مولانا عبدالعزیز کو لال مسجد جانے سے روکنے کیلئے جامعہ حفصہ کا گھیراؤ

پولیس نے لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کو مدرسہ چھوڑ کر مسجد جانے سے روکنے کے لیے جامعہ حفصہ کا گھیراؤ کرلیا۔
اسلام آباد کی انتظامیہ اور پولیس حکام نے بتایا کہ مولانا عبدالعزیز نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ وہ لال مسجد واپس جائیں گے کیونکہ دارالحکومت انتظامیہ نے ان کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ اس کے جواب میں محکمہ انسداد دہشت گردی، انسداد دہشت گردی فورس اور انسداد فساد یونٹ سمیت 150 اہلکاروں کا پولیس کا دستہ جی-7 میں مدرسے کے اطراف تعینات کردیا گیا تاکہ ان کو وہاں سے جانے سے روکا جاسکے۔
خیال رہے کہ مولانا عبدالعزیز اور ان کا خاندان جون میں انتظامیہ کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت لال مسجد سے جامعہ حفصہ منتقل ہوگیا تھا، مذکورہ معاہدے کے تحت 2 ماہ کے لیے ان کے لال مسجد میں داخلے پر پابندی لگائی گئی تھی۔
تاہم 7 جولائی کو مولانا عبدالعزیز، ان کے اہل خانہ اور جامعہ حفصہ کے طلبہ سیکٹر ای 7 میں موجود جامعہ فریدیہ چلے گئے تھے جو موجودہ مدرسے کی انتظامیہ سے کشیدگی کا باعث ہوا تھا، بعد ازاں علماء کی جانب سے انہیں مدرسے میں لانے کے معاملے پر یقین دہانی کرائے جانے پر 2 روز بعد ان کی جامعہ حفصہ واپسی ہوئی تھی۔
عہدیداروں کا کہنا تھا کہ مولانا عبدالعزیز نے اپنے ایک قریبی ساتھی مولانا ادریس کی جامعہ فریدیہ کے باہر سے گمشدگی کے بعد ایک پیغام میں دارالحکومت انتظامیہ کے ساتھ معاہدہ توڑنے کی دھمکی دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ اور جامعہ حفصہ کے طلبہ نے مولانا ادریس کی گمشدگی کے بعد مدرسے کا دورہ کیا، جس کا نتیجہ دونوں مدارس کے طلبہ کے درمیان ہاتھا پائی کی صورت میں نکلا۔ اس پیغام کے جواب میں پولیس لال مسجد کے اطراف تعینات کردی گئی تھی تاکہ مولانا عبدالعزیز کو مسجد میں داخلے سے روکا جاسکے، تاہم بعد ازاں مولانا نے کہا کہ وہ بدھ کو مسجد جائیں گے، جس کی وجہ سے پولیس نے انہیں روکنے کے لیے جامعہ حفصہ کے اطراف بھی دستے تعینات کردیے۔
انہوں نے کہا کہ وہ کچھ گارڈ اور دیگر لوگوں کے ساتھ جامعہ حفصہ سے نکلے تھے لیکن کچھ دیر بعد وہاں موجود پولیس حکام کے ساتھ بات چیت کے بعد وہ دوبارہ اندر چلے گئے۔ مولانا عبدالعزیز کے بھتیجے ہارون رشید نے بتایا کہ مولانا عبدالعزیز نے اعلان اس لیے کیا تھا کیوں کہ انتظامیہ نے لال مسجد کا گھیراؤ کرکے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کے حکام اور علما کی جانب سے معاملے کو حل کرنے کے لیے کچھ وقت مانگنے کے بعد مولانا نے اپنے پلان کو ملتوی کردیا تھا۔
