امریکا کو مذاکرات کےلیے کوئی درخواست نہیں کی : ایران

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ جنگ ختم کرنے کےلیے مذاکرات کی درخواست نہیں کی،جنگ اور امن کا فیصلہ ایران خود کرے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں صحافیوں سے گفتگو کرتےہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز میں یہ سمجھا تھاکہ ایران چند ہی دنوں میں کمزور ہوکر ہتھیار ڈال دے گا تاہم صورت حال اس کی توقعات کے برعکس رہی۔
اسماعیل بقائی کے مطابق امریکا کا ابتدائی اندازہ تھا کہ ایران تین دن کے اندر ٹوٹ جائے گا اور ہتھیار ڈال دے گا لیکن کئی ماہ گزرنے کے باوجود ایسا نہیں ہوا۔
ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا تھاکہ ایران امریکا کو جنگ کے اختتام کا تعین نہیں کرنے دے گا اور ایران نے امریکا سے مذاکرات کی بحالی کی کوئی درخواست نہیں کی کیوں کہ ایسا کرنا ایرانیوں کی فطرت میں نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان بات چیت مثبت رہی ہے جب کہ آبنائے ہرمز میں صورت حال تبدیل نہیں ہوئی اور وہ بدستور بند ہے۔
اسماعیل بقائی نےکہا کہ کچھ خلیجی ممالک ایران کےخلاف امریکا کی جنگ میں ملوث رہےہیں۔
انہوں نے امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیوں پر بھی تنقید کرتےہوئے کہاکہ واشنگٹن اب بھی اپنے اقدامات کو درست ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہے حالانکہ ایران انہیں جارحیت قراردیتا ہے۔
ایرانی ترجمان نے دعویٰ کیاکہ تہران نے یہ مشاہدہ کیا ہےکہ جب بھی عالمی توانائی کی منڈیوں میں دباؤ بڑھتا ہے اور تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو امریکا دوبارہ مذاکرات کی طرف رجوع کرتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ایران اپنی قومی پالیسیوں اور مفادات کےمطابق فیصلے کرےگا اور بیرونی دباؤ کے تحت اپنے مؤقف میں تبدیلی نہیں لائے گا۔
ایران نے امریکا سے مذاکرات کی بحالی پر آمادگی ظاہر کر دی
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مذاکرات سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں،تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران سفارتی عمل کا مخالف نہیں،لیکن مذاکرات باہمی احترام اور مساوی بنیادوں پر ہونےچاہییں۔
