22 فوجیوں کی شہادت: ہیلی کاپٹر حادثے کی تحقیقات جاری

آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں بدھ کے روز پیش آنے والے پاکستان آرمی کے المناک ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہونے والے فوجی جوانوں کی تعداد 22 تھی جن میں دو میجر بھی شامل تھے۔ عسکری ذرائع کے مطابق حادثے میں 22 فوجی اہلکار جان کی بازی ہار گئے۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور ابھی تک حتمی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہیلی کاپٹر تکنیکی خرابی کا شکار ہوا یا اس میں کسی قسم کی تخریب کاری کا عنصر بھی شامل تھا۔

ذرائع کے مطابق آرمی ایوی ایشن کا روسی ساختہ ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر مظفرآباد کے نیلم سٹیڈیم سے اڑان بھرنے کے چند لمحوں بعد ہی حادثے کا شکار ہو گیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر نے فضا میں معمولی بلندی حاصل کی تھی کہ اچانک اس میں آگ لگ گئی اور اس کا توازن بگڑ گیا، جس کے بعد وہ قریبی درختوں سے ٹکرایا اور پھر زمین پر گر کر تباہ ہو گیا۔ حادثے کے فوراً بعد شدید آگ بھڑک اٹھی اور ہیلی کاپٹر میں سوار تمام افراد موقع پر ہی شہید ہو گئے۔

پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ نے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ ہیلی کاپٹر بظاہر تکنیکی خرابی کے باعث تباہ ہوا، تاہم بعد ازاں عسکری ذرائع نے واضح کیا کہ تحقیقات کے مکمل ہونے تک کسی ایک وجہ کو حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسی مقصد کے لیے ایک اعلیٰ سطحی بورڈ آف انکوائری تشکیل دے دیا گیا ہے جو حادثے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہا ہے۔ فوجی ذرائع کے مطابق حادثے میں ایک کرنل، دو میجرز اور دیگر افسران سمیت مجموعی طور پر 22 اہلکار شہید ہوئے۔ حادثے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ ہیلی کاپٹر مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور اس میں سوار کسی بھی شخص کے بچنے کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔

شہید ہونے والے اہلکاروں کی اجتماعی نماز جنازہ میں آزاد کشمیر کے وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور، اعلیٰ فوجی حکام، سیاسی رہنماؤں اور بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔ شہداء کے تابوت قومی پرچم میں لپٹے ہوئے تھے جبکہ ان پر شہداء کے نام درج تھے۔ حادثے میں شہید ہونے والے دو مسیحی فوجی اہلکاروں کی آخری مذہبی رسومات راولپنڈی کے کرائسٹ چرچ میں ادا کی گئیں۔ اس موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، وفاقی وزراء اور اعلیٰ عسکری شخصیات بھی موجود تھیں جنہوں نے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔
یہ حادثہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب آزاد کشمیر میں سیاسی کشیدگی اور احتجاجی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے لانگ مارچ کی کال دے رکھی ہے جبکہ ہزاروں مظاہرین مختلف مقامات پر موجود ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق ان حالات میں فورسز کی نقل و حرکت اور تعیناتی کے لیے ہیلی کاپٹروں کا استعمال بڑھا دیا گیا تھا۔ نیلم سٹیڈیم کے قریب رہنے والے متعدد عینی شاہدین نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر نے اڑان بھرنے کے فوراً بعد غیر معمولی انداز میں نیچے آنا شروع کر دیا تھا۔ اس دوران ایسا محسوس ہوا جیسے ہیلی کاپٹر میں آگ کے شعلے بھڑکے ہوئے ہیں۔ مقامی رہائشی شیراز احمد کے مطابق پہلے ہیلی کاپٹر درختوں سے ٹکرایا اور پھر زمین پر گرنے کے بعد اس میں آگ بھڑک اٹھی۔ ان کے مطابق حادثے کے مقام سے بلند ہونے والے شعلے اور دھواں کئی کلومیٹر دور سے دیکھا جا سکتا تھا۔

ایک اور مقامی شہری نے بتایا کہ شہر بھر میں ایک زوردار دھماکے کی آواز سنی گئی جس کے بعد لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔ چند ہی منٹوں میں ایمبولینسیں، فائر بریگیڈ اور دیگر امدادی اداروں کی گاڑیاں جائے حادثہ کی جانب روانہ ہوتی دکھائی دیں جبکہ پورے علاقے کو سکیورٹی فورسز نے گھیرے میں لے لیا۔ ریسکیو اہلکاروں کے مطابق ہیلی کاپٹر ایک فوجی ورکشاپ کے قریب خالی جگہ پر گرا جس کی وجہ سے زمین پر موجود آبادی کسی بڑے جانی نقصان سے محفوظ رہی۔ امدادی ٹیمیں چند منٹوں میں موقع پر پہنچ گئیں اور آگ پر قابو پا لیا گیا، تاہم ہیلی کاپٹر میں موجود تمام افراد جاں بحق ہو چکے تھے۔ حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد ویڈیوز گردش کرتی رہیں جن میں تباہ شدہ ہیلی کاپٹر سے آگ اور دھواں اٹھتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔ بعض ویڈیوز میں دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں، تاہم ان ویڈیوز کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ مقامی ذرائع کے مطابق حادثے کے فوراً بعد پولیس نے عوام کو جائے حادثہ کی ویڈیوز بنانے سے روکنے کے لیے اقدامات بھی کیے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر دنیا کے ان قابلِ اعتماد فوجی ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹروں میں شمار ہوتا ہے جو دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں فوجیوں اور سامان کی نقل و حمل کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ پاکستان سمیت متعدد ممالک کی افواج برسوں سے اس ماڈل کو استعمال کر رہی ہیں۔ تاہم ماضی میں بھی ایم آئی-17 ہیلی کاپٹروں کو حادثات پیش آتے رہے ہیں۔ گزشتہ برس پاکستان میں ایک اور ایم آئی-17 حادثے میں دو میجرز سمیت پانچ اہلکار ہلاک ہو گئے تھے جبکہ 2015 میں گلگت بلتستان کے علاقے نلتر میں پیش آنے والے حادثے میں غیر ملکی سفیروں سمیت سات افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ اسی طرز کے ایک حادثے میں بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت بھی اپنی اہلیہ اور دیگر افراد کے ہمراہ ہلاک ہوئے تھے جس کی تحقیقات میں بعد ازاں انسانی غلطی کو ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔

مظفرآباد کے حالیہ حادثے نے نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ پورے ملک میں سوگ کی فضا پیدا کر دی ہے۔ حکومت، عسکری قیادت اور مختلف سیاسی جماعتوں نے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب پوری قوم اب بورڈ آف انکوائری کی رپورٹ کی منتظر ہے جو یہ طے کرے گی کہ آیا یہ سانحہ محض فنی خرابی کا نتیجہ تھا یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ بھی کارفرما تھی۔

Back to top button