون ملک علاج پر غور کررہے ہیں مگر ممبئی میں ڈاکٹروں سے بھی مشاورت کررہے ہیں، جس کے بعد وہ حتمی فیصلہ کریں گے۔دوسری جانب ہندوستان کی رپورٹ کے مطابق سنجے دت علاج کے لیے جلد امریکا روانہ ہوجائیں گے۔
سنجے دت نے حال ہی میں 61 ویں سالگرہ منائی تھی اور مستقبل قریب میں وہ سڑک 2، بھوج اور تربوز نامی فلموں میں نظر آئیں گے۔سڑک 2 ہدایتکار مہیش بھٹ کی نوے کی دہائی کی فلم سڑک کا سیکوئل ہے اور وہ 21 سال بعد کوئی فلم ڈائریکٹ کررہے ہیں۔
خیال رہے کہ اس سے قبل بولی وڈ میں اداکار عرفان خان، رشی کپور، سونالی باندرے میں بھی کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔عرفان خان اور رشی کپور بیماری سے کافی عرصے تک لڑنے کے بعد رواں سال چل بسے تھے جبکہ سونالی باندرے نے موذی مرض پر کافی حد تک قابو پالیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button