تحفظ بنیاد اسلام بل 2020 متفقہ طور پر منظور

پنجاب اسمبلی نے تحفظ بنیاد اسلام بل کی منظورکرلیا، چوہدری پرویزالہٰی نے کہا ہے کہ ’تحفظ بنیاد اسلام‘ تاریخی بل ہے جو دین کی حفاظت اور سربلندی کےلیے سنگ میل ثابت ہوگا، وفاق اور صوبے اس معاملے میں ہماری تقلید کریں۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کا اجلاس اسپیکر چوہدری پرویز الہٰی کی صدارت میں ہوا۔ انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کی بنیاد صوبائی وزیر معدنیات نے رکھی۔ صوبائی وزیر معدنیات عمار یاسر نے تدریسی کتابوں میں تبدیلی کی نشاندہی پر قراردا جمع کروائی۔
انہوں نےکہا کہ اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف اور دیگر نے اس بل کو بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس قانون سازی کے بعد ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخی کو روکنے کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے اور اب اس بل پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی نے کہا ہے کہ ’تحفظ بنیاد اسلام‘ تاریخی بل ہے، میں اس کے پاس ہونے پر اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ادا کرتا ہوں، یہ بل دین اسلام کی حفاظت اور سربلندی کےلیے ان شاء اللہ سنگ میل ثابت ہوگا، وفاق اور صوبے اس معاملے میں ہماری تقلید کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس بل کے ذریعے اللہ تعالیٰ سمیت تمام مقدس ہستیوں کی عزت و ناموس، آخری نبی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ، تمام انبیائے کرام، تمام آسمانی کتابیں، تمام فرشتے، تمام خلفائے راشدین، تمام امہات المومنین، تمام اہل بیت اطہار، تمام اصحاب رسول اور اسلام کی بنیادوں کی حفاظت ہو سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا اس معاملے میں ذاتی دلچسپی لینے پر شکریہ ادا کرتا ہوں، اس سلسلے میں جلد ان سے بھی مشاورت کروں گا تاکہ اس کو ان شاء اللہ پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ میں راجہ بشارت صاحب کی کوششوں کو سراہتا ہوں جن کی سربراہی میں اس کمیٹی نے دن رات اس معاملے پر کام کرکے کتابوں کا کھوج لگایا، اس مو قع پر وزیر معدنیات حافظ عمار یاسر نے کہا کہ آج بہت بڑا دن ہے، ’تحفظ بنیاد اسلام‘ بل کی منظوری پر اسپیکر چوہدری پرویز الہٰی اور تمام ارکان اسمبلی کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ان لوگوں کا نام بلند رکھتا ہے جو دین اسلام کےلیے اپنی جان اور مال پیش کرتے ہیں۔
حافظ عمار یاسر نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مبارک دین کی سر بلندی کےلیے اسپیکر چوہدری پرویز الہٰی کے خاندان کو چنا ہے اور یہ بہت بڑا اعزاز ہے۔ صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ ایکٹ کی خلاف ورزی پر 5 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کیا جائے گا۔ محکمہ اطلاعات و ثقافت کتب رجسٹریشن اور ریگولیشن کی انجام دہی یقنی بنائے گا۔
