پاکستان میں گاڑیوں کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ، ٹریکٹرانڈسٹری تنزلی کا شکار

مالی سال 2025-26 کے ابتدائی نو ماہ (جولائی تا مارچ) کے دوران پاکستان کی آٹوموبائل انڈسٹری کی مجموعی پیداوار میں قابلِ ذکر اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ وفاقی حکومت کے اقتصادی جائزے کے مطابق ٹریکٹر سیکٹر کے علاوہ آٹو انڈسٹری کے تقریباً تمام شعبوں میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 51 سے 88 فیصد تک نمو دیکھی گئی۔

رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں ملک بھر میں موٹر سائیکلوں، رکشوں اور مختلف اقسام کی گاڑیوں کی مجموعی پیداوار بڑھ کر 16 لاکھ 8 ہزار 662 یونٹس تک پہنچ گئی، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت کے دوران یہ تعداد 12 لاکھ 19 ہزار 265 یونٹس تھی۔اقتصادی جائزے میں یہ رجحان بھی سامنے آیا کہ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے باعث الیکٹرک گاڑیوں کی طلب اور دستیابی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ رواں مالی سال میں الیکٹرک گاڑیوں کی پیداوار 150 سے بڑھ کر 240 یونٹس جبکہ فروخت 132 سے بڑھ کر 263 یونٹس تک پہنچ گئی۔دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کی پیداوار سب سے زیادہ رہی، جو 14 لاکھ 33 ہزار 74 یونٹس ریکارڈ کی گئی۔ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ تعداد 10 لاکھ 90 ہزار 806 تھی، یوں اس شعبے میں 31.4 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

کاروں کی پیداوار میں بھی 51.3 فیصد اضافہ ہوا اور یہ تعداد 76 ہزار 339 سے بڑھ کر ایک لاکھ 15 ہزار 495 تک جا پہنچی۔ اسی طرح جیپ، ایس یو وی اور پک اپ گاڑیوں کی پیداوار میں 24 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔کمرشل گاڑیوں میں ٹرکوں کی پیداوار میں سب سے زیادہ 87.8 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جبکہ بسوں کی تیاری میں بھی بہتری سامنے آئی۔

دوسری جانب اس عرصے میں ٹریکٹر انڈسٹری کو مشکلات کا سامنا رہا۔ رواں مالی سال کے دوران ٹریکٹرز کی پیداوار کم ہو کر 21 ہزار 623 یونٹس رہ گئی، جو گزشتہ سال 23 ہزار 581 تھی۔ اس شعبے میں پیداوار میں 8 فیصد اور فروخت میں 13 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔اقتصادی سروے کے مطابق ٹریکٹر سیکٹر میں سست روی کی اہم وجوہات میں سبسڈی سے متعلق مسائل اور فنانسنگ کی محدود سہولیات شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ گاڑیوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے، تاہم ڈالر کی بلند شرح، بھاری ٹیکسوں اور درآمدی پرزہ جات کی زیادہ لاگت کے باعث نئی گاڑیوں کی قیمتیں عام صارف کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔

Back to top button